.

لبیک یا رسول اللہ تحریک کو دھرنا ختم کرنے کے لئے 24 گھنٹے کی مزید مہلت

حکومت ٹکراو نہیں چاہتی، عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کرانا ضروری ہے: احسن اقبال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وفاقی دارلحکومت اسلام آباد انتظامیہ کی جانب سے جڑواں شہر راولپنڈی کے سنگم فیض آباد انٹرچینج پر دھرنا دینے والوں کو دی گئی کل رات 10 بجے تک کی ڈیڈ لائن ختم ہوگئی لیکن مذہبی و سیاسی جماعت کا دھرنا تاحال جاری ہے جبکہ وزیر داخلہ احسن اقبال کا کہنا ہے کہ دھرنا دینے والوں کو مزید وقت دیا جائے گا، تاکہ معاملے کو افہام تفہیم سے حل کیا جاسکے۔

سرکاری ٹی وی کے مطابق وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ رات گئے ہم دھرنے کے شرکاء کے ساتھ مذاکرات کرتے رہے لیکن پیش رفت نہیں ہوئی۔ اس موقع پر احسن اقبال کا کہنا تھا کہ ہائیکورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد کروانا قانونی تقاضا ہے۔ ہم کسی قسم کا ٹکراؤ نہیں چاہتے۔ انھوں نے کہا ’ختم نبوت کا قانون پارلیمان سے منظور کیا جا چکا ہے جسے تبدیل نہیں کیا جا سکتا اور اس کی منظوری کے بعد دھرنا بلاجواز ہے۔ ‘انھوں نے امید ظاہر کی کہ معاملات احسن طریقے سے نمٹ جائیں گے۔ ساتھ ہی انھوں نے مذہبی رہنماؤں اور مشائخ کرام سے بھی کردار ادا کرنے کی اپیل کی۔

اس سے قبل اسلام آباد ہائی کورٹ نے ضلعی انتظامیہ کو پُرامن یا بزور طاقت ہر صورت دھرنا ختم کرانے کی ہدایت کر رکھی تھی جبکہ وفاقی حکومت کی جانب سے دھرنا مظاہرین کو دی گئی ڈیڈ لائن بھی گزشتہ رات 10 بجے ختم ہو چکی تھی۔ راولپنڈی اورا سلام آباد کو ملانے والے فیض آباد انٹر چینج پر جاری دھرنا تیرہویں دن میں داخل ہو گیا ہے۔ لبیک یا رسول اللہ تحریک کا مطالبہ ہے کہ قانون سے ختم نبوت کی شق ختم کرانے کے ذمہ دار وزیر زاہد حامد کو ان کے عہدے سے ہٹایا جائے۔

عدالتی حکم پر دھرنا ختم کرانے کے لیے اسلام آباد پو لیس، ایف سی اور رینجرز کے تازہ دم دستے الرٹ پہنچ گئے۔ اہلکاروں نے اپنی گارڈ شیلڈز بجائیں، آنسو گیس کے گولے تیار کیے اور گیس ماسک پہن لیے، ایمبولینس اور بکتر بند گاڑیاں بھی موقع پر موجود ہیں۔

انتظامیہ نے جڑواں شہروں کےاسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی جبکہ فیض آباد اور نزدیکی سیکٹر آئی ایٹ کے مکینوں کو غیر ضروری گھروں سے نہ نکلنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ مری روڈ پر دکانداروں کو بھی آج دکانیں نہ کھولنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

ممکنہ آپریشن کے لیے پولیس کے علاوہ ایف سی اور رینجرز کے دستے بھی الرٹ ہیں، پولیس، ایف سی اورقانون نافذ کرنے والے اداروں کے 5 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔