شمالی وزیرستان : فضائی حملے میں 17 جنگجو ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پاکستان آرمی نے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں مشتبہ طالبان جنگجوؤں کے ٹھکانوں پر جیٹ طیاروں سے بمباری کی ہے جس کے نتیجے میں سترہ مشتبہ دہشت گرد ہلاک ہوگئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق جیٹ طیاروں نے شمالی وزیر ستان کی تحصیل شوال کے افغان سرحد کے نزدیک واقع علاقے میں جنگجوؤں کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے۔گھنے جنگل پر مشتمل یہ علاقہ شمالی وزیرستان کے صدر مقام میران شاہ سے 65 کلومیٹر مغرب میں واقع ہے۔بمباری سے جنگجوؤں کے تین ٹھکانے اور پانچ گاڑیاں تباہ ہوگئی ہیں۔

ایک سکیورٹی عہدے دار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ فضائی حملے میں ہلاک ہونے والوں میں ازبک اور افغان شہری اورکالعدم تحریک طالبان پاکستان(ٹی ٹی پی) کے ارکان شامل ہیں۔علاقے کے مکینوں نے بھی اس حملے کی تصدیق کی ہے۔

پاک فضائیہ کے جیٹ طیاروں نے یہ بمباری ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں اسماعیلی برادری کی ایک بس پر مسلح افراد کے حملے کے دو روز بعد کی ہے۔بدھ کو اس حملے میں پینتالیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔سخت گیر جنگجو گروپ داعش اور کالعدم تحریک طالبان سے الگ ہونے والے ایک دھڑے جند اللہ نے اس حملے کی ذمے داری قبول کی تھی۔

پاک آرمی گذشتہ سال جون سے شمالی وزیرستان میں ٹی ٹی پی اور دوسرے جنگجو گروپوں کے خلاف آپریشن ضربِ عضب کے نام سے بڑی کارروائی کررہی ہے۔اس دوران سیکڑوں مشتبہ جنگجو ہلاک ہوچکے ہیں اور افغان سرحد کے نزدیک واقع شمالی وزیرستان کے نوّے فی صد سے زیادہ علاقے کو کلیئر کرا لیا گیا ہے۔پاکستان کے عسکری حکام کا کہنا ہے کہ سرحد کے آر پار اب اس آپریشن کو تیز کیا جائے گا اور بچھے کچھے جنگجوؤں کا بھی جلد قلع قمع کردیا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں