.

وزیراعظم کی افغانستان کو طالبان مخالف حمایت کی یقین دہانی

پاکستان اور افغانستان کی سرزمین ایک دوسرے کے خلاف استعمال نہیں ہوگی:آرمی چیف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وزیراعظم میاں نواز شریف نے افغانستان میں طالبان مزاحمت کاروں کی جانب سے آپریشن عزم کے نام سے حالیہ حملوں کی مذمت کردی ہے،انھیں دہشت گردی کی کارروائیاں قرار دیا ہے اور افغان حکومت کو طالبان کے خلاف حمایت کی یقین دہانی کرائی ہے۔

وہ کابل میں افغان صدر اشرف غنی کے ساتھ مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔انھوں نے کہا کہ ''(طالبان کی) تمام پناہ گاہوں کو پتا چلنے پر تباہ کردیا جائے گا اور ان کی موجودہ میکانزم کے تحت نگرانی کی جائے گی۔کسی بھی جنگجو یا گروپ کی جانب سے افغانستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوشش سے سختی سے نمٹا جائے گا،ایسے عناصر کو غیر قانونی قرار دیا جائے گا اور ان کا پیچھا کیا جائے گا''۔

میاں نواز شریف نے کہا کہ ''دہشت گردی کی کسی سرگرمی کی صورت میں پاکستان اور افغانستان دونوں ہی مشترکہ جوابی اقدام کا حق رکھتے ہیں۔ہم نے اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ جب تک دہشت گردی کی لعنت کا خاتمہ نہیں کردیا جاتا،اس وقت تک خطے کا استحکام خطرات سے دوچار رہے گا''۔

انھوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ پاکستان اور افغانستان جامع اور مربوط حکمت عملی کے ذریعے دہشت گردی کی لعنت کے خاتمے میں کامیاب ہوجائیں گے۔انھوں نے افغانستان کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس کے دشمن پاکستان کے دوست نہیں ہوسکتے ہیں۔

میاں نواز شریف نے صدر اشرف غنی کو پاکستان کی جانب سے افغانستان کی قیادت میں مصالحتی عمل کی مکمل حمایت کا یقین دلایا اوراس ضمن میں ہر ممکن کوششوں کی بھی یقین دہانی کرائی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ مصالحت کے بغیر افغانستان میں قیام امن کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکے گا۔

انھوں نے پاکستان کی جانب سے افغانستان کے ساتھ سکیورٹی اور دفاع کے شعبے میں شراکت داری کو مضبوط بنانے اور توانائی کے منصوبوں پر تیز رفتار پیش رفت کی ضرورت پر زوردیا۔انھوں نے افغان پولیس کو پاکستان میں تربیت دینے کی بھی پیش کش کی ہے۔

اس موقع پر افغان صدر اشرف غنی نے دونوں برادر ممالک کے درمیان قریبی تعاون کے فروغ کی ضرورت پر زوردیا اور کہا ہے کہ دونوں ممالک کو دہشت گردی کے مشترکہ خطرے کا سامنا ہےاور دونوں کو مشترکہ طور پر اس سے نمٹنا ہوگا۔انھوں نے کہا کہ پاکستان کے دشمن افغانستان کے دشمن ہیں۔

مشترکہ دشمن

قبل ازیں پاکستان کے چیف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کی سرزمین ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

انھوں نے یہ بات کابل میں افغان صدر اشرف غنی اور دوسرے اعلیٰ عہدے داروں سے ملاقات میں کہی ہے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹَر جنرل میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے ٹویٹر پر جاری کردہ تین ٹویٹس میں کہا ہے کہ چیف آرمی اسٹاف نے افغانستان کی قیادت میں امن کوششوں کے لیے مکمل حمایت کا یقین دلایا ہے اور کہا ہے کہ پاک افغان تعلقات ایک دوسرے کے داخلی امور میں عدم مداخلت کی پالیسی پر مبنی ہوں گے۔

جنرل راحیل شریف نے کہا کہ افغانستان کے دشمن کو پاکستان کا اور پاکستان کے دشمن کو افغانستان کا دشمن سمجھا جائے گا۔انھوں نے فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن کو طورخم ،جلال آباد شاہراہ کی تعمیر جلد شروع کرنے کا حکم دیا ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ اس منصوبے پر آیندہ ہفتے کام شروع ہوجائے گا۔

اس سے پہلے پاکستان کے وزیراعظم میاں نواز شریف اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف ایک روزہ دورے پر کابل پہنچے تو ان کا شاندار استقبال کیا گیا۔انھوں نے افغان صدر اشرف غنی سے صدارتی محل میں بات چیت کی۔وزیراعظم کے خصوصی معاون برائے خارجہ امور طارق فاطمی اور سیکریٹری خارجہ اعزاز احمد چودھری بھی ان کے ہمراہ تھے۔