.

قبائلی گلزار خان، نقل مکانی نے چوتھی شادی مشکل بنا دی

36 بچے ہیں، 14 سالہ بیٹے کے عزائم باپ سے بھی بلند

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں جاری فوجی آپریشن سے جہاں تقریبا ایک ملین کے قریب لوگوں کو نقل مکانی کرنا پڑی ہے وہیں ایسے بھی ہیں جن کہ آرزووئیں حسرتوں میں تبدیل ہوئی ہیں۔

انہیں میں سے ایک حسرت زدگی کا شکار ہونے والا 54 سالہ شہری گلزار خان بھی ہے۔ گلزار خان کو بھی دوسرے لاکھوں لوگوں کے ساتھ شمالی وزیرستان سے بنوں منتقل ہونا پڑا ہے لیکن اصل '' ستم '' اس کی اس آرزو کے شکستہ ہونے کا ہوا کہ وہ اس آپریشن کی وجہ سے اس کے لیے چوتھی بیوی لانے کا ہدف پورا کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔

گلزار خان نے اپنی چوتھی شادی کے لیے الگ کر کے رکھی جمع پونجی اپنے بچوں کو بنوں منتقل کرنے پر خرچ کر دی ہے۔ 36 بچوں کے باپ گلزار خان نے کہا '' میں جو رقم اپنے لیے چوتھی دلہن لانے کے لیے بچا بچا کر رکھی تھی وہ اپنے خاندان اور بچوں کی نقل مکانی پر خرچ کر دی ہے، لیکن میں نے نقل مکانی کے بعد ایک مرتبہ پھر بچت بھی شروع کر دی ہے۔ ''

واضح شریعت اسلامیہ میں ایک مسلمان کو بیک وقت چار شادیاں کرنے کی اجازت ہے تاکہ وہ اپنے لیے سکون اور آسودگی کے لیے گناہ کی زندگی میں نہ پڑ جائے۔ نیز معاشرے میں موجود خواتین بن بیاہی یا بیوگی میں تنہا زندگی گذارنے پر مجبور نہ ہوں۔

اسلام میں اولاد کی کثرت کی بھی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ گلزار خان بھی اس سہولت سے فائدہ اٹھانے والا مسلمان ہے ۔ وہ کویت پلٹ شہری ہے۔ اس کے بقول اس کی بیویوں میں سے ہر ایک نے جب ایک ایک درجن بچوں کو جنم دے دیا تو انہوں کہہ دیا کہ اب بس ہو گئی ہے۔

واضح رہے گلزار خان کی اپنی کزن سے 17 سال کی عمر میں پہلی شادی ہوئی ۔ اس وقت اس کی دلہن کی عمر 14 سال تھی۔ لیکن آٹھ سال بعد اس قبائلی نے ایک سترہ سالہ لڑکی سے دوسری شادی کر لی۔

گلزار خان نے 1976 سے 1992 تک کویت اور دبئی وغیرہ میں بطور ٹیکسی ڈرائیور کام کیا ۔ گلزار خان نے اپنی تیسری شادی اپنے بھائی کی بیوہ سے کی جسے شادی کے محض ایک ماہ بعد ایک تنازعے میں قتل کر دیا گیا تھا۔

گلزار کے دو بیٹے اب دبئی میں بطور ڈرائیور کام کرتے ہیں جہاں سے ایک بڑے کنبے کا باورچی خانہ چلانے کے لیے وہ رقم بھیجتے ہیں۔ گلزار خان نے بتایا ہر مہینے دبئی سے پچاس ہزار روپے موصول ہوتے ہیں جن سے گذر بسر ہوتی ہے۔

اس کی تینوں بیویاں باہمی اتفاق اور محبت سے ایک ہی چھت کے نیچے رہ بس رہی ہیں اور ان کے درمیان کوئی تنازعہ نہیں ہے۔
ایک سوال کے جواب میں گلزار خان نے کہا مجھے یہ تو معلوم ہے کہ یہ میرے بیٹے اور بیٹیاں لیکن یہ علم نہیں ہے کہ کونسا بیٹا یا بیٹی کس بیوی سے ہے۔

گلزار خان نے اس بڑی عیال داری کا ایک پہلو یہ بھی بتایا کہ رات کو سوتے وقت عموما دو تین بچے اس کے ساتھ سوتے ہیں اس لیے اب اسے اپنی بیویوں کے ساتھ خوش وقتی کا موقع کم ہی ملتا ہے۔

54 سالہ قبائلی نے کہا اسے 12 سال پہلے دل کا عارضہ ہوا۔ اس کے علاوہ السر کا عارضہ بھی لاحق ہے ، لیکن ڈاکٹر کا کہنا کہ خوش رہو اور زندہ رہو اس لیے میں وقت خوش خوش کاٹنے میں دلچسپی رکھتا ہوں۔

گلزار خان کے چودہ سالہ بیٹے غفران کے عزائم بھی بلند ہیں وہ کئی شادیاں کرنے کے علاوہ اپنے والد سے بھی زیادہ بچوں کا باپ بننے کا تہیہ کیے ہوئے ہے۔