.

سزایافتہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیوکی آرمی چیف سے رحم کی اپیل

را کے ایجنٹ کی پاکستان میں تخریبی سرگرمیوں میں ملوّث ہونے کے اعترافات پر مبنی نئی ویڈیو جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سزا یافتہ جاسوس کلبھوشن سدھیر یادیو نے جمعرات کو جاری کردہ ایک نئی ویڈیو میں پاکستان میں تخریبی اور دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوّث ہونے کا ایک مرتبہ پھر اعتراف کیا ہے اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے رحم کی اپیل کی ہے اور ان سے درخواست کی ہے کہ اس کو سنائی گئی سزائے موت معاف کردی جائے گی۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے کلبھوشن یادیو کی دس منٹ دورانیے کی یہ ویڈیو جاری کی ہے۔اس میں اس نے اعتراف کیا ہے کہ بھارت کی خفیہ ایجنسی ریسرچ اینڈ اینالسیس ونگ ( را) نے اس کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی کی مختلف سرگرمیوں کو اسپانسر کیا تھا۔اس نے خاص طور پر بلوچ علاحدگی پسندوں کو تشدد پر اکسایا تھا اور بلوچستان میں ہزارہ شیعہ کمیونٹی پر فرقہ ورانہ بنیاد پر دہشت گردی کے حملوں میں بھی اسی کا ہاتھ کارفرما تھا۔

یادیو کے مطابق را کے ایک اور ایجنٹ انیل کمار نے ہزارہ اور شیعہ شہریوں اور بالخصوص افغانستان ،پاکستان اور ایران کے درمیان سفر کرنے والے شیعہ زائرین پر متشدد حملوں کی پشت پناہی کی تھی۔اس علاقے میں دہشت گردی کی کارروائیوں کا مقصد عدم استحکام پیدا کرنا اور پاکستان کے عوام کے ذہنوں میں خوف پیدا کرنا تھا۔مسٹر یادیو کے بہ قول کراچی میں سپرنٹنڈینٹ پولیس ( ایس پی) چودھری اسلم کے قتل کے واقعے میں بھی را ملوث تھی۔

اس نے بتایا ہے کہ بلوچستان میں پاک فوج کے ایک ذیلی ادارے فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن ( ایف ڈبلیو او) کے ورکروں پر حملوں ،کوئٹہ ،تربت اور بلوچستان کے مختلف شہروں میں بلوچ قوم پرستوں کے بارودی سرنگوں یا دھماکا خیز مواد کے ذریعے حملوں میں براہ راست را کا ہاتھ کارفرما تھا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق سدھیر یادیو نے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ سے رحم کی اپیل میں کہا ہے کہ اس کو پاکستان میں جاسوسی کی سرگرمیوں ، دہشت گردی اور تخریبی کارروائیوں میں ملوث ہونے کے جرائم میں معاف کردیا جائے۔اس نے کہا ہے کہ اس کو تخریبی کارروائیوں کے نتیجے میں ہونے والے بہت زیادہ انسانی جانوں کے ضیاع اور املاک کے نقصانات پر پچھتاوا ہے۔

واضح رہے کہ بھارتی جاسوس نے قبل ازیں اپنی سزا ئے موت کے خلاف فوج کی ایک اپیل عدالت میں درخواست دائر کی تھی لیکن اس کی یہ اپیل مسترد کردی گئی تھی۔قانون کے تحت اب اس نے آرمی چیف سے رحم کی اپیل کی ہے۔اگر وہ بھی اس کو مسترد کردیتے ہیں تو پھر وہ صدر ممنون حسین کو اپیل کرسکتا ہے۔

اس نئی ویڈیو میں بھی کلبھوشن یادیو نے اپنی سابقہ ویڈیو کی طرح بھارتی بحریہ کے ایک کمیشنڈ افسر کے طور پر خود کو متعارف کرایا ہے۔وہ بتا تا ہے کہ اس کا عرفی نام حسین مبارک پٹیل تھا اور وہ اسی نام سے ایران کے ساحلی شہر چاہ بہار میں کئی سال تک مقیم رہا تھا اور وہاں ایک تجارتی کمپنی چلاتا رہا تھا۔وہ دو مرتبہ 2005ء اور 2006ء میں کراچی شہر میں آیا تھا اور اس کی آمد کا مقصد پاکستان کی بحری تنصیبات اور بحری جہازوں سے متعلق معلومات اکٹھی کرنا تھا۔

پھر اس کی خدمات را نے حاصل کرلی تھیں اور اس کو ساحل مکران ، کراچی اور اندرون بلوچستان بالخصوص تربت اور کوئٹہ میں تخریبی سرگرمیوں کو منظم کرنے اور مربوط بنانے کی ذمے داری سونپی گئی تھی۔اس دوران میں اس کی اور انیل کمار کی را کے ایک اور ایجنٹ الوک جوشی سے ملاقات ہوئی تھی جس میں مکران ساحل کے ساتھ ساتھ اور کراچی میں را کی سرگرمیوں کو حتمی شکل دی گئی تھی۔

اس نے بلوچ علاحدگی پسندوں اور تخریب کار عناصر سے ملاقاتوں کا بھی اعتراف کیاہے اور کہا ہے ان کا ہمیشہ یہ مقصد ہوتا تھا کہ انھیں بلوچستان میں دہشت گردی کی سرگرمیوں کو انجام دینے کے لیے مناسب ہدایات دی جاسکیں اور ان کی ضروریات کو پورا کیا جاسکے۔اس کے بہ قول را اور اس کے ایجنٹوں کی ان تمام تخریبی کارروائیوں کا مقصد پاک چین اقتصادی راہ داری کے منصوبے کو سبوتاژ کرنا اور اس علاقے میں عدم استحکام پیدا کرنا تھا۔