.

پاکستانی طالبان کا کیلاش، اسماعیلی آبادی پر حملوں کا اعلان

"اسلام قبول نہ کرنے پر قبیلے کے افراد کو نشانہ بنایا جائے گا"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستانی طالبان نے اعلان کیا ہے کہ وہ ملک کے شمال میں واقع وادی چترال میں کیلاش باشندوں کی قدیم قبائلی آبادی اور اعتدال پسند اسماعیلی مسلمانوں کے خلاف ’مسلح جدوجہد‘ شروع کر دیں گے۔ ساتھ ہی ان عسکریت پسندوں نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں ملک کی سنی مسلم آبادی سے مطالبہ کیا ہے کہ اسے اس جدوجہد کی حمایت کرنی چاہیے۔

تفصیلات کے مطابق 50 منٹ دورانیے کی یہ ویڈیو پاکستانی طالبان کے میڈیا ونگ کی طرف سے اس کی ویب سائٹ پر دو فروری کو جاری کی گئی تھی۔ وادی چترال میں ماضی میں اعتدال پسند اسماعیلی مسلمانوں اور کیلاش نسل کی قدیم قبائلی آبادی کے افراد کی اکثریت تھی۔ گزشتہ کچھ عشروں کے دوران مقامی آبادی کی نقل مکانی کی وجہ اب قدرے سخت عقیدے کے سنی مسلمان اکثریت مبں ہو گئے ہیں۔

ویڈیو میں بین الاقوامی این جی اوز پر چترال میں 'اسرائیل' جیسی ریاست قائم کرنے کا الزام بھی لگایا گیا ہے جن کا کام کیلاش کی ثقافت کو بچانا اور لوگوں کو اسلام سے دور لے جانا ہے۔

ویڈیو میں خیراتی ادارے آغا خان فاؤنڈیشن کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور کہا گیا کہ فاؤنڈیشن 16 اسکولوں اور کالجوں اور ہاسٹلز میں مفت تعلیم فراہم کررہا ہے جہاں لوگوں کو اسلام سے دور لے جایا جاتا ہے۔ ویڈیو میں کیلاش قبیلے کو شراب بنانے سے بھی خبردار کیا گیا ہے جو یہ لوگ انگور اور سیب کی مدد سے بناتے ہیں۔

'مغربی این جی اوز کیلاشی شراب کو فروغ دے رہے ہیں، ہم اس شراب کو فروخت کرنے والے ہوٹلوں اور لوگوں کو خبردار کرتے ہیں کہ اسے فروخت کرنے سے باز رہیں ورنہ خدا کی مدد سے انہیں دوزخ پہنچادیا جائے گا۔'

یاد رہے کہ طالبان کا حالیہ ویڈیو پیغام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے کہ جب عسکریت پسند گروہ حکومت پاکستان کی نامزد کردہ مذاکراتی ٹیم سے اپنے نامزد کردہ سیاسی اور دینی رہنماوں کے توسط سے مذاکرات جاری ہیں۔