پاک آرمی کا شمالی وزیرستان میں جنگجوؤں کے خلاف بڑا آپریشن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

پاکستان کی مسلح افواج نے حکومت کی ہدایت پر وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں مقامی اور غیر ملکی جنگجوؤں کے خلاف ایک بڑے آپریشن کا آغاز کر دیا ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے اتوار کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ''اس آپریشن کا نام ''ضربِ عضب'' رکھا گیا ہے۔اس بیان کے مطابق ''دہشت گردوں نے شمالی وزیرستان کو ایک بیس کے طور پر استعمال کرتے ہوئے ریاستِ پاکستان کے خلاف جنگ چھیڑ رکھی ہے،انھوں نے ہماری قومی زندگی کو ہر طرح سے تہ وبالا کرنے کی کوشش کی ،وہ ہماری اقتصادی ترقی کی راہ میں روڑے اٹکا رہے ہیں اورانھوں نے بے پایاں جانی اور مالی نقصان کیا ہے''۔

آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے بیان میں کہا ہے کہ ''انھوں نے (دہشت گردوں) نے شمالی وزیرستان ایجنسی کے اندر معمولات زندگی کو مفلوج کر رکے رکھ دیا تھا اور مقامی محب وطن اور امن پسند آبادی کو دہشت زدہ کررکھا تھا۔ہماری بہادر مسلح افواج کو ان ہر رنگ ونسل سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں اور ان کے ٹھکانوں کے خاتمے کی ذمے داری سونپی گئی ہے''۔

انھوں نے کہا کہ ''پوری قوم کی حمایت اور قانون نافذ کرنے والے دوسرے اداروں کے ساتھ روابط سے ملک کی سرزمین ان کے لیے تنگ کردی جائے گی اور ہمیشہ کی طرح مسلح افواج مادر وطن کے دفاع کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گی''۔

پاک آرمی نے شمالی وزیرستان میں جنگجوؤں کے خلاف یہ بڑی کارروائی ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حملے کے ایک ہفتے کے بعد شروع کی ہے۔اسلامی تحریک ازبکستان اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے اس حملے کی ذمے داری قبول کی تھی۔اس میں قریباً تیس افراد جاں بحق ہوئے تھے اور آٹھ حملہ آور مارے گئے تھے۔

اس کارروائی سے قبل آرمی کے جنگی طیاروں نے رات شمالی وزیرستان کی تحصیل دتہ خیل میں جنگجوؤں کے ٹھکانوں پر بمباری کی تھی جس کے نتیجے میں کم سے کم پچاس غیرملکی جنگو مارے گئے تھے۔ان میں زیادہ تر ازبک بتائے جاتے ہیں۔مقامی حکام کے مطابق بمباری میں مرنے والوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں