.

جماعت الدعوہ سمیت کالعدم جماعتوں کے چندہ جمع کرنے پر پابندی

فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کے حافظ سعید کے سر کی قیمت ایک کروڑ ڈالر مقرر ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کی وفاقی حکومت نے جماعت الدعوۃ، لشکرطیبہ اور فلاح انسانیت سمیت دیگر کالعدم جماعتوں کے عطیات اور چندہ جمع کرنے پرپابندی عائد کردی ہے۔ اسلام آباد میں ضلعی انتظامیہ نے تمام کالعدم تنظیموں کے چندہ جمع کرنے پر دفعہ 144 کا نفاز کردیا ہے۔

سیکیورٹی اینڈ ایکسچنج کمیشن (ایس ای سی پی) نے اقوام متحدہ کی واچ لسٹ میں شامل جماعتہ الدعوة سمیت دیگر کالعدم تنظیموں کے عطیات اور چندہ جمع کرنے پر پابندی عائد کرنے کا نوٹی فکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔ نوٹی فکیشن کے مطابق خلاف ورزی کرنے والوں پر ایک کروڑ روپے تک کا جرمانہ کیا جائے گا۔

اسلام آباد میں ضلعی انتظامیہ کے افسر ڈپٹی کمشنر کی طرف سے جاری ایک نوٹیفکیشن کے مطابق ضلعی انتظامیہ نے اس سلسلہ میں تمام کالعدم تنظیموں پر چندہ جمع کرنے کے حوالے سے دفعہ 144 کا نفاذ کردیا ہے اور تمام اداروں کو اس حوالے سے ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ ان کالعدم تنظیموں پر سختی سے نظر رکھی جائے اور ان کو فلاحی کاموں سمیت کسی بھی طرح سے چندہ جمع کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔

ڈپٹی کمشنر کے نوٹیفکیشن کے مطابق کالعدم تنظمیں کسی قسم کی فنڈ ریزنگ، بینرز یا تقریبات نہیں کرسکیں گی۔ اس پابندی کا اطلاق فوری طور پر ہو گا اور یہ دو ماہ تک لاگو رہے گا ۔

نوٹیفکیشن میں ڈپٹی کمشنر نے تمام کالعدم تنظمیوں کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ تمام اسسٹنٹ کمشنرز اپنے اپنے علاقوں کا جائزہ لیں گے اور دو روز میں تمام اسسٹنٹ کمشنرز اپنی رپورٹس جمع کرائیں گے ۔

ڈپٹی کمشنر نے 71 کالعدم تنظیموں کی فہرست بھی اسٹنٹ کمشنرز کو جاری کردی ہے تاکہ کسی بھی کالعدم تنظیم کو کام کرنے کا موقع نہ دیا جائے۔

کالعدم تنظیموں پر کام کرنے اور چندہ لینے پر پابندی اسی وقت عائد ہو جاتی ہے جب انہیں کالعدم قرار دیا جاتا ہے لیکن بیشتر تنظیمیں حکومتی نظروں کے سامنے آزادانہ کام کر رہی ہیں۔ ان میں جماعت الدعوہ کی فلاح انسانیت فاؤنڈیشن بھی شامل ہے جو ایک عرصہ سے پنجاب اور خیبرپختونخواہ کے مختلف علاقوں میں آزادانہ کام کر رہی ہیں۔

فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کے حافظ سعید کے سر کی قیمت ایک کروڑ ڈالر مقرر کی گئی ہے اور ایک عرصہ سے وہ نظربند تھے۔ تاہم عدالتی حکم پر اس وقت وہ رہا ہیں اور ملی مسلم لیگ نامی جماعت کے پلیٹ فارم سے آزادانہ طور پر سیاسی سرگرمیوں میں بھی حصہ لے رہے ہیں۔