.

’اجنبی‘ حافظ حمداللہ کوپروگراموں میں نہ بلایا جائے: پیمرا کی ٹی وی چینلوں کو ہدایت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی ( پیمرا) نے ملک کے تمام ٹی وی چینلوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ جمعیت علماء اسلام (فضل الرحمان) کے رہ نما اور سابق سینیٹر حافظ حمد اللہ کو اپنے پروگراموں میں بلانے سے گریز کریں کیونکہ وہ پاکستانی شہری نہیں ہیں اور ’’اجنبی ‘‘ ہیں۔

پیمرا نے تمام سیٹلائٹ ٹی وی چینلوں کو بھیجے گئے ایک مراسلے میں کہا ہے کہ نیشنل ڈیٹا بیس اور رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے 11اکتوبر کو لکھے گئے ایک خط میں مطلع کیا ہے کہ ’’حافظ حمداللہ صبور پاکستانی شہری نہیں بلکہ تصدیق شدہ اجنبی (ایلین) ہیں۔‘‘

نادرا نے مزید کہا ہے کہ اس نے حافظ حمداللہ کو جاری کردہ کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ منسوخ کردیا ہے اور وہ اب پاکستان کے شہری نہیں رہے ہیں۔ حافظ حمداللہ کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ 1968 میں بلوچستان کے ضلع قلعہ عبداللہ کے علاقے چمن میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد ایک سرکاری ملازم تھے اوران کا ایک بیٹا پاک فوج میں کمیشنڈ افسر ہے۔ وہ خود بلوچستان یونیورسٹی کوئٹہ سے فارغ التحصیل ہوئے تھے اورگریجوایٹ ہیں۔وہ 2002ء میں دینی سیاسی جماعتوں پر مشتمل اتحاد متحدہ مجلس عمل کے ٹکٹ پر بلوچستان کی صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے اور پھر صوبائی وزیر صحت رہے تھے۔

حافظ حمداللہ جمعیت علماء اسلام (ف) کے ٹکٹ پر مارچ 2012ء میں پارلیمان کے ایوان بالا سینیٹ کے رکن منتخب ہوئے تھے اور وہ مارچ 2018ء تک اس کے رکن رہے تھے۔وہ سینیٹ کی مختلف قائمہ کمیٹیوں کے رکن بھی رہ چکے ہیں۔

لیکن حیرت انگیز طور پر اس تمام عرصے کے دوران میں کسی ریاستی ادارے کو ان کے غیر ملکی (افغان) ہونے کا پتا نہیں چلا اور اب جب وہ وزیراعظم عمران خان کی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں تو ان کی شہریت ہی منسوخ کردی گئی ہے۔وہ مختلف ٹی وی چینلوں کے رات کو نشر ہونے والے ٹاک شوز یا حالات حاضرہ کے پروگراموں میں بہ طور مہمان شریک ہوتے رہے ہیں اور انھیں حکومت کے ترجمانوں یا وزراء کے مد مقابل پروگراموں میں بلایا جاتا رہا ہے۔بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت ان کی تنقید کی تاب نہیں لاسکی ہے اور اس نے ان کی شہریت کی تنسیخ ہی میں اپنی عافیت جانی ہے۔

حافظ حمداللہ نے فیس بُک پر ایک پوسٹ میں نادرا اور پیمرا کے مراسلے پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’یہاں ریاستی اداروں کی سطح پر عجیب لطیفے ہر لمحہ ظہور پذیر ہوتے ہیں۔ایک انتہائی نادر لطیفہ آج کا نوٹی فکیشن ہے۔آج ہفتہ ہے اور نادرا سمیت اسلام آباد میں وفاقی اداروں کی چھٹی ہوتی ہے۔تاہم میرے خلاف اس نوٹی فکیشن کی تاریخ آج کی ہے۔‘‘

انھوں نے سوال کیا ہے کہ ’’کیا میرے بارے میں اس نوٹی فکیشن کی اتنی اہمیت تھی کہ تمام ڈیوٹی سسٹم کو معطل کیا گیا؟ کیا متعلقہ دفاتر آج صرف میرے لیے کھولے گئے؟ کیا متعلقہ حکام سے گھر میں دستخط لیے گئے؟ اگر ہاں تو کون اتنا طاقتور ہے جن سے یہ حکام گھروں میں بھی مجبور ہوئے؟ اگر نہیں تو یہ نوٹی فکیشن کس خلائی سمت سے آیا ہے؟ عقل والوں کےلیے اس میں نشانیاں ہیں؟ یہ نوٹی فکیشن دنیا کی ساتواں عجوبہ ہے۔‘‘

پیمرا نے ان پر ٹی وی پروگراموں میں نمودار ہونے پر پابندی ان کی جماعت کے آزادی مارچ سے چند روز قبل عاید کی ہے۔ جے یو آئی اور دوسری جماعتیں 31 اکتوبر کو اسلام آباد میں آزادی مارچ کے لیے آرہی ہیں۔جماعت کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے جون میں اکتوبر میں اسلام آباد میں حکومت مخالف احتجاجی ریلی نکالنے کا اعلان کیا تھا اوران کا کہنا ہے کہ اس آزادی مارچ کے کارواں کا آغاز 27 اکتوبر کو ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی سے ہوگا اور یہ سفر کرتے ہوئے چار روز بعد اسلام آباد پہنچے گا۔مولانا فضل الرحمان خود اس کارواں کی قیادت کریں گے۔

دریں اثناء حکومت اور حزب اختلاف کی جماعتوں کے درمیان اسلام آباد میں اس آزادی مارچ کے مقام پر اتفاق ہوگیا ہے۔آزادی مارچ کے شرکاء اسلام آباد کے سیکٹر ایچ نائن میں واقع اتوار بازار کی جگہ پر اکٹھے ہوں گے اور انھیں ریڈ زون کی جانب جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔وہ شہریوں کی آزادانہ آمد ورفت میں کوئی خلل نہیں ڈالیں گے جبکہ حکومت بھی ان کی سیکٹر ایچ نائن تک آمد میں کوئی خلل نہیں ڈالے گی۔تاہم وفاقی دارالحکومت کی انتظامیہ نے اس مارچ سے پانچ روز قبل ہی شہر کی تمام داخلی سڑکوں پر کنٹینر رکھنا شروع کردیے تھے اور یہ کہا جارہا ہے کہ ان کے ذریعے سڑکیں بند کردی جائیں گی اورآزادی مارچ کے شرکاء کو اسلام آباد میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔