.

''تنازع کشمیر کے حل کے بغیر پاکستان اور بھارت میں امن قائم نہیں ہوسکتا''

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کشمیر میں استصواب رائے کرانے کے لیے اپنی قراردادوں پر عمل کرائے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وزیراعظم میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ تنازع کشمیر کو حل کیے بغیر بھارت اور پاکستان کے درمیان پائیدار امن قائم نہیں ہوسکتا ہے۔

وہ بدھ کو نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس سے خطاب کررہے تھے۔انھوں نے اپنی تقریر کا آغاز سرد جنگ کے خاتمے بعد عالمی سطح پر طاقت کا توازن بگڑنے کی صورت حال سے کیا اور کہا کہ اس وجہ سے بڑی طاقتوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے اور دنیا میں امن کے لیے مسائل پیدا ہوئے ہیں۔

میاں نواز شریف نے اپنی تقریر میں پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی کے تناظر میں دیگر مسائل کی نسبت مسئلہ کشمیر پر زیادہ تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔انھوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ مذاکرات کے ذریعے بھارت کے ساتھ تمام تصفیہ طلب مسائل کی بات کی ہے لیکن بھارت ہمیشہ سے غیر ضروری پیشگی شرائط عاید کرتا چلا آ رہا ہے۔انھوں نے واضح کیا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر پاکستان اور بھارت کے درمیان دیرپا امن قائم نہیں ہوسکتا ہے۔

انھوں نے ریاست جموں و کشمیر میں بھارت کے خلاف حالیہ عوامی احتجاجی تحریک کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی فورسز کی کارروائی میں شہید ہونے والا نوجوان برہان وانی کشمیریوں کی بھارتی قبضے کے خلاف نئی انتفاضہ تحریک کی علامت بن چکاہے۔بھارتی فورسز نے اس تحریک کو دبانے کے لیے طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا ہے اور اس کے نتیجے میں ایک سو سے زیادہ کشمیری شہید ہوچکے ہیں اور چھے ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔ان میں سے سیکڑوں پیلیٹ گولیوں کا نشانہ بن کر اپنی بینائی کھو بیٹھے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ پاکستان نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بین کی مون کو ایک دستاویز دی جائے گی جس میں بھارت کی سکیورٹی فورسز کی چیرہ دستیوں اور مظالم کی تفصیل فراہم کی گئی ہے۔انھوں نے کہا کہ بھارتی سکیورٹی فورسز کے ان مظالم سے کشمیریوں کے بھارت کے خلاف غیظ وغضب ہی میں اضافہ ہوگا۔

میاں نواز شریف نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کا حل چاہتا ہے۔کشمیریوں کو ان قراردادوں کے مطابق آزادانہ اور منصفانہ استصواب رائے کے ذریعے اپنے حق خود ارادیت کے استعمال کا موقع دیا جانا چاہیے۔

انھوں نے جنرل اسمبلی سے مطالبہ کیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کے لیے اقوام متحدہ کا ایک فیکٹ فائنڈنگ مشن بھیجا جائے۔انھوں نے بھارت سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں کرفیو ختم کرے ،گرفتار کشمیریوں کو رہا کیا جائے اور شہریوں کو آزادانہ نقل وحرکت کی اجازت دے۔

ان کا کہنا تھا کہ سلامتی کونسل کو کشمیر سے متعلق اپنی قراردادوں پر عمل درآمد کے لیے اپنی ذمے داری پوری کرنی چاہیے۔ بھارت کی پانچ لاکھ سے زیادہ مسلح افواج جموں و کشمیر میں موجود ہیں،ان کو وہاں سے واپس بلایا جائے اور کشمیر کو ایک غیر فوجی علاقہ قراردیا جائے جائے۔انھوں نے کہا کہ ہم سیکریٹری جنرل بین کی مون کی جانب سے دونوں ملکوں کے درمیان مصالحت کرانے کی پیش کش کا خیرمقدم کرتے ہیں۔

میاں نواز شریف نے کہا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ اسلحے کی دوڑ میں شریک نہیں ہے لیکن بھارت کی جانب سے اسلحے کے حصول کے کوششوں سے بے خبر بھی نہیں ہے۔ہم اس کے باوجود بھارت کے ساتھ کشیدگی کے خاتمے کے لیے کسی بھی فورم پر بات چیت کو تیار ہیں کیونکہ سنجیدہ اور پائیدار بات چیت کے ذریعے ہی دیرینہ تصفیہ طلب مسائل کو حل کیا جاسکتا ہے۔

وزیراعظم پاکستان نے اپنی تقریر کے آغاز میں مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعات کا ذکر کیا اور کہا کہ بڑی طاقتوں کے درمیان کشیدگی سے یہ تنازعات حل نہیں ہوسکے ہیں، خطے کے لوگوں سے ناانصافیوں اور غیرملکی مداخلت کی وجہ سے کئی ایک مسائل نے جنم لیا ہے اور اس وقت وہاں مسلح تنازعات جاری ہیں۔تاہم انھوں نے مسئلہ فلسطین کا واضح انداز میں ذکر نہیں کیا۔

میاں نواز شریف نے کہا کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے بنیادی اسباب کا خاتمہ کیے بغیر ان کو جڑ سے نہیں اکھاڑ پھینکا جاسکتا ہے۔انھوں نے جنرل اسمبلی کو بتایا کہ حالیہ برسوں کے دوران پاکستان دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔اس کو بیرون ملک سے اسپانسر دہشت گردی کا سامنا ہے اور دہشت گردی کے حملوں میں ہزاروں افراد مارے گئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان نے ضربِ عضب آپریشن کے نام سے دہشت گردی کے خلاف سب سے بڑی مہم شروع کی تھی اور اس میں دو لاکھ سے زیادہ سکیورٹی اہلکاروں نے حصہ لیا ہے۔ہماری سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کو شکست دینے کے لیے دلیرانہ کردار ادا کیا ہے اور اس جنگ میں ہزاروں سکیورٹی اہلکاروں نے اپنی جانوں کے ںذرانے پیش کیے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی ایک عالمی مظہر ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے دور رس اقدامات کی ضرورت ہے۔دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف جنگ اس کے بنیادی اسباب کے خاتمے کے بغیر نہیں جیتی جا سکتی ہے۔اس کے لیے عالمی برادری کو ناانصافیوں اور غربت کا خاتمہ کرنا ہوگا۔

وزیراعظم نے پڑوسی ملک افغانستان کی صورت حال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات سے ہی گذشتہ پندرہ سال سے جاری جنگ کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے۔انھوں نے کہا کہ پاکستان نے افغان فریقوں کے درمیان مصالحت کے لیے سہولت کار کا کردار ادا کیا۔اس میں کسی قدر پیش رفت ہوئی تھی لیکن مذاکراتی عمل میں اس وقت ہی کامیابی ہوسکتی ہے جب افغان فریق یہ سمجھیں گے کہ تنازعے کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔

انھوں نے عالمی رہ نماؤں کو بتایا کہ پاکستان گذشتہ چار عشروں سے تیس لاکھ سے زیادہ افغان مہاجرین کی میزبانی کررہا ہے۔ہم ان کی رضاکارانہ واپسی چاہتے ہیں اور انھیں زبردستی واپس بھیجنے کے حق میں نہیں ہیں۔ عالمی برادری کو بھی افغان مہاجرین کی دیکھ بھال کے ضمن میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔