.

جنرل باجوہ مزید 6 ماہ آرمی چیف رہیں گے،پارلیمان تقررومدت کے لیے قانون سازی کرے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کی عدالتِ عظمیٰ نے اپنے مختصر حکم میں قراردیا ہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ مزید چھے ماہ تک چیف آف آرمی اسٹاف رہیں گے، اس دوران میں پارلیمان آرمی چیف کے تقرر،مدتِ ملازمت اور دوبارہ تقرر یا توسیع کے لیے قانون سازی کرے گی۔

چیف جسٹس پاکستان آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں عدالتِ عظمیٰ کی تین رکنی بینچ نے چیف آف آرمی اسٹاف کی مدتِ ملازمت میں توسیع کے بارے میں کیس کی سماعت کی اور حکومت کی جانب سے قانون سازی کی یقین دہانی کے بعد اپنا مختصر حکم سنایا ہے۔ بینچ میں جسٹس میاں مظہر عالم خان میاں خیل اور جسٹس سید منصور علی شاہ شامل تھے۔

عدالت نے اس کیس کی سماعت کے دوران میں حکومت سے یہ یقین دہانی طلب کی تھی کہ آیا وہ چھے ماہ میں آرمی چیف کے تقرر اور مدتِ ملازمت سے متعلق پارلیمان قانون سازی کرے گی۔ نیز آرمی چیف کی مدت میں توسیع کے بارے میں حکومت اپنے جاری کردہ نوٹی فکیشن میں ترمیم کرے اور اس میں مدت ، تن خواہ اور مراعات کی وضاحت کرے۔

عدالتِ عظمیٰ نے یہ حکم جمعرات کی سہ پہر کوئی پونے چار بجے سنایا تھا۔اس کے آٹھ گھنٹے کے بعد شب بارہ بجے جنرل قمر جاوید باجوہ بہ طور آرمی چیف اپنی مدتِ ملازمت پوری ہونے کے بعد ریٹائر ہونے والے تھے۔

وزیراعظم عمران خان نے اگست میں ایک نوٹی فیکشن کے ذریعے ان کی بہ طور آرمی چیف مدت میں تین سال کی توسیع کردی تھی لیکن عدالتِ عظمیٰ نے اس نوٹی فیکشن کو 26 نومبر کو معطل کردیا تھا اور اس میں بعض بے ضابطگیوں کی نشان دہی کی تھی۔

عدالت نے اپنے مختصر حکم میں کہا ہے کہ ’’وفاقی حکومت نے عدالت میں وزیراعظم کے مشورے پر صدر کی منظور شدہ ایک سمری پیش کی ہے۔اس کے ساتھ 28 نومبر 2019ء کا ایک نوٹی فیکیشن ہے۔اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کو آئین کی دفعہ 243(4)(بی) کے تحت 28-11-2019ء سے چیف آف آرمی اسٹاف مقرر کیا گیا ہے۔''

''جنرل قمر جاوید باجوہ کا چیف آف آرمی اسٹاف کی حیثیت سے موجودہ تقرر آج سے چھے ماہ کے عرصے کے لیے ہوگا اور اس عرصے کے دوران میں قانون سازی ہوگی۔اس کے تحت ان کی مدتِ ملازمت اور دوسری شرائط وضوابط کا تعیّن ہوگا۔''

عدالت نے اپنے حکم نے مزید کہا ہے کہ "اٹارنی جنرل انور منصور خان نے دوٹوک الفاظ میں عدالت کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وفاقی حکومت اس ضمن میں ضروری قانونی سازی کا عمل شروع کرے گی اور اس نے اس ضمن میں چھے ماہ کی مہلت کی مانگ کی ہے۔''

اس حکم میں کہا گیا ہے کہ عدالت میں آرمی چیف کے دوبارہ تقرر یا ان کی مدتِ ملازمت میں توسیع کا معاملہ چیلنج کیا گیا تھا۔اس معاملے کی تین روزہ سماعت کے دوران میں حکومت مسلسل اپنے موقف کو تبدیل کرتی رہی ہے۔ وہ اس کو دوبارہ تقرر، ریٹائرمنٹ تک محدود یا مدت کی توسیع کا نام دیتی رہی ہے۔جب اٹارنی جنرل سے اس بابت سوال پوچھا گیا تو وہ کوئی تسلی بخش جواب دینے سے قاصر رہے تھے۔

عدالت نے آئین کی دفعہ 243کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر مملکت آرمی چیف کے تقرر کے مجاز ہیں۔تاہم اس دفعہ میں فوجی سربراہ کے تقرر کی مدت کا کوئی تعیّن نہیں کیا گیا ہے۔عدالت نے قراردیا ہے کہ قبل ازیں آرمی چیف کا تقرر مروجہ پریکٹس کے مطابق کیا جاتا رہا تھا لیکن قانون کے تحت اس پریکٹس کی کوئی توضیح موجود نہیں ہے۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اس معاملے کی سماعت کے دوران میں خبردار کیا کہ اگر چھے ماہ کے دوران میں حکومت قانون سازی نہیں کرتی تو جنرل باجوہ کا تقرر غیر قانونی قرار پائے گا۔انھوں نے یہ بھی کہا کہ اس معاملے میں آرمی ایکٹ میں بھی ابہام پایا جاتا ہے۔

بینچ میں شامل جسٹس منصور عالم شاہ نے کہاکہ ''پارلیمان کو اس ابہام کو دور کرنا چاہیے اور نظام کو درست کرنے کے لیے پارلیمان کے علاوہ کوئی اور بہتر فورم موجود نہیں ہے۔''ان کا کہنا تھا کہ آرمی چیف کی تین سال کی مدت کا آئین میں کہیں ذکر نہیں ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ایک آئینی عہدے پر تقرر کا معاملہ بالکل واضح ہونا چاہیے۔انھوں نے بدھ کو کیس کی سماعت کے وقت آرمی چیف کے تقرر کی سمری میں پائے جانے والی اسقام کی نشان دہی کی تھی اور کہا تھا کہ کسی نے بھی اس کو پڑھنے کی زحمت گوارا نہیں کی ہے۔اس میں ایک جگہ ''دوبارہ تقرر'' لکھا ہے اور ایک جگہ آرمی چیف کی ''مدتِ ملازمت میں توسیع'' کی منظوری کا ذکر کیا گیا ہے۔انھوں نے اٹارنی جنرل کو اس سقم کو دور کرنے کی ہدایت کی تھی۔