.

راول پنڈی:امام بارگاہ میں بم دھماکا، تین افراد ہلاک

ٹی ٹی پی نے خودکش بم حملے کی ذمے داری قبول کر لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے جڑواں شہر راول پنڈی میں اہل تشیع کی ایک امام بارگاہ میں بدھ کی شام خود کش بم دھماکا ہوا ہے جس کے نتیجے میں تین افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔بعض زخمیوں کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔

اطلاعات کے مطابق خودکش بمبار نے راول پنڈی کے علاقے کری روڈ پر واقع امام بارگاہ قصرالسکینہ میں نماز مغرب کی ادائی کے وقت اندر گھسنے کی کوشش کی لیکن اس کو بیرونی دروازے پر کھڑے سکیورٹی کے عملے نے روک لیا جس کے بعد اس نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا ہے۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے الگ ہونے والے دھڑے جنداللہ نے اس خودکش حملے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔اس گروپ کے ترجمان فجاد نے اپنے جاننے والے صحافیوں سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دھماکا شمالی وزیرستان میں جنگجوؤں کے خلاف جاری آپریشن ضربِ عضب کے ردعمل میں کیا گیا ہے۔

بم دھماکے میں زخمی ہونے والے افراد کو راول پنڈی اور اسلام آباد کے اسپتالوں میں منتقل کردیا گیا ہے۔پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کی ترجمان ڈاکٹر عائشہ نے بتایا ہے کہ اسپتال میں دو لاشیں لائی گئی ہیں اور پانچ زخمیوں کو تشویشناک حالت میں منتقل کیا گیا ہے۔وہ اس وقت انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں زیر علاج ہیں۔

راول پنڈی کے علاقے صادق آباد کے پولیس تھانے کے ایس ایچ او نے بتایا ہے کہ خودکش بمبار کی لاش امام بارگاہ کے اندر پڑی ہے اور اسلام آباد پولیس اس بات کی تفتیش کررہی ہے کہ آیا دھماکا خود کش حملے کے نتیجے میں ہوا ہے یا بمبار کو گولی لگنے کے بعد دھماکا ہوا تھا۔

انھوں نے بتایا کہ امام بارگاہ کے اندرموجود لوگ محفوظ رہے ہیں اور صرف بیرونی دروازے پر موجود سکیورٹی اہلکار یا دوسرے افراد ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔ایک عینی شاہد نے بتایا ہے کہ نماز مغرب کے آغاز کے وقت دھماکا ہوا تھا اور اس سے سکیورٹی گارڈ غلام حسین مارا گیا ہے۔

ایک اور عینی شاہد نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ خودکش بمبار کی عمر بیس سے پچیس سال کے درمیان تھی اور وہ سرائیکی زبان میں گفتگو کررہا تھا۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق خودکش بمبار اپنی بارود سے بھری جیکٹ کو دھماکے سے مکمل طور پر اڑانے میں ناکام رہا ہے جس کی وجہ سے زیادہ جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔

واضح رہے کہ اس سال کے آغاز کے بعد اہل تشیع پر یہ چوتھا بڑا بم حملہ ہے۔اس سے پہلے 14 فروری کو شمال مغربی شہر پشاور کے علاقے حیات آباد میں ایک امام بارگاہ پر دہشت گردوں نے بموں اور خودکار ہتھیاروں سے حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں اکیس افراد ہلاک اور پچاس سے زیادہ زخمی ہوگئے تھے۔

جنوری میں صوبہ سندھ کے ضلع شکار میں ایک امام بارگاہ میں خودکش بم دھماکے میں اکسٹھ افراد مارے گئے تھے۔گذشتہ دوسال کے دوران فرقہ وارانہ تشدد کے کسی ایک واقعے میں یہ سب سے زیادہ جانی نقصان تھا۔جنداللہ ہی نے اس بم حملے کی ذمے داری قبول کی تھی۔

راول پنڈی کے ایک گنجان آباد علاقے چٹیاں ہٹیاں میں جنوری ہی میں اہل تشیع کی ایک امام بارگاہ میں خودکش بم دھماکا ہوا تھا جس کے نتیجے میں آٹھ افراد ہلاک اور سولہ زخمی ہوگئے تھے۔ٹی ٹی پی سے الگ ہونے والے ایک اور گروپ جماعت الاحرار نے اس خودکش حملے کی ذمے داری قبول کی تھی۔اس گروپ نے چند ہفتے پیشتر عراق اور شام میں برسرپیکار سخت گیر جنگجو گروپ داعش سے وابستگی اور اس کے خودساختہ خلیفہ ابوبکر البغدادی کی بیعت کا اعلان کیا تھا۔