.

دہشت گردی مخالف جنگ میں پاکستان کا کردار تسلیم کیا جانا چاہیے : چین

بعض ممالک دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کو اس کی قربانیوں کا کریڈٹ دیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے کہا ہے کہ بعض ممالک کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کا کردار تسلیم کرنے اور اس کو کریڈٹ دینے کی ضرورت ہے۔

وہ بیجنگ میں پاکستان کے وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف سے بات چیت کے بعد مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ خواجہ آصف افغانستان اور جنوبی ایشیا کے بارے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی پالیسی کے بارے میں مشاورت کے لیے خطے کے ملکوں کے دورے پر ہیں اور وہ جمعہ کو پہلے مرحلے میں بیجنگ پہنچے ہیں۔

وانگ یی نے کہا کہ پاکستان اور چین بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی منظر نامے میں ایک ساتھ کھڑے ہیں۔ چین پاکستان کی قومی سالمیت اور خود مختاری کے تحفظ کے لیے حمایت کرتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ عالمی برادری کو دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پاکستان کی کوششوں کو تسلیم کرنا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ ’’ جب انسداد دہشت گردی کا معاملہ آتا ہے تو پاکستان نے دوسرے ممالک کے مقابلے میں ایک واضح شعور کے ساتھ بھرپور اقدامات کیے ہیں۔بعض ممالک کو پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کردار پر مکمل کریڈٹ دینا چاہیے اور وہ اس کا حق دار ہے‘‘۔

چینی وزیر خارجہ نے کسی ملک کا نام تو نہیں لیا لیکن ان کا اشارہ امریکا اور بھارت ایسے ممالک کی جانب ہی تھا۔ان کے اس بیان سے قبل بریکس ممالک کے اسی ہفتے سربراہ اجلاس کے بعد جاری کردہ اعلامیے میں چین نے برازیل ،روس ، بھارت اور جنوبی افریقا کے ساتھ مل کر یہ کہا تھا کہ پاکستان میں موجود بعض جنگجو گروپ علاقائی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں ۔ انھوں نے ان گروپوں کے سرپرستوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔

چینی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ان کا ملک پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات میں بہتری کے لیے کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔افغانستان میں امن پاکستان اور چین کے علاوہ پورے خطے میں مفاد میں ہے۔

اس موقع پر خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان اور چین نے اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ افغان تنازع کا سیاسی حل تلاش کیا جانا چاہیے اور اس مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔انھوں نے افغان تنازع کے مذاکرات کے ذریعے سیاسی حل کے لیے چین کے تعمیری کردار کو سراہا اور کہا کہ دونوں ممالک تنازعے کے حل کے لیے کردار ادا کرسکتے ہیں۔

انھوں نے واضح کیا کہ ’’پاکستان ’’ایک چین‘‘ کی پالیسی میں پختہ یقین رکھتا ہے اور ہم تائیوان ، تبت ، سنکیانگ اور چین کے جنوبی سمندر ایسے بنیادی ایشوز میں چین کی حمایت کرتے ہیں‘‘۔

انھوں نے صحافیوں کو بتایا کہ دہشت گرد گروپوں کے خلاف (مسلح افواج کے )آپریشن ضرب عضب اور ردّ الفساد کے مثبت نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ان کے دوران میں مشرقی ترکستان اسلامی تحریک ( ای ٹی آئی ایم) کے جنگجوؤں کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا۔ چین اس گروپ پر اپنے مغربی صوبے سنکیانگ میں حملوں کے الزامات عاید کرتا رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ گروپ نہ صرف چین بلکہ پاکستان کے لیے بھی ایک خطرہ ہے۔

خواجہ آصف نے بتایا کہ وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے موقع پر افغان وزیر خارجہ سے ملاقات کریں گے اور یہ صدر ٹرمپ کی اعلان کردہ نئی افغان پالیسی کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان اعلیٰ سطح کا پہلا رابطہ ہوگا۔

واضح رہے کہ چین اور روس دونوں نے امریکا کے پاکستان کے بارے میں موقف کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور افغانستان میں قیام امن کے لیے پاکستان کے کردار کی اہمیت پر زوردیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کو تسلیم کیا جانا چاہیے۔