.

شمالی وزیرستان میں پاک فوج کا زمینی آپریشن شروع

15 دہشت گرد ہلاک، گھر گھر تلاشی کا سلسلہ جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں شہری انخلاء کے بعد میرانشاہ میں فوج نے زمینی کارروائی شروع کر دی ہے۔ فوجی جوانوں نے گھر گھر تلاشی کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ [آئی ایس پی آر ] کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق زمینی کارروائی میں اب تک 15 دہشت گرد مارے گئے جبکہ اب تک انیس دہشتگردوں نے خود کو سیکیورٹی فورسز کے حوالے کیا ہے۔ آپریشن 'ضرب عضب' میں 17 جوانوں نے جام شہادت نوش کیا۔

بیان کے مطابق گذشتہ پندرہ روز میں دہشت گردوں کے 61 ٹھکانے تباہ ہو چکے ہیں۔ پندرہ جون سے شروع ہونے آپریشن میں ابتک مارے جانے والے دہشت گردوں کی تعداد تین سو چھہتر تک پہنچ چکی ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق مختلف شہروں میں قائم پاک فوج کے پچپن ریلیف کیمپوں سے دو سو چھہتر ٹن راشن جمع کر کے بنوں بجھوا دیا گیا ہے جبکہ پانچ ہزار چھ سو پینسٹھ مریضوں کو خلیفہ گل نواز ہسپتال بنوں میں طبی امداد دی گئی ہے۔

اتوار کو آئی ایس پی آر نے کہا تھا کہ میر علی کے قریب فضائی حملوں میں مزید 16 شدت پسند ہلاک ہوئے۔ پاکستانی فوج کے مطابق ان حملوں کے دوران بھاری مقدار میں اسلحے کا ذخیرہ اور دھماکا خیز مواد بھی تباہ کر دیا گیا۔

اس سے پہلے ہفتے کو پاکستانی فوج نے میر علی میں ایک اہم کمانڈر سمیت 11 شدت پسندوں کو ہلاک اور ان کے چھ ٹھکانوں کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

ادھر امریکا نے کہا تھا کہ شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کے خلاف فوجی کارروائی پاکستان کی زیرِ قیادت ہو رہی ہے۔

امریکی محکمۂ خارجہ کی ترجمان میری ہارف نے جمعے کو واشنگٹن میں دی جانے والی پریس بریفنگ میں بتایا کہ امریکہ شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کی حمایت کرتا ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکہ نے پاکستان میں حکومت کی عمل داری اور اس کا داخلی استحکام مضبوط بنانے کی کوششوں کی ہمیشہ حمایت کی ہے۔