.

افغانستان میں پاکستانی قونصل خانے کے قریب خودکش حملہ

پولیس اہلکار اور عام شہریوں کے ہلاک وزخمی ہونے کی اطلاعات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان کے شہر جلال آباد میں پاکستان، ہندوستان اور ایران کے قونصل خانوں کے قریب دھماکا ہوا۔ افغان میڈیا کے مطابق دھماکے میں 5 پولیس اہلکاروں سمیت 6 افراد ہلاک جبکہ اسکول جاتے ہوئے 3 بچوں سمیت 11 افراد زخمی ہوئے۔

خاما پریس کی رپورٹ کے مطابق ننگر ہار پولیس چیف عطاء اللہ خوگیانی نے تصدیق کی کہ حملہ خود کش تھا۔ان کا کہنا تھا کہ یہ حملہ پاکستانی قونصل خانے کے قریب کیا گیا۔ سیکیورٹی حکام کے مطابق قونصل خانے میں 5 حملہ آور داخل ہوئے جن کا سیکیورٹی اہلکاروں سے مقابلہ ہوا، جس میں خود کش حملے کے بعد فائرنگ کی آوازیں بھی سنی گئیں۔

دھماکے کے بعد پاکستان کے قونصل خانے کے اندر مبینہ طور پر حملہ آور داخل ہوئے جن کا سیکیورٹی اہلکاروں سے فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ رپورٹس کے مطابق قونصل خانے کے اندر فائرنگ سے بھی نقصان کا خدشہ ظاہر کیا گیا۔ سیکیورٹی حکام نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ کچھ حملہ آور پاکستان اور ہندوستان کے قونصل خانوں کے قریب کسی عمارت میں چھپے ہو سکتے ہیں۔ دھماکے کے بعد اطراف کا علاقہ سیل کر دیا گیا۔

واضح رہے کہ جلال آباد پاکستان کی سرحد کے ساتھ واقع افغان صوبے ننگرہار کا دارالحکومت ہے جسے شدت پسند تنظیم داعش کا گڑھ قرار دیا جاتا ہے۔ چار روز قبل ہی امریکی جاسوس طیاروں نے ننگر ہار میں ڈرون حملہ کیا تھا جس میں مبینہ طور پر داعش کے 20 شدت پسند مارے گئے تھے۔2016 کے آغاز پر افغانستان میں طالبان اور شدت پسند تنظیم داعش کے حملوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔

رواں سال کے پہلے روز ہی یکم جنوری 2016 کو افغان دارالحکومت کابل میں طالبان کے ایک خودکش حملے میں فرانسیسی ریسٹورنٹ کو نشانہ بنایا گیا جس میں 2 افراد ہلاک اور 15 ہوئے تھے۔ جبکہ 10 روز قبل 3 جنوری کو بھی افغانستان کے شہر مزار شریف میں ہندوستان کے قونصل خانے پر حملہ ہوا تھا۔

گزشتہ ہفتے ہی افغان فورسز نے ایک آپریشن میں صوبہ ہلمند کے دارالحکومت لشکر گاہ کے قریب ایک قید خانے پر آپریشن کیا جہاں طالبان نے 59 افراد کو قید رکھا تھا، فورسز نے آپریشن میں 37 فوجی، 7 پولیس اہلکار اور دیگر شہری بازیاب کیے تھے۔آٹھ دن پہلے ہلمند میں ہی ایک حملے میں 2 امریکی فوجی مارے گئے تھے، ہلمند کے حوالے سے صوبائی گورنر خدشہ ظاہر کر چکے ہیں کہ طالبان صوبے پر قابض ہو سکتے ہیں۔

دوسری جانب 5 جنوری کو داعش اور طالبان کی حامی تنظیموں میں پاک افغان سرحد سے متصل افغان صوبے نازیان میں جھڑپیں ہوئیں جس میں 33 شدت پسند ہلاک ہوئے تھے۔