.

قندیل بلوچ قتل کیس کا فیصلہ: مفتی قوی بری، مقتولہ کے بھائی کو عمر قید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک پاکستانی عدالت نے غیرت کے نام پر قتل کے مقدمے میں مقتولہ کے بھائی کو مجرم قرار دے کر عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ سوشل میڈیا پر شہرت حاصل کرنے والی پاکستانی ماڈل خاتون قندیل بلوچ کو سن 2016 میں قتل کر دیا گیا تھا۔

قندیل بلوچ کے قتل میں ملوث مقتولہ کے بھائی محمد وسیم کو ایک مقامی عدالت کے جج نے مجرم قرار دے کر عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ عدالت نے قتل کی اس واردات میں ملوث دیگر افراد کو بری کر دیا ہے۔ بری ہونے والوں میں مفتی عبدالقوی بھی شامل ہیں۔ مفتی عبدالقوی اور قندیل بلوچ کے درمیان ہونے والی ملاقات کو سوشل میڈیا پر ایک ٹرینڈ کے طور لیا گیا تھا۔

ملتان کی عدالت میں سنائے گئے عدالتی فیصلے کے بعد کمرہٴ عدالت میں موجود مقتولہ قندیل بلوچ کی والدہ نے میڈیا سے بات کرنے سے گریز کیا۔ مقدمے کی کارروائی ملتان کی خصوصی ماڈل کورٹ میں مکمل کی گئی۔

یہ امر اہم ہے کہ قندیل بلوچ کے والدین نے اس قتل میں ملوث اپنے بیٹے کی معافی کی درخواست عدالت میں پیش کی تھی لیکن جج نے اسے ماننے سے انکار کر دیا تھا۔

دوسری جانب پاکستان کے بعض سرگرم حلقے قاتل وسیم کو دی گئی عمر قید کی سزا کو کم قرار دے رہے ہیں اور اُن کا مطالبہ ہے کہ نظرثانی کے مقدمے میں اسے موت کی سزا میں تبدیل کیا جائے۔

قندیل بلوچ نے سوشل میڈیا پر اپنی ہوش ربا تصاویر اور بے باک ویڈیوز سے بہت زیادہ شہرت پائی تھی۔ اس شہرت کی بنیاد پر انہیں 'سوشل میڈیا کی ایک مقبول شخصیت‘ میں شمار کیا جاتا تھا۔ انہی ویڈیوز کے تناظر میں ان کے بھائی وسیم نے ایک رات مقتولہ کا گلہ گھونٹ کر ہلاک کر دیا تھا۔

اس مقدمے میں بریت حاصل کرنے والے مفتی عبدالقوی نے اس فیصلے کو انصاف کے بول بالا ہونے اور فتح سے تعبیر کیا ہے۔ اس مقدمے میں استغاثہ اور صفائی کی وکلاء کے دلائل جمعرات چھبیس ستمبر کو مکمل ہونے کے بعد عدالت نے محفوظ کر لیا تھا۔ ماڈل کورٹ ملتان کے جج عمران شفیع نے تین سال دو ماہ کی عدالتی کارروائی کے بعد فیصلے کا اعلان کیا۔

اس مقدمے کے مرکزی ملزم وسیم نے ازخود گرفتاری پیش کی تھی۔ تھانے میں دیے گئے اعترافی بیان کے بعد عدالت میں بھی اس نے قتل کا اعتراف کیا تھا۔ اعترافی بیان میں مجرم وسیم نے بتایا تھا کہ بہن کو قتل کرنے کی وجہ خاندانی عزت وغیرت پر حرف آنا تھا۔ مجرم ان بیانات کے بعد اپنا بیان تبدیل کرتے ہوئے پہلے بیانات کی صحت سے انکار کر دیا تھا۔