.

ریاض، پاکستان کے درمیان 685 ملین ریال مالیت کے معاہدے

سعودی ولی عہد اسلام آباد کا تین روزہ دورہ مکمل کر کے واپس روانہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ سلمان بن عبدالعزیز السعود نے پیر کو اپنے دورے کے تیسرے اور آخر ی روز پاکستان کے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کے درمیان ون آن ون ملاقات ہوئی جس میں دو طرفہ دلچسپی اور خطے میں سلامتی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے دوران شہزادہ سلمان بن عبد العزیز نے خطے میں امن کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا جبکہ نواز شریف کا کہنا تھا کہ افغانستان میں امن کے لیے پاکستان ہر ممکن تعاون کر رہا ہے۔

دونوں رہنماؤں کی موجودگی میں دوست ممالک کے درمیان 2 معاہدوں پر دستخط بھی کئے گئے جن کے تحت سعودی عرب چترال میں ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کے لیے پاکستان کو 5 کروڑ 80 لاکھ ڈالر جبکہ کھاد کی خریداری کے لئے 12 کروڑ 50 لاکھ ڈالر فراہم کرے گا۔

دفتر خارجہ سے جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے کے مطابق صدر مملکت ممنون حسین اور وزیر اعظم نواز شریف کی دعوت پر سعودی ولی عہد اور وزیر دفاع شہزادہ سلمان بن عبد العزیز کی آمد اور پاکستان پہنچنے پر ان کا نواز شریف کی جانب سے پرتپاک استقبال دونوں ممالک کے درمیان گہری دوستی کا مظہر ہے، اپنے دورے کے دوران سعودی ولی عہد نے صدر پاکستان، وزیر اعظم اور دیگر اعلیٰ حکام سے دوستانہ ماحول میں الگ الگ ملاقاتیں کیں جن میں مسلم ممالک اور بین الاقوامی امن کے لیے مختلف شعبوں میں تعاون وسیع پر اتفاق کیا گیا۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ شہزادہ سلمان بن عبد العزیز کے دورے کے دوران دونوں ممالک کے توانائی، تجارت، دفاع، سرمایہ کاری اور زراعت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا، دونوں ممالک کے درمیان سیاسی اور اقتصادی تعلقات مزید مستحکم بنائے جائیں گے، دونوں ممالک نے دہشت گردی کے خلاف متحد ہوکر لڑنے، منی لانڈرنگ، اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا۔

اعلامیے کے مطابق مسئلہ کشمیر اور فلسطین کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کیا جائے، شام سے تمام غیر ملکی افواج فوری نکل جائیں، شامی شہریوں پر بمباری روکی جائے اور حکومتی معاملات کے لئے کمیٹی بنائی جائے۔ اعلامیے میں پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کے فروغ کو خوش آئیند قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان بہتر تعلقات خطے کی سلامتی اور ترقی کے لئے انتہائی ضروری ہے جبکہ افغانستان میں امن کے قیام کے لئے دونوں ممالک کی جانب سے تعاون جاری رکھا جائے گا۔