''اقوام متحدہ اور او آئی سی کشمیر کے لیے خصوصی ایلچی مقرر کریں''

پاکستان اور بھارت مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے جامع مذاکرات شروع کریں: سیمی نار میں مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

پاکستان اور بھارت مسئلہ کشمیر سمیت تمام دوطرفہ تنازعات کے حل کے لیے جامع مذاکرات کا عمل شروع کریں اور اقوام متحدہ ،بڑی عالمی طاقتیں اور اسلامی تعاون تنظیم ( او آئی سی) کشمیر کے لیے اپنے الگ الگ خصوصی ایلچی مقرر کریں تاکہ تنازعے کے حل میں مدد مل سکے۔

ان خیالات کا اظہار بھارت کے زیرانتظام ریاست جموں و کشمیرمیں ''حالیہ تحریک آزادی اور بیرون ملک کشمیریوں کا کردار'' کے موضوع پر ہفتے کے روز اقبال انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ فار ریسرچ اینڈ ڈائیلاگ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے زیراہتمام منعقدہ سیمی نار میں مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کیا ہے۔

مقررین نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے پائیداراور منصفانہ حل کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادیں ہی بنیادی فریم ورک فراہم کرتی ہیں ۔ان کو نظرانداز کرکے اگر اس دیرینہ تنازعے کا کوئی حل مسلط کیا گیا تو وہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی ضمانت دے سکتا ہے اور نہ وہ کشمیریوں کے لیے قابل قبول ہوگا۔

مقررین نے مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھنے والے انسانی حقوق کے علمبردار خرم پرویز کی گرفتاری اور انھیں دو سال قید کی سزا سنائے جانے پر سخت تشویش کا اظہارکیا اور بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا کہ خرم پرویز سمیت تمام سیاسی قیدیوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔

سیمنار سے خطاب کرتے ہوئے برطانوی پارلیمان کے رکن لارڈ نذیر احمد نے کہا کہ کشمیر ایشو پر صرف سیاست ہو رہی ہے.برطانیہ میں کشمیر کا مقدمہ لڑنے والی رکن پارلیمنٹ کو قتل کردیا گیا لیکن کشمیر اور پاکستان سے کوئی موثر آواز بلند نہیں ہوئی.

بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے ریکٹر پروفیسر ڈاکٹر معصوم یاسین زئی نے کہا کہ میڈیا ، سیاسی اور مذہبی رہ نماؤں اور جامعات کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ کشمیر ایشو کے بارے میں عوامی سطح پر شعور اجاگر کریں. انہوں نے کہا کہ پاناما پیپر کے بارے میں ہمارے لوگوں کو زیادہ معلومات ہیں لیکن کشمیر ایشو پر لوگوں کو بہت کم علم ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کشمیر کا مسئلہ بہت حساس ہے، پاکستانی حکومت اور عوام کو باقی ایشوز کو چھوڑ کر اس پر کام کرنے کی ضرورت ہے.اس وقت پورے پاکستان میں 180 جامعات ہیں ، اگر ان جامعات میں ایسے موضوعات پر مباحثے کرائے جائیں تو پاکستان سمیت عالمی سطح پر کشمیر کا مقدمہ موثر اور بہترین انداز میں پیش کیا جاسکتا ہے ۔

اس سیمی نار کے اختتام پر جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ کشمیر میں جاری ظلم اور بربریت کی وجہ سے پاکستان سمیت عالمی برادری میں سخت تشویش پائی جاتی ہے ۔ بھارتی فورسز کی طرف سے ممنوعہ پیلٹ گن کا استعمال قابل مذمت ہے جس کی وجہ سے ہزاروں کی تعداد میں کشمیری بینائی سے محروم اور معذور ہو گئے ہیں۔ بیسیوں کشمیری اپنی قیمتی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ بھارت بے گناہ کشمیریوں پر جبر اور طاقت کا استعمال بند کرے ۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ وادی میں مسلسل کرفیو، اخبارات، ٹیلی فون اور انٹرنیٹ پرپابندی عاید کرکے دنیا کو کشمیر کی صورت حال سے بے خبر رکھنا ایک گھناﺅنا جرم ہے ۔ بھارت کے اس چہرے کو انسانی حقوق کمیشن اور عالمی رائے عامہ کے سامنے بے نقاب کرنا انتہائی ضروری ہے۔ اس سلسلے میں حکومتِ پاکستان ، میڈیا اور جامعات اپنا کردار ادا کریں۔

سیمی نار سے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اقبال انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ڈائیلاگ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد ڈاکٹر حسن الامین ، پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف پیس اسٹڈیز کے ڈائریکٹر محمد عامر رانا ، سری نگربار ایسوسی ایشن کے صدر سید بابر قادری ایڈووکیٹ اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں