.

اسلام آباد: وزیر اعظم کے زیر صدارت اہم سکیورٹی اجلاس

وزیر داخلہ، وزیر خزانہ، آرمی اور آئی ایس آئی کے سربراہان شریک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان میں طالبان کے ساتھ امن کی طرف پیش رفت کے امکانات میں جنگ بندی کے الگ الگ اعلانات کے بعد وفاقی دارالحکومت میں ضلع کچہری میں پیر کی صبح ہونے والی دہشت گردی کی کارروائی نے ایک مرتبہ پھر وزیر اعظم اور ان کی سکیورٹی ٹیم کو سر جوڑ کر بیٹھنے پر مجبور کر دیا ہے۔

اس اہم اور سنگین صورت حال میں وزیر اعظم کی زیرصدارت ہونے والے بظاہر ہنگامی اجلاس میں وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان، کے علاوہ وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، آرمی چیف جنرل راحیل شریف، آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل ظہیرالاسلام ، چیف آف جنرل سٹاف اور دیگر ذمہ دار شامل تھے۔ اس اجلاس میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے بطور خاص شرکت کی ہے۔

اجلاس میں تحریک طالبان کی طرف سے ایک ماہ کیلیے اعلان جنگ بندی اور اس کے جواب میں وزیر داخلہ کے خیر مقدم کے ساتھ ساتھ حکومت کی طرف سے عسکریت پسندوں پر فضائی حملے نہ کرنے کے فیصلے کے باوجود اسلام کچہری میں صبح سویرے ہونے والی دہشت گردی کے واقعے کا جائزہ لیا گیا۔

واضح رہے تحریک طالبان نے اسلام آباد کچہری میں پیر کی صبح ہونے والی دہشت گردی سے لاتعلقی ظاہر کرتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔ اعلی ترین سطح پر ہونے والے اجلاس میں پاک افغان سرحد کی صورت حال کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔ نیز حکومتی اور طالبان کی کمیٹیوں کے درمیان امکانی اجلاس کے معاملے پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔