.

ٹی ٹی پی کے سابق ترجمان شاہداللہ شاہد ڈرون حملے میں ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے سابق ترجمان شاہداللہ شاہد افغانستان کے مشرقی صوبے ننگرہار میں امریکا کے بغیر پائیلٹ جاسوس طیارے کے میزائل حملے میں ہلاک ہوگئے ہیں۔

افغانستان کے ایک معروف ٹی وی چینل طلوع نیوز نے خفیہ ادارے نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سکیورٹی افغانستان (این ڈی ایس) کے حوالے سے جمعرات کو اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر شاہد اللہ شاہد کی ہلاکت کی اطلاع دی ہے۔

شاہد اللہ شاہد ٹی ٹی پی کے سابق امیر حکیم اللہ محسود اور موجودہ امیر ملا فضل اللہ کے تحت اس جنگجو گروپ کے ترجمان رہے تھے لیکن پاکستان کے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں پاک آرمی کے گذشتہ سال آپریشن ضربِ عضب کے آغاز کے بعد وہ روپوش ہوگئے تھے اور چند ماہ قبل انھوں نے ٹی ٹی پی کے بعض دوسرے کمانڈروں کے ساتھ دولت اسلامیہ عراق وشام (داعش) کے خلیفہ ابوبکر بغدادی کی بیعت کا اعلان کیا تھا۔

شاہد اللہ شاہد کا اصل نام شیخ مقبول اورکزئی تھا۔وہ مسلکاً سلفی تھے اور ان کے عرب جنگجوؤں سے اچھے روابط استوار تھے۔ وہ داعش کے پاکستان میں نائب کمان دارتھے۔انھوں نے داعش میں شمولیت کے بعد ٹی ٹی پی سے اپنا ناتا توڑ لیا تھا اور پاکستان کے قبائلی علاقوں میں جنگجوؤں کے خلاف سکیورٹی فورسز کا گھیرا تنگ ہونے کے بعد وہ پڑوسی ملک افغانستان چلے گئے تھے۔امریکی ڈرون حملے میں شاہداللہ شاہد کی ہلاکت افغانستان میں حال ہی میں داعش کے پرچم تلے جمع ہونے والے جنگجوؤں کے لیے ایک بڑا دھچکا ہوسکتی ہے۔

فاٹا سے تعلق رکھنے والے ایک سینیر صحافی ناصر ڈاور کے بہ قول ٹی ٹی پی کی قیادت سے اختلافات کے بعد شاہد اللہ شاہد ،اورکزئی ایجنسی سے تعلق رکھنے والے کمانڈر حافظ سعید خان ،کرم ایجنسی کے دولت خان اور بعض دوسرے سرکردہ کمانڈر الگ ہوگئے تھے اور انھوں نے داعش میں شمولیت اختیار کر لی تھی حالانکہ ماضی میں ان جنگجوؤں نے ٹی ٹی پی کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

اس وقت افغانستان میں داعش سے وابستگی اختیار کرنے والے جنگجو خود طالبان مزاحمت کاروں کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکے ہیں۔چند ماہ قبل افغان طالبان نے داعش کے خود ساختہ خلیفہ کو ایک خط لکھا تھا اور اس میں انھیں خبردار کیا تھا کہ وہ افغانستان میں مداخلت سے گریز کریں اور اس سے دور ہی رہیں لیکن اس کے باوجود داعش سے وابستہ جنگجو افغانستان میں اپنے پر پرزے نکال رہے ہیں اور انھوں نے حال ہی میں دہشت گردی کے بعض حملوں کی ذمے داری بھی قبول کی ہے۔