رہا کیے گئے 19 لوگ ہمارے نہیں: تحریک طالبان

حکومتی اور طالبان کمیٹیوں کے درمیان ملاقات آج ہو گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

تحریک طالبان پاکستان نے حکومت پاکستان کو خبردار کیا ہے کہ دس اپریل تک مطالبات تسلیم کرتے ہوئے غیر جنگجو اسیران کو رہا کیا جائے اور وزیرستان میں امن زون قائم کیا جائے۔ طالبان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد کے مطابق وزارت داخلہ نے ان انیس افراد کو رہا کیا ہے، جن کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا تھا نہ ان کا طالبان کے ساتھ کوئی تعلق ہے، اس لیے حکومت کو سنجیدگی سے تحریک طالبان کے مطالبات پر توجہ دینا ہو گی۔

واضح رہے حکومت پاکستان کے ساتھ مذاکراتی عمل میں شامل تحریک طالبان نے دو روز قبل ہی رضا کارانہ جنگ بندی میں دس اپریل تک توسیع کی ہے۔ حکومت کی کوشش تھی کہ جنگ بندی میں توسیع غیر معینہ مدت کیلیے کی جائے تاکہ اعتماد سازی ممکن ہو سکے۔ تاہم حکومت نے ابھی تک اپنے اعلان جنگ بندی میں کسی قسم کی توسیع کا اعلاان نہیں کیا ہے۔

تحریک طالبان پہلے ہی دس اپریل کے بعد اپنی شوری کے اجلاس میں مذاکراتی عمل کا جائزہ لینے اور آئندہ کی حکمت عملی کا کہہ چکی ہے۔ ادھر آج حکومت اور طالبان کی مذاکراتی کمیٹیوں کے درمیان دوبارہ ملاقات ہو رہی ہے۔ جس میں طالبان کے دونوں مطالبات کے علاوہ 19 اسیران کی رہائی اور جنگ بندی میں مزید توسیع کے ایشوز زیر بحث آئیں گے۔ طالبان کی مذاکراتی کمیٹی کے رکن مولانا یوسف شاہ نے آج کے اجلاس کی تصدیق ہے۔

امن عمل کے سلسلے میں مذاکراتی کوششوں کو آگے بڑھانے اور حکوتی ریڈ لائنز کے حوالے سے وزیر اعظم میاں نواز شریف کے ساتھ ایک اعلی سطح کے اجلاس میں جمعہ کے روز عسکری قیادت نے تفصیل سے اپنا نقطہ نظر پیش کیا ہے۔ اس اجلاس میں وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان، آرمی چیف جنرل راحیل شریف، آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹینینٹ جنرل ظہیر الاسلام نے شرکت کی ہے۔ اس موقع پر امن مذاکرات کے حوالے عالمی برادری کے ریسپانس کا بھی جائزہ لیا گیا۔

اسی اجلاس میں حکومتی مذاکراتی کمیٹی کیلیے مینڈیٹ اور ایجنڈے کے نکات پر بات کی گئی ہے۔ آج حکومتی کمیٹی کے ارکان کی طالبان کمیٹی سے ملاقات اس اعلی سطح کے اجلاس کے تناظر میں ہو گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں