عمران خان کا وزیراعظم کے استعفے پر اصراربرقرار

عدالتِ عالیہ کا شریف برادران سمیت 21 حکام پر مقدمہ درج کرنے کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پارلیمینٹ ہاؤس کے سامنے دھرنا دینے والے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے ایک مرتبہ پھر وزیراعظم میاں نواز شریف سے استعفے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اس کے بغیر اپنی احتجاجی تحریک ختم نہیں کریں گے اور بدھ کو اہم اعلان کریں گے۔

انھوں نے منگل کی شب تحریک انصاف کے دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے اپنے اس مطالبے کا اعادہ کیا ہے کہ میاں نواز شریف کو مئی 2013ء میں منعقدہ عام انتخابات میں مبینہ دھاندلیوں کی تحقیقات کے دوران اقتدار میں نہیں رہنا چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کیا جانا چاہیے۔انھوں نے میاں شہباز شریف سے مخاطب ہوکر کہا کہ ''آپ چین کے دورے پر کیا لینے گئے ہیں،آپ کو تو جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہونا چاہیے''۔ان کا کہنا تھا کہ عدالت عالیہ لاہور کے حکم پر وزیراعلیٰ کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا جانا چاہیے۔

عمران خان کی اس تندوتیز تقریر کے تناظر میں ان کی جماعت کے وفد اور حکومتی ٹیم کے درمیان اسلام آباد کے ایک مقامی ہوٹل میں مذاکرات کا چوتھا دور ہوا ہے۔اس میں فریقین کے درمیان بحران کے خاتمے کے لیے کوئی مفاہمت تو نہیں ہوسکی ہے۔البتہ اس میں بدھ کو بھی مذاکرات کو جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

مذاکرات کے بعد پی ٹی آئی کے وائس چئیرمین شاہ محمود قریشی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت وزیراعظم میاں نواز شریف کے استعفے کے مطالبے سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔دوسری جانب وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ فریقین کے درمیان بحران کے مفاہمانہ حل تک بات چیت جاری رہے گی۔

عمران خان نے نصف شب اپنی تقریر میں کہا کہ ان کی مذاکراتی ٹیم کی بدھ کو دو بجے حکومتی ٹیم سے بات چیت کرے گی اور اس کے بعد وہ اپنی جماعت کی قیادت سے مل کر آیندہ نیا لائحہ عمل تیار کریں گے۔انھوں نے میاں نواز شریف کو تو اب تک مستعفی ہوجانا چاہیے تھا۔

قبل ازیں عدالت عالیہ لاہور نے ماڈل ٹاؤن میں 17 جون کو پولیس اور پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں چودہ افراد کی ہلاکت کا مقدمہ وزیراعظم میاں نوازشریف ،وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف اور چار وفاقی وزراء سمیت اکیس افراد کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے لیے ایڈیشنل سیشن جج کا حکم برقرار رکھا ہے اور اس کے خلاف چاروفاقی وزراء کی جانب سے ذاتی حیثیت میں دائرکردہ نظرثانی کی اپیل خارج کردی ہے۔

عدالتِ عالیہ کے اس حکم کے بعد ریڈ زون میں یخ بستہ کنٹینر میں دھرنا دینے والے علامہ طاہرالقادری نے سخت لب ولہجے میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ''اب موجودہ بحران صرف وزیراعظم نواز شریف اور وزیراعلیٰ شہباز شریف کے استعفوں سے حل نہیں ہوگا بلکہ ان کو پھانسی پر لٹکایا جائے''۔

انھوں نے کہا کہ شریف برادران سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ذمے دار ہیں اور انھیں اس کی سزا دی جائے۔انھوں نے دعویٰ کیا کہ ان دونوں بھائیوں کی منظوری کے بغیر اتنا بڑا واقعہ رونما نہیں ہوسکتا تھا۔انھوں نے بار بار میاں نوازشریف کو للکارنے کے انداز میں مخاطب کیا اور کہا کہ ''اب آپ کے لیے کوئی محفوظ جگہ نہیں رہی ہے''۔

علامہ طاہر القادری ریڈ زون میں پہنچنے کے بعد سے خود کو شہادت کے لیے پیش کررہے ہیں اور وہ بار بار یہ کَہ رہے ہیں کہ وہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے شہداء کے خون کا انصاف لیے بغیر واپس نہیں جائیں گے۔انھوں نے کہا کہ بھوک سے مرنے سے زیادہ بہتر ہے کہ اربابِ اقتدار کی گولیوں سے جان دی دے جائے۔

درایں اثناء ماڈل ٹاؤن لاہور میں پولیس کے ساتھ تصادم میں عوامی تحریک کے کارکنوں کے قتل کے واقعہ کی تحقیقات کرنے والی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مشترکہ ٹیم کی رپورٹ سامنے آگئی ہے اور اس میں کسی کو مورد الزام ٹھہرایا گیا ہے اور نہ واضح طور پر یہ کہا گیا ہے کہ پولیس کو فائرنگ کا حکم کس نے دیا تھا۔رپورٹ میں کہا ہے کہ واقعہ کی ایف آئی آر میں نامزد افراد اس وقت ضمانت پر ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں