وزیر اعظم مستعفی ہو کر نئے انتخابات کرائیں: عمران خان

تین بجے سے دھرنے کا اعلان، شرکاء کی تعداد سے متعلق متضاد دعوے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور پاکستان عوامی تحریک (پی اے ٹی) کے حکومت مخالف آزادی اور لانگ مارچ لاہور سے کئی گھنٹے کے سفر کے بعد ہفتے کے روز علی الصباح دارالحکومت اسلام آباد میں پہنچ گئے ہیں اور دونوں جماعتیں حکومت کی جانب سے مقررہ جگہوں پر الگ الگ جلسے کر رہی ہیں۔

عمران خان کی جماعت پی ٹی آئی اسلام آباد کے علاقے آب پارہ میں کشمیر ہائی وے پرجلسہ منعقد کر رہی ہے۔ موسلا دھار بارش کے باوجود جلسہ گاہ میں ہزاروں کارکنان کھلے آسمان تلے موجود رہے ہیں۔ پی ٹی آئی کے قائدین نے بھیگتی بارش میں خطاب کیا ہے اور انھوں نے وزیر اعظم نواز شریف سے مستعفی ہو کر نئے انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا ہے اور اس مطالبے کے پورے ہونے تک دھرنا دینے کا اعلان کیا ہے۔

عمران خان نے اپنے ہزاروں کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ''ہم ان شاء اللہ نیا پاکستان بنائیں گے۔وہ چالیس گھنٹے کا سفر کرکے لاہور سے اسلام آباد پہنچے ہیں۔اس کے باوجود نوجوانوں کا جوش دیدنی ہے اور اس طرح کا جوش وجذبہ میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا ہے''۔

انھوں نے کہا کہ قوم کی تقدیر بدلنے کا موقع کبھی کبھی ملتا ہے اور ہم نے اس موقع کو ضائع نہیں ہونے دینا۔ انھوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جب تک وہ پاکستان کو حقیقی آزادی نہیں دلادیتے ہیں،اس وقت تک واپس نہیں جائیں گے۔عمران خان نے کہا کہ وہ میاں نوازشریف کو وزیراعظم نہیں سمجھتے ہیں کیونکہ وہ دھاندلی زدہ انتخابات کے نتیجے میں اقتدار میں آئے تھے۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ پارلیمان میں ایک وزیرنے خود اعتراف کیا تھا کہ ہر حلقے میں ساٹھ سے ستر ہزار ووٹ کی نشاندہی نہیں ہوسکتی ہے اور یہ تمام ووٹ مسلم لیگ نواز کے امیدواروں کے حق میں ڈالے گئے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ ہمیں سپریم کورٹ اور دوسری عدالتوں سے انصاف نہیں ملا ہے اور اب ہم انصاف کے لیے سڑکوں پر نکلے ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ اگر انتخابات میں ہونے والی دھاندلیوں کو چیلنج نہیں کیا جاتا تو پھر کوئی بھی دیانت دار شخص منتخب نہیں ہوسکے گا۔انھوں نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ ''وہ مستعفی ہوکر ملک میں دوبارہ انتخابات کرائیں لیکن وہ خوف زدہ ہیں کیونکہ گذشتہ انتخابات میں تو انھوں نے میچ فکسنگ کرلی تھی لیکن اب ہم میچ فکس نہیں کرنے دیں گے''۔

انھوں نے آج سہ پہر تین بجے سے جلسہ گاہ کی جگہ پر دھرنا دینے کا اعلان کیا ہے اور کہا کہ وہ اس وقت تک اس جگہ پر موجود رہیں گے جب تک میاں نواز شریف استعفیٰ نہیں دے دیتے۔وہ اپنی تقریر میں بار بار یہ الفاظ دُہرا رہے تھے کہ وہ ایک نیا پاکستان بنائیں گے۔انھوں نے وزیراعظم پر ٹیکس چوری اور منی لانڈرنگ کا الزام عاید کیا اور کہا کہ ان کا بیٹا لندن میں آٹھ ارب کے مکان میں رہتا ہے۔اس لیے ایسے لوگوں سے نجات کے بعد ہی ایک نئے پاکستان کی بنیاد رکھی جاسکتی ہے۔

جماعت کے صدر مخدوم جاوید ہاشمی نے بھی اپنی تقریر میں شریف خاندان سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ انھیں گھر جانا ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ ہمارا وزیر اعظم عمران خان ہے۔ملک کو آگے لے جانے اور ترقی کے لیے عمران خان کو لانا ہو گا۔

ان سے پہلے جماعت کے وائس چئیرمین شاہ محمود قریشی نے جذباتی انداز میں خطاب کیا اور کہا کہ ان کے قافلے پر گوجرانوالہ میں قاتلانہ حملہ کرکے اس کو روکنے کی کوشش کی گئی۔انھوں نے بھی دوپہر تین بجے دوبارہ جلسہ کا اعلان کیا۔عوامی لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے حکومت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا۔ انھوں نے گو نواز شریف گو کے نعرے بھی لگوائے۔

پی ٹی آئی کے انتخابی دھاندلیوں کے خلاف آزادی مارچ میں ہزاروں افراد شریک ہیں۔البتہ ان شرکاء کی حتمی تعداد کے بارے میں متضاد اطلاعات اور دعوے سامنے آئے ہیں۔ پی ٹی آئی کے حلقے مارچ میں لاکھوں کی شرکت کے دعوے کررہے ہیں جبکہ حکومتی حلقوں اور آزاد میڈیا کے مطابق ان کی تعداد ہزاروں میں ہے۔تاہم حتمی تعداد کسی نے نہیں بتائی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں