.

قومی اسمبلی میں فوجی عدالتوں کی بحالی کا بل کثرت رائے سے منظور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کی پارلیمان کے ایوان زیریں قومی اسمبلی نے منگل کے روز دہشت گردی سے متعلق مقدمات کی فوری سماعت کے لیے فوجی عدالتوں کی بحالی سے متعلق ترمیمی بل کی کثرت رائے سے منظوری دے دی ہے۔

قومی اسمبلی میں موجود 255 ارکان نے فوجی عدالتوں کی مدت میں دوسال کی توسیع کے لیے آئین میں اٹھائیسویں ترمیم کے بل کے حق میں ووٹ دیا جبکہ چار نے اس کی مخالفت کی ہے۔اب اس بل کو ایوان بالا سینیٹ میں پیش کیا جائے گا اور اس کی منظوری کے بعد یہ قانون بن جائے گا۔

قومی اسمبلی میں یہ بل وزیر قانون وانصاف زاہد حامد نے پیش کیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ ’’ ملک میں اس وقت بھی غیر معمولی حالات موجود ہیں جو مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے خصوصی اقدامات کے متقاضی ہیں‘‘۔انھوں نے کہا کہ اکیسواں ترمیمی ایکٹ مجریہ 2015ء ،اس کی ایک ذیلی شق کے تحت دو سال کے لیے منظور کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ پاکستان آرمی ایکٹ مجریہ 1952 کے تحت دہشت گردی سے متعلق مقدمات کی تیز رفتاری سے سماعت کے لیے ایکٹ کی منظوری دی گئی تھی۔

اس بل کے اغراض ومقاصد میں کہا گیا ہے کہ ’’ ان اقدامات سے دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے مثبت نتائج برآمد ہوئے ہیں۔اس لیے یہ تجویز کیا جاتا ہے کہ ان خصوصی اقدامات کو اس آئینی ترمیمی بل کے ذریعے مزید دو سال کے لیے جاری رکھا جائے‘‘۔ ایوان نے اس سے پہلے پاکستان آرمی کے ترمیمی ایکٹ 2017ء کی بھی منظوری دی ہے۔

قومی اسمبلی میں حکومت کی اتحادی جماعت جمعیت العلماء اسلام (ف) کے ارکان ان ترمیمی بلوں پر رائے شماری کے وقت اجلاس سے غیر حاضر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انھیں بل کی زبان کے حوالے سے تحفظات ہیں اور خاص طور پر اس جملے:’’ مذہب کے نام پر دہشت گردی‘‘پر اعتراض ہے۔

پاکستان مسلم لیگ (ضیاء) کے ایم این اے اعجاز الحق نے اپنی تقریر میں حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر قومی لائحہ عمل ( نیشنل ایکشن پلان) پر اس کی اصل روح کے مطابق عمل درآمد کیا جاتا تو آج فوجی عدالتوں کو بحال کرنے کی نوبت نہ آتی۔

سینیٹ سے منظوری کی صورت میں اس ایکٹ کے تحت فوجی عدالتوں کی آئینی مدت 7 جنوری 2017ء سے شروع ہوگی۔اسی تاریخ کو دو سال قبل قائم کی گئی فوجی عدالتوں کی مدت ختم ہوگئی تھی اور اس کے بعد حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان فوجی عدالتوں کی مدت میں مزید دو سال کی توسیع کے لیے مذاکرات ہوتے رہے ہیں۔حزب اختلاف کی بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی پہلے فوجی عدالتوں کی بحالی کی مخالفت کرتی رہی ہے لیکن پھر اس نے بھی اپنے چار مطالبات پورے ہونے پر ان کی حمایت کردی تھی۔