.

ڈیرہ اسماعیل خان: پی ٹی آئی کے امیدوار اکرام اللہ گنڈاپور خودکش بم حملے میں جاں بحق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) کےانتخابی امیدوار اکرام اللہ گنڈاپور خودکش بم دھماکے میں جاں بحق ہوگئے ہیں۔

اکرام اللہ گنڈاپور 25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات میں صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی کے 99 سے پی ٹی آئی کے امیدوار تھے۔وہ اتوار کی صبح ڈیرہ اسماعیل خان کی تحصیل کولاچی میں واقع اپنی رہائش گاہ کے باہر خودکش بم دھماکے میں شدید زخمی ہوگئے تھے،انھیں کمبائنڈ ملٹر ی اسپتال ( سی ایم ایچ) ڈی آئی خان منتقل کیا گیا تھا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسے ہیں۔

ڈی آئی خان کے ضلعی پولیس افسر منظور آفریدی نے بتایا ہے کہ اکرام اللہ خان گنڈاپور پر خودکش حملے کے لیے آٹھ سے دس کلو گرام دھماکا خیز مواد استعمال کیا گیا تھا۔وہ جوں ہی اپنے گھر سے ایک انتخابی جلسے میں شرکت کے لیے نکلے تو حملہ آور بمبار نے ان کی گاڑی کے نزدیک خود کو دھماکے سے اڑا دیا ۔بم دھماکے میں ان کا ڈرائیور اور محافظ شدید زخمی ہوگئے ہیں اور اسپتال میں ان کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔

پولیس کے مطابق خودکش دہشت گرد کے اعضا ء قبضے میں لے لیے گئے جبکہ سیکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر مزید شواہد اکٹھے کر لیے ہیں۔

اکرام اللہ گنڈاپور صوبہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حال ہی میں سبکدوش ہونے والی حکومت میں وزیر زراعت تھے۔وہ ڈیرہ اسماعیل خان سے صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی کے 67 سے ضمنی انتخابات میں منتخب ہوئے تھے۔یہ نشست ان کے بھائی اور سابق صوبائی وزیر قانون اسراراللہ گنڈاپور کے خودکش بم حملے میں جاں بحق ہونے کے بعد خالی ہوئی تھی۔

پی ٹی آئی کے چیئرمین عمرا ن خان اور دوسری جماعتوں کے قائدین نے کولاچی میں دہشت گردی کے بزدلانہ حملے کی مذمت کی ہے اور اکرام اللہ گنڈا پور کی ناگہانی موت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔انھوں نے زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی ہے۔

آج ہی اس صوبے کے ایک اور ضلع بنوں میں جمعیت علماء اسلام کے رہ نما اور متحدہ مجلس عمل کے امیدوار برائے قومی اسمبلی محمد اکرم خان درانی کی گاڑی پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کی ہے لیکن وہ اس حملے میں محفوظ رہے ہیں۔اکرم درانی بنوں سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 35 سے عمران خان کے مقابلے میں الیکشن لڑر ہے ہیں۔گذشتہ دس روز میں ان پر یہ دوسرا قاتلانہ حملہ ہے۔

عام انتخابات کے لیے مہم کے دوران میں اب تک پانچ امیدواروں یا ان کے انتخابی جلسوں پر خود کش بم حملے ہوچکے ہیں۔13 جولائی کو صوبہ بلوچستان کے شہر مستونگ میں بلوچستان عوامی پارٹی کے انتخابی جلسے میں خود کش بم حملے میں سابق وزیراعلیٰ بلوچستان نواب اسلم رئیسانی کے چھوٹے بھائی سراج رئیسانی سمیت کم سے کم ڈیڑھ سو افراد جاں بحق اور اتنے ہی زخمی ہوگئے تھے۔

10 جولائی کو بنوں میں جے یو آئی(ف)کے رہنما اکرم خان درانی کے قافلے کے قریب بم دھماکے کے نتیجے میں پانچ افراد جاں بحق اور 30 زخمی ہوگئے تھے۔ تاہم اکرم درانی اس حملے میں محفوظ رہے تھے ۔اسی روز پشاور کے علاقے یکہ توت میں عوامی نیشنل پارٹی کے جلسے میں اس جماعت کے صوبائی حلقہ پی کے 78 سے انتخابی امیدوار ہارون بلور سمیت 13افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔اس سے تین روز پہلے بنوں میں جے یو آئی کے ایک امیدوار پر بم حملہ کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں سات افراد زخمی ہوگئے تھے۔