عمران خان کی شادی، نئے پاکستان کی شروعات ہوگئیں

بنی گالہ میں شہنائیاں بج اٹھیں، وزیر اعظم ہاوس میں خوشیاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
10 منٹس read

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور ریحام خان رشتہ ازدواج سے منسلک ہوگئے۔نکاح کی تقریب اسلام آباد میں عمران خان کی رہائش گاہ بنی گالہ میں ہوئی، مفتی سعید انورنے نکاح پڑھایاجبکہ عمران خان کے قریبی دوست ذاکر خان اورعون چودھری گواہ بنے۔

عمران خان کی دلہن ریحام خان کے بارے میں اب تک سامنے آنے والی ساری اطلاعات مغربی تہذیب اور کلچر کے رنگ و رقص کا پیرہن لیے ہوئے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود کم از کم اس معاملے میں ان کی نئی زوجہ مکمل مشرقی بہروپ میں روایتی مشرقی دلہوں کی طرح منہ پر رومال رکھے خاموش ہے۔ گویا معاملہ الٹ رہا ہے۔

مغربی دنیا کی بالا دستی کے خلاف گاہے گاہے بول کر کبھی ایاک نعبد و ایاک نستعین کے قرآنی الفاظ اور کبھی نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ایک نام لیوا عظیم شاعر اقبال کا نام لے کر اپنی سیاسی ''فالونگ '' کو مطمئن رکھے والے عمران خان اس معاملے میں عملاً ایک بار پھر اپنے اہل خانہ کے جذبات کے بجائے خالصتاً اپنے جذبے کےساتھ ہیں۔ تاہم کہا جا رہا ہے کہ بعض اہل خانہ بھی بنی گالہ میں موجود ہیں۔

باسٹھ سالہ عمران خان اپنے اس جذبے سے پیرانہ سالی میں بھی وہ اس قدر مغلوب رہے ہیں کہ اپنے تاریخی دھرنے کے عین عروج کے دنوں میں لبوں پر اس منچلی خواہش کو آنے سے نہ روک سکے۔ پاکستان میں تبدیلی کو اس لیے ضروری قرار دیا کہ اس کے بعد وہ شادی کر سکیں گے۔

لیکن چار ماہ کی سیاسی دھرنا کشی کے نتیجے میں تبدیلی کی بیل تو منڈھے نہ چڑھ سکی، البتہ بدھ کے روز سے بنی گالہ کے وسیع و عریض فارم ہاوس میں شہنائیوں کے بج اٹھنے کا ماحول ضرور میڈیا کے ذریعے سامنے آنے لگا ہے۔ یہ شادی کیسے امکان سے یقین کے راستے کی طرف بڑھی لمبی کہانی نہیں بلکہ خالصتاً ''جھٹ منگنی اور پٹ بیاہ'' کے مصداق ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ اور ملک میں تبدیلی کا نعرہ لگانے والے اس اہم سیاستدان کی ممکنہ زوجہ صرف ڈیڑھ سے دو سال پہلے لندن سے اس وقت پاکستان واپس آنے پر مجبور ہو گئیں جب ان کی مبینہ طور ایک اکیس سالہ برطانوی شہری سے قربت کی باتوں کے باوجود ایک باقاعدہ شادی کی بیل منڈھے نہ چڑھ سکی، کہ برطانوی نوجوان اس جھنجٹ میں پڑنے سے انکاری ہو گیا تھا۔

یہ ان دنوں کی بات ہے جب پاکستان میں اینکرنگ کے میدان میں جلد کامیابی کی منازل طے کرنے والی عمرانی دلہن کے لیے برطانوی نشریاتی ادارے میں بطور'' ویدر گرل '' یعنی موسمی لڑکی کے موسموں کا حال بتانا بھی ممکن نہ رہا تھا۔

یوں وہ اپنے مستقبل کا موسم ابر آلود دیکھتے ہوئے ملک و قوم کی خدمت کے لیے واپس آ گئیں۔ البتہ اپنی قیمتی متاع اپنے ایک اکیس سالہ صاحبزادے اور ایک صاحبزادی کو برطانیہ میں ہی چھوڑ دیا۔ دونوں یونیورسٹی سٹوڈنٹ ہیں۔ چھوٹی بیٹی ان کے ساتھ ہیں۔

روائتی پاکستان کے اکثر بڑے لوگوں کی اولادیں برطانیہ میں ہی پروان چڑھتی ہیں، جیسا کہ عمران خان کی متاع عزیز اگر اولاد کو سمجھا جائے تو سلیمان اور قاسم وہیں کے کلچر میں گوندھے جا رہے ہیں۔

ان کے علاوہ میاں نواز شریف کے صاحبزادگان بھی دیار مغرب میں ہوتے ہیں اور جواں سال قومی رہنما بلاول بھٹو بھی اسی مغربی ماحول کے خوشہ چین ہیں ۔ یقین ہے یہ سب لخت ہائے جگر ایک دن تبدیلی کے ڈھیر اٹھائے پاکستان لوٹ آئٰیں گے اور خاکم بدہن پھر پاکستان میں خوب لوٹ مچے گی۔

خیر شادی جس کا پاکستان اور باہر سب کو انتظار تھا اب نکاح کی منزل طے کر چکی ہے۔ اس حوالے سے تحریک انصاف کے ایک پارٹی رہنما کا کہنا ہے کہ ''پہلی بار عید الفطر کے موقع پر ریحام خان اور عمران خان کے ساتھ بنوں میں قائم آئی ڈی پیز ے کیمپ کا دورہ کرنے آئی تھیں'' اور پھر اجڑ پجڑ کر آنے والے ان آئی ڈی پیز سے پہلے بنی گالہ میں تبدیلی کی گود ہری ہونے کی امید پیدا ہوگئی۔

تحریک انصاف کے سربراہ کی شادی اور جذباتی زندگی پہلے بھی منقسم آراء کا ایک حوالہ رہی ہے۔ تاہم یہ حقیقت اپنی جگہ ہے کہ پہلے کی طرح اب بھی وہ اپنے لیے اہلیہ کا پاکستان کے ماحول اور کلچر میں گندھی ہوئی کسی خاتون کا انتخاب کرنے پر ابھی بھی تیار نہیں ہو سکے۔

اسی چیز کو جواز بنا کر ماضی میں جمائما خان سے شادی پر تنقید کرنے والے متحرک رہے اور بعضوں نے اس سے بھی آگے بڑھ کر سیتا وائٹ کلچر کا لاحقہ پکڑے رکھا۔ خدشہ ہے کہ نئی دلہن کے پرانے معاملات بھی ایسے نقادوں اور سچی تبدیلی کے حامیوں کے لیے تشویش کا باعث بنے رہیں گے، جبکہ تنقید کرنے والوں کی بھی چاندنی رہے گی۔

لیکن خوشگوار بات یہ ہے کہ اب کی بار کوئی مفت و مفتی ٹائپ کزن کم از کم اس وقت تک منظر پر نہیں ہے ۔ جیسا کہ میڈیا رپورٹس نے ایک ایبٹ آبادی شعیب مفتی کا قصہ اچھالنے کی کوشش کی ہے۔ کہ ریحام خان کی پہلی شادی اسی مفتی کی وجہ سی کھنڈت کا شکار ہوئی تھی۔ اس نامی مفتی کے لندن والے گھر میں آ کر ٹھہرنے سے ہی مبینہ جذباتی اشتعال جلوہ گر ہوا اور رحمان کے لیے صورت حل ناپسندیدہ تر یا ناقابل قبول ہو گئی۔

عمران اس حوالے سے تنہائی پسند ہیں یقیناً رحمان والا معاملہ اب ممکن نہیں ہو سکتا کہ کسی مہمان کو اپنے گھر میں ٹھہرنے کا موقع دیا جائے اور بربادی کا دروازہ کھولا جائے۔ اب کی بار مفتی سعید نکاح پڑھانے کے لیے آئے۔

تبدیلی کی متلاشی تحریک انصاف نے اپنے قائد کی زندگی بظاہر ایک نئے مگر عملاً پرانے موڑ سے ایک مرتبہ پھر گذرتے ہوئے کوئی ایسا جذباتی ماحول ظاہر نہیں ہوا جسے منفی رد عمل کا مظہر ہو، ہاں بعض سطحوں پر خاموشی یا لاتعلقی اور بعض اعلی سطحوں پر خوشی کی اپنی اپنی وجوہات کہی جا سکتی ہیں۔ پارٹی میں اختیارات کی خواہش رکھنے والوں کے لیے یہ بہترین موقع ہو گا کہ وہ اپنا اثر رسوخ بڑھا سکیں۔ یقیناً عمران خان کو اب گھر اور گھر والی کو بھی وقت دینا ہو گا۔

تاہم اصل رد عمل عمران خان کے بچوں، اور خاندان کا ہو گا ۔ اہل خاندان تو پہلے ہی ناراض بیٹھے ہیں۔ علاوہ ازیں صوبہ خیبر پختونخواکے روایتی خیالات کے حامل حامیوں کا رد عمل بھی اہم ہو گا۔ اگرچہ یہ حقیقیت اپنی جگہ ہے کہ اس صوبے میں فرزندی کا ناطہ جوڑنے کی کوشش کر کے عمران خان نے اس صوبے کے لیے اپنی عقیدت کا اظہار کیا ہے۔

رہی بات امکانی دلہن کے جوانسال بیٹے اور بیٹیوں کے ردعمل کی تو امکان ہے کسی اپنے ہم عمر برطانوی کے مقابلے میں عمران خان کی شخصیت کو اس رشتے کے لیے کہیں بہتر سمجھ سکتے ہیں۔ باقی سوشل میڈیا پر کیا آتا ہے اور کیا دکھتا ہے، اس کا زیادہ اثر پاکستان میں رہنے والی اولادیں اور ماں باپ لیتے ہیں، برطانیہ والے نہیں۔

بس ایک فرق ہوگا کہ جمائمہ جو اب اپنے نام کے ساتھ خان لکھنے کی طرف مائل نہیں ہیں اپنا سب کچھ چوڑ کر پاکستان آ گئی تھیں، عمران خان ان کے لیے اپنی سیاست نہ چھوڑ سکے، لیکن اب کی بار بہرحال سیاست پر ممکنہ منفی اثرات کی عمران نے پروا نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اس ناطے نئی دلہن زیادہ خوش قسمت سمجھی جا سکتی ہیں کہ سیاست جاتی ہے تو جائے، گھر والی تو آئے، کہ گلشن کا کاروبار چلے۔

البتہ عمران کی سیاسی قسمت کا حال نئے موسم ہی بتائیں گے۔ آیا تبدیلی کے لیے ترسے ہوئے پاکستانی محض اس تبدیلی کو کافی سمجھ کر عمران سے جڑے رہتے ہیں یا وہ بھی راستہ بدل کر نیا موڑ مڑجاتے ہیں۔ اگر ایسا ہوا تو بنی گالہ میں شہنائیاں بجیں گی اور وزیر اعظم ہاوس میں جشن ہوں گے، کہ'' آئے تھے استعفا لینے ۔''

بہرحال جو بھی ہو گا اسکے پرت کھلنے میں اب دیر نہیں لگے گی ۔ انہی میں ایک نکاح کا پرت ہے اور دوسرا سیاسی مستقبل کی قسمت کا پرت ہے۔ جسے عمران خان نے گھر بسانے تک موخر کر رکھا ہے کہ ذرا '' یہ ورلڈ کپ ہو لے تو اس کے بعد دیکھیں گے ۔'' اب عمران خان ریحام خان کے ساتھ نئی زندگی میں داخل ہو رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں