جنرل راحیل شریف:9 دہشت گردوں کو سزائے موت کی توثیق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

پاکستان آرمی کے چیف آف اسٹاف جنرل راحیل شریف نے دہشت گردی کی مختلف وارداتوں میں ملوّث نو سخت گیر دہشت گردوں کو سنائی گئی سزائے موت کی توثیق کردی ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل،میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے ایک ٹویٹ میں بتایا ہے کہ ''آرمی چیف نے سوموار کو شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکتوں میں ملوّث نو سخت گیر دہشت گردوں کو فوجی عدالتوں کی جانب سے سنائی گئی پھانسی کی سزا کی توثیق کی ہے''۔

ان میں بعض سزا یافتہ دہشت گرد مالاکنڈ ڈویژن میں پاکستان آرمی کے جنرل آفیسر کمانڈنگ (جی اوسی) میجر جنرل ثناءاللہ کے قافلے پر وادی سوات کے ضلع اپر دیر میں دہشت گردی کے حملے میں ملوّث تھے۔ستمبر 2013ء میں اس بم حملے میں میجر جنرل ثناءاللہ کے علاوہ لیفٹیننٹ کرنل توصیف احمد شہید ہوگئے تھے۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے اس حملے کی ذمے داری قبول کی تھی۔پولیس نے اس سال مارچ میں پاک افغان سرحد کے نزدیک براول کے علاقے میں ایک کارروائی کے دوران حملے میں ملوث ایک مشتبہ شخص عبدالرحمان عرف رئیس کو گرفتار کر لیا تھا۔

آرمی چیف نے جن دہشت گردوں کی سزائے موت کی توثیق کی ہے،ان میں بعض صوبہ بلوچستان کے ضلع مستونگ میں فرقہ وارانہ بنیاد پر ہلاکتوں اور صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع نوشہرہ میں ایک مسجد میں خودکش بم حملے میں ملوّث تھے۔آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق ایک دہشت گرد کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

تاہم بیان میں یہ واضح نہیں کیا گیا ہے کہ ان دہشت گردوں کو کب سزائیں سنائی گئی تھیں۔اس وقت ملک میں نو فوجی عدالتیں کام کررہی ہیں اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے حال ہی میں کراچی میں فوجی عدالتوں کی تعداد بڑھانے سے اتفاق کیا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں نے 16 دسمبر 2014ء کو پشاور میں آرمی پبلک اسکول پر دہشت گردوں کے سفاکانہ حملے کے بعد ملک میں فوجی عدالتوں کے قیام سے اتفاق کیا تھا اور پارلیمان نے ان عدالتوں کے قیام کے لیے آئین میں اکیسویں ترمیم کی منظوری دی تھی۔

ان عدالتوں میں دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ملزموں کے خلاف مقدمات چلائے جارہے ہیں اور انھیں پھانسی یاقید کی سزائیں سنائی جارہی ہیں۔تاہم اعلیٰ عدالتوں کو فوجی عدالتوں کے فیصلوں پر نظرثانی کا اختیار حاصل ہے اور اگر وہ یہ محسوس کریں کہ منصفانہ اور شفاف ٹرائل کے تقاضے پورے نہیں کیے گئے تو وہ مقدمے کی دوبارہ سماعت کا بھی حکم دے سکتی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں