.

پاکستان:جنگجوؤں کے خلاف فضائی حملے روکنے کا اعلان

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے اعلان جنگ بندی کے ردعمل میں حکومت کا اقدام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

حکومتِ پاکستان نے ملک کے شمالی مغربی پہاڑی علاقوں میں طالبان جنگجوؤں کے خلاف فضائی حملے روکنے کا اعلان کیا ہے اوریہ اقدام کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی جانب سے ایک ماہ کے لیے جنگ بندی کے اعلان کے ردعمل میں کیا گیا ہے۔

وزیرداخلہ چودھری نثار علی خان نے اتوار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ''گذشتہ روزطالبان کی جانب سے مثبت اعلان کے بعد حکومت نے گذشتہ چند روز سے جاری فضائی حملے معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے''۔

البتہ انھوں نے بیان میں واضح کیا ہے کہ (طالبان کی جانب سے) تشدد کی کسی کارروائی کی صورت میں حکومت اور مسلح افواج کو مناسب ردعمل کا حق حاصل ہے۔انھوں نے طالبان کے تشدد کی سرگرمیوں کو روکنے کے اعلان کو ایک مثبت پیش رفت قراردیا ہے۔

وزیرداخلہ نے کہا کہ وزیراعظم میاں نواز شریف کی حکومت نے گذشتہ سال جون میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے جنگجوؤں کے خلاف کوئی غیر منصفانہ اقدام نہیں کیا اور ان کی جانب سے تشدد کے ردعمل ہی میں کوئی کارروائی کی ہے اور کوئی نیا فوجی آپریشن نہیں کیا۔

ٹی ٹی پی کے ترجمان نے ہفتے کے روز ایک ماہ کے لیے جنگ بندی کا اعلان کیا تھا اور اب حکومت کی جانب سے جنگجوؤں کے خلاف فضائی حملے روکنے کے فیصلے کے بعد اس بات کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ دونوں کی مذاکراتی ٹیموں کے درمیان بہت جلد مذاکرات بحال ہوجائیں گے۔

واضح رہے کہ گذشتہ ماہ طالبان جنگجوؤں کے ہاتھوں اغوا شدہ فوجیوں کے بہیمانہ قتل کے بعد حکومت نے مذاکراتی عمل ختم کردیا تھا اور اس کے بعد مسلح افواج نے شمال مغربی قبائلی علاقوں میں طالبان جنگجوؤں کے ٹھکانوں پر متعدد فضائی حملے کیے تھے جن کے نتیجے میں کم سے کم ایک سو جنگجو مارے گئے ہیں۔

حکومت کی مذاکراتی ٹیم کے رکن اور معروف تجزیہ کار رحیم اللہ یوسف زئی کا کہنا ہے کہ ''اب امن مذاکرات کی بحالی کا امکان بڑھ گیا ہے۔جنگ بندی حکومت اور مذاکراتی کمیٹی کا مطالبہ کیا تھا لیکن اب یہ جنگ بندی موثر ہونی چاہیے۔اگر حملے جاری رہتے ہیں تو پھر بات چیت کے لیے وہ سازگارماحول پیدا نہیں ہوسکے گا جس کی ہم تلاش میں ہیں''۔

ایک اور سکیورٹی تجزیہ کار ریٹائرڈ جنرل طلعت مسعود کے نزدیک طالبان نے فوج کے فضائی حملوں کے ہاتھوں مجبور ہو کر سیزفائر کا اعلان کیا ہے اور وہ پھر مذکرات کی میز پر آنے پر مجبور ہوگئے ہیں لیکن حکومت کو اب زیادہ احتیاط کا مظاہرہ کرنا ہوگا اور اس کو اس سے فائدہ اٹھانا ہوگا۔

انھوں نے کہا کہ ماضی میں اس طرح جنگ بندی کے عرصہ میں فائدہ اٹھا کر طالبان جنگجو دوبارہ منظم ہوتے رہے ہیں۔اگر وہ اب دوبارہ منظم ہوتے ہیں یا راہ فرار اختیار کرتے ہیں تو حکومت کو ان کی سراغرسانی کا عمل کا بھی مربوط اور مضبوط بنانا ہوگا۔انھوں نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ امن بات چیت کے مخالف جنگجو دھڑے جنگ بندی کے دوران حملے کرسکتے ہیں اور مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کرسکتے ہیں لہٰذا ان پر بھی نظررکھنا ہوگی۔