.

’’عدالتِ عظمیٰ کی بینچ جے آئی ٹی کے حاصلات پر عمل درآمد کی پابند نہیں‘‘

پاناما پیپرز اور منی لانڈرنگ پر تحقیقاتی رپورٹ کی سماعت ،حکمراں جماعت نے اعتراضات جمع کرادیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عدالت ِعظمیٰ کی پاناما پیپرز کیس کی سماعت کرنے والی بینچ کے رکن جسٹس اعجازالاحسن نے کہا ہے کہ ’’عدالت مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی رپورٹ کے حاصلات پر عمل درآمد کی پابند نہیں ہے۔وکلاء عدالت کو یہ بتائیں کہ اس کو ایسا کیونکر کرنا چاہیے‘‘۔

انھوں نے یہ ریمارکس سوموار کے روز تین رکنی بینچ کے روبرو پاناما پیپرز کیس کی کوئی دوماہ کے بعد دوبارہ سماعت کے آغاز کے موقع پر دیے ہیں۔عدالت نے آج مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی شریف خاندان کی منی لانڈرنگ اور اثاثوں کی چھان بین سے متعلق حتمی رپورٹ پر فریقین کے وکلاء کے دلائل کی سماعت شروع کی ہے جبکہ حکمراں شریف خاندان کے وکیل نے اس رپورٹ کے حوالے سے اپنے اعتراضات دائر کیے ہیں۔وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے وکیل نے الگ سے بھی اپنے اعتراضات جمع کرائے ہیں اور ان میں جے آئی ٹی کی رپورٹ کو یکسر مسترد کردیا گیا ہے اور یہ کہا گیا ہے کہ ٹیم نے اپنے مینڈیٹ سے تجاوز کیا ہے۔

سپریم کورٹ کے سینیر جج جناب جسٹس اعجاز افضل خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ اس کیس کی سماعت کررہا ہے۔بینچ کے تیسرے رکن جسٹس عظمت سعید ہیں۔انھوں نے آج پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) ، جماعت اسلامی اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد کے وکلاء کے دلائل سنے ہیں۔پی ٹی آئی کے وکیل نعیم بخاری نے عدالت سے استدعا کی کہ وزیراعظم نواز شریف کو پوچھ تاچھ کے لیے طلب کیا جائے۔

عدالت نے مقدمے کی سماعت کل منگل تک ملتوی کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ نواز کے وکلاء کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے دلائل پیش کریں۔ بینچ نے قومی احتساب بیورو (نیب) اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو ( ایف بی آر) کو بھی ہدایت کی ہے کہ وہ آیندہ سماعت پر عدالت میں حاضر ہوں۔

پی ٹی آئی کے وکیل کے دلائل

نعیم بخاری نے دلائل دیتے ہوئے جے آئی ٹی کی رپورٹ کے مختلف حاصلات کو پیش کیا۔انھوں نے وزیراعظم نواز شریف کے چچا زاد اور اس کیس میں ایک اہم مدعا علیہ طارق شفیع کے جعلی بیان حلفی کا بھی حوالہ دیا۔

انھوں نے کہا کہ طارق شفیع نے قبل ازیں 1980ء میں اہلی اسٹیل کمپنی دبئی کے مالک عبداللہ قائد اہلی کے ساتھ طے پائے معاہدے کے بارے میں ایک جعلی بیان حلفی ریکارڈ کرایا تھا۔اس کمپنی میں طارق شفیع کے 25 فی صد حصص تھے۔

ان کے بیان کے مطابق شریف خاندان کی گلف اسٹیل ملز کی فروخت کے وقت طے پائے معاہدے کے مطابق طارق شفیع کے اہلی کی کمپنی میں حصص کو فروخت کردیا گیا تھا اور اس کے لیے ایک کروڑ بیس لاکھ درہم کی نقد رقم پر اتفاق کیا گیا تھا۔

طارق شفیع نے اپنے بیان میں یہ کہا تھا کہ انھوں نے عبداللہ قائد اہلی سے اقساط میں یہ بھاری رقم وصول کرنے کے بعد قطر کے شیخ فہد بن جاسم بن جابر آل ثانی کے پاس جمع کرادی تھی۔جے آئی ٹی نے متحدہ عرب امارات سے قانونی معاونت طلب کی تھی اور اس کی تحقیقات سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ ایک کروڑ بیس لاکھ درہم کی رقم کبھی یواے ای سے باہر منتقل ہی نہیں ہوئی تھی۔

نعیم بخاری نے یہ بھی موقف اختیار کیا کہ گلف اسٹیل ملز کے تین کروڑ تیس لاکھ درہم میں فروخت کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا لیکن شریف خاندان اس معاملے میں اپنا موقف واضح کرنے میں ناکام رہا ہے۔

جعلی خط اور من گھڑت کہانی؟

اس موقع پر جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ’’ جے آئی ٹی کے مطابق قطر میں سرمایہ کاری کے لیے شریف خاندان کے پاس فنڈز دستیاب نہیں تھے‘‘۔نعیم بخاری نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ قطر کے سابق وزیراعظم شیخ حمد بن جاسم بن جابر آل ثانی کی جانب سے سپریم کورٹ میں پیش کیا گیا خط جعلی ثابت ہوچکا ہے۔اس لیے اس خط کے گرد گھومنے والی کہانی بھی من گھڑت ہے۔

اس پر جسٹس اعجاز افضل خان نے وکیل سے استفسار کیا کہ ’’ کیا خط جعلی تھا یا اس خط کے گرد گھومنے والی کہانی من گھڑت تھی‘‘۔اس کے جواب میں نعیم بخاری نے کہا کہ دونوں ہی خود تراشیدہ ہیں۔ان کے بہ قول جے آئی ٹی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم سعودی عرب میں قائم کمپنی ہل میٹلز کے مستفید مالک ہیں۔

بینچ کے جج صاحبان نے جے آئی ٹی کی حاصل کردہ دستاویزات کے ذرائع کے بارے میں بھی استفسار کیا اور یہ ریمارکس دیے کہ ان ذرائع کے بارے میں جانے بغیر کیا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ دستاویزات درست ہیں۔جسٹس اعجاز افضل خان نے کہا کہ اس امر کی بھی تصدیق ہونا باقی ہے کہ آیا بیرون ملک سے پاکستان منتقل کی گئی دستاویزات قانونی ذرائع سے آئی ہیں۔

جماعت اسلامی کے وکیل نے اپنے دلائل کے دوران جے آئی ٹی کی رپورٹ کے حاصلات کو اجاگر کرنے کی کوشش کی تو جج صاحبان نے انھیں باور کرایا کہ وہ رپورٹ کے مشمولہ مواد سے آگاہ ہیں۔اس لیے وہ اپنے دلائل پیش کریں۔

وزیراعظم نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے اپنے دلائل میں کہا کہ جے آئی ٹی نے دستاویزات کے حصول کے لیے غیرقانونی ذرائع اختیار کیے ہیں اور اس نے اپنے مینڈیٹ سے تجاوز کیا ہے۔اس کے علاوہ ان کی حتمی رپورٹ کے ساتھ جمع کرائی گئی دستاویزات کو بھی ثبوت کے طور پر نہیں دیکھا جاسکتا۔اس لیے انھوں نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ اس رپورٹ کو مسترد کردیا جائے۔

کیس کی سماعت کے بعد پاکستان مسلم لیگ نواز کی رکن اسمبلی اور وزیر مملکت برائے اطلاعات مریم اورنگ زیب نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ’’ جے آئی ٹی کی رپورٹ کوئی سپریم کورٹ کا فیصلہ نہیں ہے اور عدالت عظمیٰ اس کی سفارشات کی پابند بھی نہیں ہے۔عدالت پاکستان کے قانون اور آئین کے مطابق کام کررہی ہے‘‘۔انھوں نے کہا کہ رپورٹ کے دسویں حصے کو ابھی تک خفیہ رکھا جارہا ہے اور عدالت کے حکم کے برعکس ابھی تک تحقیقات جاری ہیں۔