.

شمالی وزیرستان: امریکی ڈرون حملوں میں 16 ہلاکتیں

ایک گاڑی اور مکان پر حملے میں چار ازبک اور دو پنجابی طالبان کے مرنے کی اطلاع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے بغیر پائیلٹ جاسوس طیارے نے قریباً چھے ماہ کے وقفے کے بعد پاکستان کے وفاق کے زیر انتظام شمال مغربی قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں دو میزائل حملے کیے ہیں جن کے نتیجے میں سولہ مشتبہ جنگجو مارے گئے ہیں۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق امریکی ڈرون نے شمالی وزیرستان کے صدرمقام میران شاہ سے دس کلومیٹر مغرب میں واقع گاؤں درگاہ منڈی میں بدھ کی رات پہلا حملہ کیا اور ایک گاڑی اور ایک مکان پر چھے میزائل داغے ہیں۔اس حملے میں چار ازبک اور دو پنجابی طالبان مارے گئے ہیں۔

ان سکیورٹی ذرائع نے اپنے مقامی مخبروں کے حوالے سے بتایا ہے کہ طالبان جنگجوؤں نے پک اپ ٹرک مکان کی بیرونی دیوار کے ساتھ کھڑا کیا تھا۔میزائل حملے کے نتیجے میں دونوں مکمل طور پر تباہ ہوگئے ہیں اور ان کو آگ لگ گئی ہے ۔ایک اور سکیورٹی ذریعے نے اس ڈرون حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

اس حملے کے چند گھنٹے کے بعد جمعرات کو علی الصباح امریکی ڈرون نے شمالی وزیرستان کے ایک اورعلاقے ڈنڈے درپا خیل میں ایک پک اپ ٹرک اور چار مختلف ٹھکانوں پر آٹھ میزائل داغے ہیں۔ان حملوں میں دس مشتبہ جنگجو مارے گئے ہیں اور چار زخمی ہوگئے ہیں۔انٹیلی جنس حکام اور مقامی قبائلیوں کے مطابق انھوں نے میران شاہ کے نزدیک واقع علاقے میں پانچ سے دس ڈرون پروازیں کرتے ہوئے دیکھے ہیں۔

شمالی وزیرستان میں اس سال میں امریکا کے بغیر پائیلٹ جاسوس طیارے کا یہ پہلا ڈرون حملہ ہے اور یہ حملہ ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر آٹھ سے دس جنگجوؤں کے جدید ہتھیاروں سے حملے کے دوروز بعد کیا گیا ہے۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور اسلامی تحریک ازبکستان نے کراچی ائیرپورٹ پر حملے کی ذمے داری قبول کی تھی اور پاکستانی سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں مرنے والے دہشت گردوں میں بعض شکل وشباہت سے ازبک معلوم دیتے تھے۔

امریکا نے کراچی کے ہوائی اڈے پر جنگجوؤں کے حملے کی مذمت کی تھی اور پاکستان کو اس کی تحقیقات میں مدد کی پیش کش کی ہے۔تاہم پاکستان کی جانب سے اس پیش کش کو قبول کرنے یا نہ کرنے کے حوالے سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

امریکی سی آئی اے نے اس سے پہلے 25 دسمبر 2013ء کو آخری ڈرون حملہ کیا تھا جس میں تین جنگجو مارے گئے تھے۔اس کے بعد میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستانی حکومت کی درخواست پر امریکا نے شمال مغربی پہاڑی علاقوں میں ڈرون حملے روک دیے تھے۔

گذشتہ مہینوں کے دوران پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے شمالی وزیرستان اور خیبر ایجنسی میں مشتبہ طالبان کے ٹھکانوں پر متعدد مرتبہ فضائی بمباری کی ہے اور وہ شمالی وزیرستان میں جنگجوؤں کے خلاف ایک بڑی کارروائی کی تیاری کررہی ہیں جس کے پیش نظر وہاں سے ساٹھ ہزار سے زیادہ شہری نقل مکانی کرکے محفوظ مقامات کی جانب چلے گئے ہیں۔