بے نظیر بھٹو اور مرتضیٰ بھٹو کو آصف علی زرداری نے قتل کرایا تھا؟

سوچنے کی بات یہ ہے ،بے نظیر کے قتل سے سب سے زیادہ فائدہ کس کو پہنچا تھا: پرویز مشرف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

پاکستان کے سابق فوجی صدر ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف نے ایک اور سابق صدر اور حزب اختلاف کی جماعت پیپلز پارٹی ( پی پی پی) کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری پر سنگین الزامات عاید کیے ہیں اور انھیں ان کی اہلیہ اور سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے قتل کا ذمے دار قرار دیا ہے۔

پرویز مشرف نے بدھ کے روز اپنے فیس بُک صفحے پر ایک ویڈیو پوسٹ کی ہے۔اس میں انھوں نے کھلے لفظوں میں کہا ہے کہ ’’ آصف علی زرداری بے نظیر بھٹو اور ان کے بھائی مرتضیٰ بھٹو کے قتل میں ملوث ہیں‘‘۔ویڈیو میں انھوں نے بے نظیر اور زرداری کے تین بچوں ، بھٹو خاندان اور سندھ کے عوام کو مخاطب کیا ہے۔

اس میں وہ یہ کہہ رہے ہیں:’’ جب بھی کوئی قتل ہوتا ہے تو پہلے نمبر پر یہ چیز دیکھی جاتی ہے کہ اس موت سے سب سے زیادہ فائدہ کس کو پہنچے گا ۔اس کیس میں تو میں سب کچھ ہار گیا تھا۔میں اس وقت برسر اقتدار تھا اور اس قتل نے میری حکومت کو مشکل صورت حال سے دوچار کردیا تھا‘‘۔

’’ صرف ایک شخص کو بے نظیر بھٹو کے قتل کا سب سے زیادہ پہنچا تھا اور وہ آصف علی زرداری تھے۔وہ اس کے بعد پانچ سال تک برسر اقتدار رہے تھے تو انھوں نے اس دوران میں اس کیس پر توجہ کیوں دی؟ تحقیقات کو کیوں آگے نہیں بڑھایا ؟ کیونکہ وہ بے نظیر بھٹو کے قتل میں ملوث تھے‘‘۔

پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ یہ ان کا تجزیہ ہے اور وہ مزید کہتے ہیں:’’ بیت اللہ محسود اور اس کے لوگ اس قتل میں ملوث تھے لیکن انھیں بے نظیر بھٹو کو ہدف بنانے کا کس نے کہا تھا۔یہ میں تو نہیں ہوسکتا تھا۔یہ گروپ مجھ سے نفرت کرتا تھا اور میں ان سے کرتا تھا‘‘۔

سابق صدر نے مزید کہا کہ ’’یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ میں بیت اللہ محسود کو قتل کرنا چاہتا تھا اور حکومتِ پاکستان نے ایسا ہی کیا تھا ۔اس کے گروپ نے مجھے قتل کرنے کی کوشش کی تھی‘‘۔

انھوں نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ ’’ آصف علی زرداری کے سابق افغان صدر حامد کرزئی سے مضبوط تعلقات استوار تھے اور وہ بیت اللہ محسود اور اس کے لوگوں پر اثرانداز ہونے کے لیے اس تعلق کو استعمال کرسکتے تھے‘‘۔

پرویز مشرف نے مزید کہا کہ ’’ وہ مجھ پر بے نظیر بھٹو کو مناسب سکیورٹی مہیا نہ کرنے کے الزامات عاید کررہے ہیں ۔یہ میری ذمے داری نہیں تھی۔یہاں میرا سوال یہ ہے کہ ایک بلٹ اور بم پروف کار کی چھت کا سوراخ کس نے کھولا تھا۔دوسری بات یہ ہے کہ بے نظیر کی اپنی بہت زیادہ سکیورٹی تھی اور وہ پہلے ہی ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرچکی تھیں اور انھیں وہاں کوئی نقصان نہیں پہنچا تھا۔ وہ جب جلسہ گاہ سے باہر نکل رہی تھیں تو کسی نے انھیں فون کیا اور بالا صرار یہ کہا کہ وہ کار کی چھت میں سے کھڑی ہو کر لوگوں کے نعروں کاجواب دیں۔ان کے قتل کے دو سال بعد تک ان کا فون نہیں ملا تھا‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں