اڈیالا جیل کے حکام کا نواز شریف سے وکلاء کو ملاقات کی اجازت دینے سے انکار
جیل حکام کے رویّے کے پیش نظر وکلاء کے لیے آزادانہ اور پیشہ ورانہ انداز میں کام کرنا مشکل ہوگا : خواجہ حارث
راول پنڈی کی اڈیالا جیل کے حکام نے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف ، ان کی بیٹی مریم نواز اور داماد ریٹائرڈ کیپٹن محمد صفدر سے ان کے وکلاء کی طے شدہ ملاقات منسوخ کردی ہے اور ان کی درخواست کے باوجود مستقبل میں ملاقات کی تاریخ دینے سے انکار کردیا ہے۔
نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے بدھ کو احتساب عدالت کے جج کو بتایا تھا کہ جیل کے حکام انھیں ان کے مؤکل تک رسائی نہیں دے رہے ہیں ۔عدالت میں مقدمے کی سماعت کے بعد جیل سپرنٹنڈنٹ نے خواجہ محمد حارث سے فون پر رابطہ کیا تھا اور ان کی ٹیم کو مؤکلوں سے ملاقات کی اجازت دے دی تھی اور جمعرات کو دن گیارہ بجے ان کی نواز شریف سے ملاقات کا وقت طے کیا تھا۔
لیکن جب قانونی ٹیم گیار ہ بجے اڈیا لا جیل پہنچی تو سپرنٹنڈنٹ نے انھیں مطلع کیا کہ ان کی طے شدہ ملاقات منسوخ کردی گئی ہے۔خواجہ حارث کے بہ قول اڈیالا جیل کے ایک اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ جیل نے اس فیصلے کی یہ وضاحت کی ہے کہ جمعرات کا دن میاں نواز شریف کی خاندان کے افراد سے ملاقات کے لیے مختص ہے ۔
ان کا کہنا ہے کہ جیل انتظامیہ نے کسی اور تاریخ کو ملاقات کی تجویز پیش کرنے کے لیے کہا ہے لیکن وہ یقین دہانی کرانے کو تیار نہیں کہ اس تاریخ کو بھی ایسا نہیں ہوگا۔خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ اگر جیل انتظامیہ کا اسی طرح کا رویہ جاری رہا تو پھر پیشہ ور وکلا ء کا آزادانہ طور پر کام کرنا مشکل ہوگا۔
دریں اثناء اڈیالا جیل میں سابق وزیراعظم نواز شریف اور مریم نواز سے گورنر سندھ محمد زبیر اور راجا ظفرالحق سمیت مسلم لیگ نواز کے سینیر رہ نماؤں اور کارکنان نے ملاقات کی ہے۔
جیل ذرائع کے مطابق ن لیگ کے رہنماؤں آصف کرمانی، جاوید ہاشمی، پرویز رشید، ایاز صادق، گورنر خیبرپختونخوا اقبال ظفر جھگڑا اور گیارہ وکلا ء کے نام بھی ملاقاتیوں کی فہرست میں شامل تھے ۔صوبہ پنجاب کے ضلع اوکاڑہ کی تحصیل دیپالپور سے تعلق رکھنے والے ایک نابینا کارکن نےبھی نواز شریف سے ملاقات کی ۔سابق وزیراعظم سے ملاقاتیوں کی آمد کے پیش نظر اڈیالا جیل کے باہر پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی۔