لاہور میں پھر تشدد،عوامی تحریک کا کارکن ہلاک ،متعدد زخمی

علامہ طاہرالقادری نے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کوکارکنوں کا قاتل قرار دے دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

پاکستان کے دوسرے بڑے شہر لاہور میں ایک مرتبہ پھر کینیڈین شہری اور بزعم خویش امام انقلاب علامہ طاہرالقادری کی جماعت عوامی تحریک اور پولیس کے درمیان مسلح تصادم ہوا ہے جس میں ایک شخص ہلاک اور متعدد افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں جمعہ کی صبح سے ہی کشیدگی پائی جارہی تھی اور پولیس نے علامہ طاہرالقادری کی عوامی تحریک اور ان کے ادارے منہاج القرآن کے صدر دفاتر کو گھیرے میں لے رکھا تھا۔دوسری جانب عوامی تحریک کے کارکنان بھی لاٹھیوں اور ڈنڈوں سے مسلح ہوکر آئے تھے اور ان کے درمیان لڑائی میں ایک کارکن مارا گیا ہے اور متعدد پولیس اہلکار زخمی ہوگئے ہیں۔

ڈاکٹر طاہر القادری نے جمعہ کی رات گئے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اپنے ایک کارکن کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے اور وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کو پندرہ ''شہداء'' کا قاتل قرار دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ان کے پاس اب اسلام آباد کی جانب مارچ اور انقلاب کے لیے حتمی کال دینے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہ گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اگر ان کے پیروکاروں کی گرفتاریوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے تو پھر پوری قوم اٹھ کھڑی ہو اور وہ اسلام آباد اور چاروں صوبائی دارالحکومتوں کی جانب مارچ کرے۔انھوں نے الزام عاید کیا ہے کہ پولیس نے ان کے پانچ سو پیروکاروں کو گرفتار کر لیا ہے۔

یادرہے کہ جون میں ڈاکٹر طاہرالقادری کی کینیڈا سے پاکستان میں آمد کے موقع پر ماڈل ٹاؤن لاہور میں پولیس اور عوامی تحریک کے کارکنان کے درمیان جھڑپ میں چودہ افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔انھوں نے ان کی یاد میں اتوار 10 اگست کو یوم شہداء منانے کا اعلان کررکھا ہے۔تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ آیا وہ اس تاریخ کو اسلام آباد کی جانب مارچ کریں گے یا نہیں۔

قبل ازیں پنجاب کی انتظامیہ کے ذرائع نے بتایا تھا کہ وزیراعلیٰ میاں شہباز شریف نے ڈاکٹر طاہرالقادری کی گرفتاری کا حکم جاری کردیا ہے اور وفاقی حکومت کو سفارش کی ہے کہ ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کیا جائے۔

پنجاب کے وزیرقانون رانا مشہود احمد خان نے قبل ازیں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان عوامی تحریک پر شمالی وزیرستان میں طالبان جنگجوؤں کے خلاف پاک آرمی کے جاری آپریشن ضربِ عضب کو سبوتاژ کرنے کا الزام عاید کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ ڈاکٹر طاہرالقادری اور ان کے حامیوں نے صوبےکے سات اضلاع میں گڑ بڑ کا منصوبہ بنایا ہے لیکن قانون نافذ کرنے والے ادارے انھیں ایسا کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

ڈاکٹر طاہر القادری کے علاوہ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے بھی 14 اگست کو پاکستان کے یوم آزادی کے موقع پر اسلام آباد کی جانب سونامی مارچ کا اعلان کررکھا ہے۔وفاقی حکومت نے ان دونوں انقلابی لیڈروں کو ریلیوں اور اجتماعات سے روکنے کے لیے آئین کی دفعہ 245 کے تحت اسلام آباد میں فوج کو طلب کر لیا ہے جس پر اسے حزب اختلاف کی جانب سے تنقید کا سامنا ہے۔

یہ دونوں انقلابی لیڈر اپنے مطالبات پورے نہ ہونے کی صورت میں حکومت کا تختہ الٹنے کے بھاشن دے رہے ہیں جس کے پیش نظر فوج کے ایک مرتبہ پھر اقتدار سنبھالنے کی قیاس آرائیاں بھی زیرگردش ہیں اور عمران خان نے کہا ہے کہ اگر فوج اقتدار پر قابض ہوتی ہے تو پھر یہ ان کی نہیں بلکہ حکومت کی غلطی ہوگی۔ڈاکٹر قادری نے اگلے روز اپنے تئیں یہ دعویٰ کیا تھا کہ شریف خاندان نے امریکا کے لیے ویزے لے لیے ہیں اور ان کو ایک مرتبہ پھر دیس نکالا ہونے والا ہے۔ان کے بہ قول سعودی عرب اور برطانیہ انھیں اپنے ہاں پناہ دینے سے انکار کردیا ہے۔اس لیے اب وہ امریکا کا رُخ کریں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں