.

صدر مملکت سے امام مسجد الحرام شیخ صالح بن محمد الطالب کی ملاقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

صدر ممنون حسین نے عالم اسلام کے مختلف حصوں میں بد امنی اور عدم استحکام کے شکار عوام کی مدد اور بحالی کے لیے ایک نظام کے قیام کی تجویز پیش کی ہے اور کہا ہے کہ اس سلسلے میں پاکستان اور سعودی عرب سمیت پورے عالم اسلام کو سرگرمی سے کام کرنا چاہیے۔

ایوان صدر اسلام آباد میں امام حرم مکی شیخ صالح بن محمد الطالب سے بات گفتگو کرتے ہوئےصدر مملکت نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب تمام عالمی اور علاقائی امور پر ایک جیسے خیالات رکھتے ہیں اور بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر ایک دوسرے کے ساتھ بھرپور تعاون کرتے ہیں ۔ صدر مملکت نے کہا کہ سعودی حکومت حج اور عمرے کے لیے ہر سال بہترین انتظامات کرتی ہے جس کے لیے میں پاکستانی عوام اور عالم اسلام کی طرف سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔

صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان سعودی حکومت کے وژن 20230 کی مکمل حمایت کرتا ہے جس سے علاقے میں استحکام پیدا ہوگا اور معیشت مضبوط ہو گی۔ انھوں نے کہا کہ گزشتہ برسوں کے دوران دنیا میں اسلام فوبیا پیدا ہوا ہے جس کے سدباب کی ضرورت ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ عالم اسلام کے مختلف حصوں میں بدامنی کو فروغ دیا گیا، مسلم دنیا کو اس سے سبق حاصل کرنا چاہیے اور اس کے خاتمے کے لیے باہمی اتحاد سے کام لینا چاہیے۔ صدر مملکت نے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کا تعاون ہمیشہ برقرار رہے گا ۔ صدر مملکت نے سعودی شاہ سلمان ، ولی عہد محمد بن سلمان اور سعودی عوام کیلیے نیک تمناؤں کا پیغام بھی دیا ۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے امام حرم مکی نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کا رشتہ محض ایک سفارتی رشتہ نہیں ہے بلکہ ایمان کا رشتہ ہے اور پاکستان سعودی عرب کی طاقت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب عالم اسلام کی بڑی طاقتیں ہیں جن کی قیادت پر ہمیں مکمل اعتماد ہے۔ وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف، وفاقی وزیر مواصلات عبدالکریم، سینیٹر ساجد میر، سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی اور دیگر اعلی حکام بھی ملاقات میں موجود تھے۔