.

''بھارت نے ممبئی حملوں کے بعد پاکستان پر حملے کا منصوبہ بنایا تھا''

سابق پاکستانی وزیرخارجہ خورشید قصوری کا بھارتی ٹی وی سے انٹرویو میں انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے سابق وزیرخارجہ خورشید محمود قصوری نے انکشاف کیا ہے کہ بھارت نے نومبر 2008ء میں ممبئی حملوں کے بعد پاکستانی سرزمین پر کالعدم گروپ لشکر طیبہ اور جماعت الدعوہ کے مرکز پر فضائی حملے کا منصوبہ بنایا تھا۔

انھوں نے منگل کے روز بھارتی ٹیلی ویژن چینل انڈیا ٹو ڈے کے میزبان کرن تھاپر کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سینیٹر جان مکین کی سربراہی میں امریکا کے ایک وفد نے ان سے ممبئی حملوں کے بعد ملاقات کی تھی اور اس تشویش کا اظہار کیا تھا کہ بھارت صوبہ پنجاب کے قصبے مرید کے میں لشکرطیبہ اور جماعت الدعوہ کے مراکز کوسرجیکل فضائی حملوں میں ہدف بنا سکتا ہے۔

خورشید قصوری نے بھارت میں اپنی کتاب ''عقاب نہ فاختہ'' کی تقریب اجراء سے قبل کرن تھاپر کے ساتھ ان کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر جان مکین کا یہ بیان نقل کیا ہے:''ہم بھارت سے آئے ہیں۔وہاں بہت غم وغصہ پایا جارہا ہے اور مرید کے میں جماعت الدعوہ کے ہیڈکوارٹرز پر محدود حملے کی باتیں کی جارہی ہیں''۔

اس امریکی وفد نے لاہور میں خورشید قصوری سے ملاقات کی تھی۔اس میں ری پبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم اور افغانستان اور پاکستان کے لیے امریکا کے خصوصی ایلچی رچرڈ ہالبروک شامل تھے۔

سابق وزیرخارجہ نے کہا کہ انھوں نے جان مکین کو بتادیا تھا کہ اگر پاکستانی علاقے میں ایسا کوئی حملہ ہوتا ہے تو پاکستان آرمی اس کا بھرپور جواب دے گی۔انھوں نے اس وفد سے یہ بھی کہا تھا کہ وہ پینٹاگان سے پاکستان آرمی سے براہ راست رابطے کے لیے کہے۔

خورشید قصوری کی کتاب''عقاب نہ فاختہ'' کی گذشتہ ماہ پاکستان میں تقریب رونمائی ہوئی تھی اور بھارت میں 7 اکتوبر کو اس کے اجراء کے انتظامات کیے جارہے ہیں۔انھوں نے یہ بھی کہا ہے کہ پاکستان آرمی اور انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) بھارت کے ساتھ امن ،سلامتی اور دوستی کے معاہدے کے حامی ہیں۔

انھوں نے انٹرویو کے دوران کہا کہ ''ہم علاقوں کو تقسیم کرنے کے لیے سرحدیں نہیں چاہتے ہیں۔ہم کشمیریوں کے مفادات کی جانب دیکھتے ہیں اور وہ علاقے کو غیر فوجی بنانا چاہتے ہیں''۔

پاکستان کے سابق وزیرخارجہ نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان سرکریک کے تنازعے کے حل کے لیے سمجھوتے کا فیصلہ ہوگیا تھا اور اس پر صرف دستخط ہونا باقی تھے۔سیاچن کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ بھارت نے اس کے حل کے لیے پاکستان کی تجویز قبول کر لی تھی اور اصولی طور پر معاہدہ طے پانے والا تھا۔

ان کی کتاب میں تنازعہ کشمیر کے حوالے سے سنہ 2002ء سے 2007ء تک امن عمل اور بیک چینل مذاکرات کی تفصیل بھی بیان کی گئی ہے۔انھوں نے کتاب میں 2015ء تک کے واقعات درج کیے ہیں اور بھارت میں نریندر مودی کے برسراقتدار آنے کا تذکرہ بھی کیا ہے۔اس کے علاوہ انھوں نے بطور وزیرخارجہ بھارت ،افغانستان اور امریکا کے ساتھ پاکستان کے تعلقات اور ان میں ہونے والی پیش رفت سے متعلق تفصیل بیان کی ہے۔