.

صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں بم دھماکا ، چار پولیس اہلکار شہید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں سوموار کی شب ایک بم دھماکے میں چار پولیس اہل کار شہید ہوگئے ہیں۔

کوئٹہ کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس عبدالرزاق چیمہ نے بتایا ہے کہ بم دھماکا شہر کے علاقے سیٹلائٹ ٹاؤن میں ایک مارکیٹ میں ہوا ہے۔اس سے پولیس کی گاڑی کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ بم دھماکے میں دو پولیس اہلکار اور سات شہری زخمی بھی ہوئے ہیں۔انھوں نے مزید بتایا ہے کہ بارود ی مواد ایک موٹر سائیکل کے ساتھ نصب تھا اور اس کو سڑک کے کنارے کھڑا کیا گیا تھا۔

فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوا کہ آیا اس بم سے پولیس کی گاڑی کو ہدف بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔کسی گروپ نے اس بم دھماکے کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے۔

دھماکے کی اطلاع ملتے ہی سکیورٹی اہلکاروں نے علاقے کا محاصرہ کر لیا اور امدادی سرگرمیاں شروع کردیں۔ زخمیوں کو سول اسپتال کوئٹہ منتقل کردیا گیا ہے جہاں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔

وزیر اعظم عمران خان نے کوئٹہ میں دہشت گردی کےاس واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے ۔انھوں نے صوبائی حکام سے اس واقعہ کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ انھوں نے ایک بیان میں شہید پولیس اہل کاروں کی بلندیِ درجات کی دعا ہے اورغم زدہ خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔انھوں نے بم دھماکے میں زخمی ہونے والے افراد کو بہترین طبی سہولتیں مہیا کرنے کی ہدایت کی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ رمضان کے مقدس مہینے میں معصوم لوگوں کو نشانہ بنانے والوں کا کوئی دین، مذہب نہیں۔بہ حثیت قوم ہمارے حوصلے بلند ہیں اور ہم دہشت گردی کے عفریت کے مکمل استیصال کے لیے پُرعزم ہیں۔

حزب اختلاف کی جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کے صدر میاں شہباز شریف اور جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے بھی کوئٹہ میں اس بم دھماکے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے اور قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے الگ الگ بیان میں کہا کہ دہشت گردوں نے ایک مرتبہ پھر ملک میں سر اٹھا لیا ہے ،اس لیے سکیورٹی فورسز کو زیادہ چوکنا ہونے کی ضرورت ہے۔

واضح رہے کہ ماہِ صیام کے آغاز کے بعد پاکستان میں دہشت گردی کا یہ چوتھا واقعہ ہے۔ 8مئی کوصوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں حضرت علی ہجویری کے مزار کے باہر خودکش بم دھماکے میں پانچ پولیس اہلکار شہید ہوگئے تھے۔خودکش بمبار نے حملے میں ایلیٹ فورس کی ایک گاڑی کو نشانہ بنایا تھا۔

اسی روز بلوچستان کے ضلع قلعہ عبداللہ میں ایک بم دھماکے میں ایک قبائلی سردار ولی خان اچکزئی سمیت تین افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔

کوئٹہ میں اس بم دھماکے سے دوروز قبل ہفتے کو بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں تین مسلح دہشت گردوں نے پنج ستارہ ہوٹل پرل کانٹی نیٹل پر دھاوا بول دیا تھا۔سکیورٹی فورسز نے اتوار کو کئی گھنٹے کی کارروائی کے بعد ان تینوں دہشت گردوں کو ہلاک کردیا تھا۔دہشت گردوں کے حملے اور ان کے خلاف آپریشن کے دوران میں پاک بحریہ کے ایک سپاہی سمیت پانچ افراد شہید ہوگئے تھے ۔ان میں ایک ہوٹل کا محافظ اور تین ملازمین تھے۔