.

’’عوام نااہل سلیکٹڈ وریجکٹڈ حکمرانوں کو گھر بھیج کر دم لیں گے‘‘

اپوزیشن رہنماؤں کی پاکستان ڈیموکرٹیک موومنٹ کے زیراہتمام کوئٹہ کے ایوب اسٹیڈیم میں جلسے میں تقاریر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے رہنمائوں نے کہا ہے کہ پی ڈی ایم کا موقف درست ثابت ہوا ہے۔ جعلی حکمرانوں کو گھر بھیجنے کے عمل کو مزید تیز کیا جائے گا۔ ہم اداروں اور ان کے ذمہ داران کا عزت کرتے ہیں۔ طاقت ور لوگ ہماری وفاداری کا مذاق نہ اڑائیں۔ بلوچستان میں لاپتہ افراد کا مسئلہ ہمیشہ کیلئے ختم ہونا چاہیے۔ 18ویں ترمیم میں تبدیلی ملک کو ایک نئے بحران کی طرف لے جائے گی۔ پاکستان جمہوری تحریک کو ملکی مسائل کا ادراک ہے۔ 22 کروڑ عوام کی طاقت سے نااہل اور سلیکٹڈ و ریجکٹڈ حکمرانوں کو گھر بھیج کر دم لیں گے۔

ان خیالات کا اظہار پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے مرکزی صدر وجمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانافضل الرحمن، پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی، پاکستان مسلم لیگ (ن) کی مرکزی نائب صدر مریم نواز شریف، بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ وسابق وزیراعلیٰ بلوچستان سرداراخترجان مینگل، نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر وسابق وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ، عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدرو سابق وزیراعلیٰ خیبر پشتونخوا امیر حیدر خان ہوتی، پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے سینئر نائب صدر وسابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف، قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب احمد خان شیرپائو، مرکزی جمعیت اہل حدیث کے مرکزی امیر پروفیسر ساجد میر، جمعیت علماء پاکستان کے شاہ اویس نورانی نے پاکستان ڈیموکرٹیک موومنٹ کے زیر اہتمام کوئٹہ کے ایوب اسٹیڈیم میں منعقدہ جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے مرکزی ترجمان واے این پی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے قراردادیں پیش کیں۔

جلسے سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے مرکزی صدر وجمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے فرانس اور ڈنمارک میں حضرت محمدۖ کے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ فرانس کے صدر کے حکم پر یہ گستاخانہ خاکے دیواروں پر چسپاں کئے گئے ہیں۔ ہم ان گستاخانہ خاکوں اور توہین آمیز رویہ کی مذمت کرتے ہیں ایسے ناپاک اقدامات فوری طور پر روک دئیے جائیں۔ امت مسلمہ کو یہ کسی صورت بھی برداشت نہیں۔ اظہار رائے کی آزادی کے نام پر مسلمانوں کے جذبات مجروح کئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گوجرانوالہ اور کراچی کے اجتماعات کے بعد یہ بھی فقید المثال جلسہ ہے۔ کراچی میں مریم نواز اور کیپٹن صفدر کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ قابل مذمت ہے حکمرانوں میں اگر تھوڑی سی بھی غیرت ہے تو انہیں چلو بھر پانی میں ڈوب مرنا چاہیے۔ پی ٹی ایم کے رہنما اور رکن اسمبلی محسن داوڑ کے ساتھ کوئٹہ ائیرپورٹ پر پیش آنے والے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مہمان کو روکنا بلوچستان کی روایات کے خلاف ہے۔ کہا جاتا ہے کہ کیپٹن صفدر کے مزار قائد پر نعرے جرم ہے جس پر کارروائی کی گئی لیکن لاہور کے مسجد وزیر خان میں فلم کی شوٹنگ کی جاتی ہے بے حیا عورتیں مسجد کی بے حرمتی کرتی ہے لیکن تمہیں اس پر کارروائی اور مسجد کی حرمت یاد نہیں آتی۔

انہوں نے کہاکہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس نام نہاد کابینہ میں منظور کیا گیا پھر ایک جعلی صدر مملکت کے پاس بھیجا گیا اور اس نے اس کو عدالت عظمیٰ میں پیش کیا۔ اس کی طویل سماعت ہوتی رہی عدالت نے اس ریفرنس کو خارج ہی نہیں کیا بلکہ اس کو بدنیتی پر قرار دیا۔ یہ اتنا بڑا جرم ہے کہ صدر مملکت کو اس منصب سے الگ کرنا چاہیے یا ان کا مواخذہ ہونا چاہیے۔

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کا موقف درست ہے جعلی حکمرانوں کے خلاف ہماری تحریک اور بھی زور سے آگے بڑھے گی۔ 18ویں ترمیم کے ذریعے صوبوں کے اختیارات میں اضافہ کیا گیا۔ جمعیت علماء اسلام نے چاروں صوبوں میں کانفرنس منعقد کرکے یہ عہد کیا تھا کہ ہم 18ویں ترمیم میں تبدیلی اور نہ ہی صوبوں کے اختیارات کم ہونے دیں گے۔ پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے واضح اعلان کرتا ہوں کہ کوئی مائی کا لعل 18 ویں ترمیم میں تبدیلی اوراین ایف سی ایوارڈ ختم نہیں کر سکتا۔ سندھ ہو یا بلوچستان اس کے جزائر پر یہاں کی عوام اور ان کے بچوں کا حق ہے کوئی مائی کا لعل یہاں کی عوام اور ان کے بچوں کی ملکیت پر قبضہ نہیں کر سکتا۔ پاکستان ہم سب کا ہے اور کسی نادیدہ قوت کو اس بات کی اجازت نہیں دے سکتے کہ وہ عوام کی حق اور حق ملکیت پر ڈاکہ ڈالیں۔ سلیکٹڈ، نااہل حکمرانوں نے آج پاکستان کی معیشت تباہ وبرباد کردی۔

یہاں جب پیپلزپارٹی، مسلم لیگ کی حکومتیں تھیں تو معیشت بہتر تھی، ہندوستان اور افغانستان آپ سے دوستی اور کاروبار کرنا چاہتے تھے مگر آج وہاں مودی کی حکومت ہے جو پاکستان سے دشمنی اور اس کا خاتمہ چاہتا ہے۔ چین کے ساتھ ہماری 70 سال کی دوستی تھی جنہوں نے اربوں ڈالر خرچ کئے تھے کہ یہاں ترقی وخوشحالی ہوں مگر جب یہ لوگ حکومت میں آئے تو سب کچھ خاک میں ملا دیا۔ آج ہم سی پیک کے متحمل نہیں اور نہ ہی انڈسٹریز کیلئے پالیسی بنا سکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم آج چین، سعودی عرب جیسے دوستوں کو ناراض کیا ہے جنہوں نے ہر مشکل وقت میں ہمارا ساتھ دیا۔ آپ نے پاکستان کو تنہا کر دیا آپ کے پاس نہ کوئی پالیسی ہے اور نہ ہی کوئی شعور ہے آپ نے سب کچھ ڈبو دیا ہے۔ آج ہم بات کرتے ہیں کشمیر کی جو کچھ کشمیر اور گلگت بلتستان میں ہو رہا ہے۔

عمران خان نے کشمیر کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کا فارمولہ دیا تھا۔ ہندوستان میں مودی کی حکومت کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔ آج اس کا انجام سب کے سامنے ہے۔ ہمیں کہا جاتا ہے کہ آپ کی آل پارٹیز کانفرنس سے ہندوستان خوش ہو رہا ہے۔ ہندوستان ہم سے خوش نہیں ہو سکتا۔ ہندوستان آپ کی حکومت سے خوش ہے جس نے ملک کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے۔ آپ نے مودی کی حکومت پرخوشی کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ جو حشر سی پیک کا ہوا ہے وہ سب کے سامنے ہے، جو حشر پشاور بی آر ٹی کا ہوا ہے وہی حشر پورے ملک کا ہوا ہے۔ پورے ملک کی معیشت تباہ ہوچکی ہے جو ایک خطرے کی گھنٹی ہے۔

ہم اداروں کے دشمن نہیں، ادارے ملک کیلئے ناگزیر ہوتے ہیں، ہم اداروں کا احترام کرتے ہیں ان کی ذمہ داران کا احترام کرتے ہیں، اگرادارے ایک جعلی شخص کو حکومت اور اقتدار پر قابض کرتے ہیں تو پھر اداروں سے گلہ کرنا ہمارا حق بنتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ ہم سے عزت واحترام چاہتے ہو آپ عزت واحترام کے قابل نہیں آپ ریاست مدینہ کی بات کرتے ہوں یہ ریاست مدینہ نہیں بلکہ ریاست کوفہ ہے، ہم حسین کے پیروکار ہیں جنہوں نے یزید کے اقتدار کو تسلیم نہیں کیا۔

عمران خان بڑی دلیری کے ساتھ کہتے ہیں کہ ہم این آر او نہیں دیں گے لیکن آپ سے این آر او کس نے مانگا ہے آپ اپنی فکر کریں، آپ انجام کے قریب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملکی معیشت کو تباہ کرنے کے ساتھ بے روزگار نوجوانوں کے مستقبل کو بھی تاریک بنا دیا ہے۔ چرسیوں اور بھنگیوں کی حکومت نہیں چاہیے بلکہ ہمیں شریف اور سنجیدہ لوگوں کی حکومت چاہیے۔ میں نے پہلے دن سے اس حکومت کو تسلیم نہیں کیا آج بھی اعلان کرتا ہوں کہ اس جعلی حکومت کو تسلیم نہیں کروں گا۔ یہ جعلی اور ناکام حکومت ہے جس نے 36 لاکھ برسر روزگار لوگوں کو بے روزگار کیا۔ پی آئی اے، ریڈیو پاکستان سے ملازمین کو نکالا گیا۔ سالوں سے لوگوں کو لاپتہ کیا گیا ہے۔ لوگ اپنے پیاروں کی تلاش میں سرگرداں ہے۔ میں انسانی حقوق کے اداروں سے کہنا چاہتا ہوں کہ پاکستان کے اندر انسانوں کے حقوق پامال ہورہے ہیں اس کا نوٹس لیں۔

امریکہ جو خود کو پاکستان کی آقا سمجھتا ہے۔ ہیلری کلنٹن کی وڈیو سامنے آئی کہ ڈیپ اسٹیٹ کس کو کہتے ہیں وہ جواب میں کہتی ہے کہ جس ملک میں فوج اور جاسوسی اداروں کی حکومت ہو جیسے کہ پاکستان۔ انہوں نے کہا کہ یہ میں نہیں کہتا آپ کے آقا یہ کہتا ہے، آپ کو اپنا چہرہ آئینے میں دیکھنا چاہیے۔ ہم عوام کو ایک آزاد، خودمختار مملکت دینا چاہتے ہیں۔ ہمارے اکابرین نے ہمیں آزادی کا درس دیا ہے۔ ہم اس ملک کے عوام کو آزادی دلائیں گے۔ ہم نے ہمیشہ وطن عزیز کو خودمختار ریاست کہا ہے ہم نے پاکستان کے آئین کا حلف اٹھایا ہے مگر ہم پاکستان کو غاصبوں اور جعلی حکمرانوں کے حوالے نہیں کرین گے۔ پاکستان کو آزاد، مستحکم اور معاشی طور پر بہتر بنانا ہے تو میدان میں نکلنا ہو گا۔ گھروں میں بیٹھے بیٹھے آزادی نہیں ملتی۔ ہر شخص کو اپنا کردارادا کرنا ہو گا۔ پوری قوم کو جاگنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری فوج ہمیں عزیز ہے۔ میرے نزدیک میرے فوج کی حیثیت آنکھوں کے پلکوں پر بالوں کی مانند ہے فوج کو سرحدوں پر ہونا چاہیے۔ اگر پلکوں پر بال آنکھوں میں گرے تو اس کو نکال باہر کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں طاقت ور لوگوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ ہماری وفاداری کا مذاق مت اڑائو ہمیں اس حد تک نہیں لے جائو جہاں سے واپسی کا راستہ ممکن نہ ہو۔

بلاول بھٹو زرداری تقریر

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپنے خطاب میں کہا کہ عوام نے ثابت کر دیا کہ سلیکٹڈ حکومت کا خاتمہ قریب ہے۔ ہم جمہوریت کے کیلئے تحریک سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، آگے بڑھیں گے۔ انہوں نے بلوچستان کی عوام سے سوال کیا کہ ملک کے سب سے بڑے صوبے اور سب سے زیادہ وسائل گیس سے لیکر سونے کے مالک ہونے کے باوجود کیا آپ ہمیشہ غریب رہیں گے؟ بلوچستان کے لوگ غیرت مند اور اپنے حقوق لیکر رہیں گے۔ حقوق کیلئے صوبے کی عوام نے اپنا خون دیا ہے۔کہیں نہیں لکھا کہ بلوچستان کی عوام ہمیشہ سلیکٹڈ کے زیر اثر رہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں آج عدلیہ اورصحافت آزاد نہیں اس کیلئے تمام سیاسی جماعتوں کو عوام کے اسٹیج پرآنا پڑے گا اور سلیکٹڈ کو گھرجانا پڑے گا۔ آمریت نے بلوچستان کوصرف نوجوانوں کی لاشیں دی،آمر جنرل پروز مشرف نے لوگوں کو اغواء کرکے دوسرے ملکوں کو بیچ دئیے، یہ بھگوڑا اور قاتل اب بھاگ گیاہے، نواب اکبر بگٹی کو شہید اور بے نظیر بھٹو کے قاتلوں کے سہولت رہے ۔آصف علی زرداری نے ماضی کی ناانصافیوں پر ریاست کی طرف سے معافی مانگی بلکہ بلوچستان کی محرومیوں کو دور کرنے کیلئے 18ویں ترمیم کی شکل میں صوبوں کو وہ اختیارات دئیے جو 70 سال سے کسی نے نہیں دئیے ،ہم نے این ایف سی ایوارڈ کے ذریعے صوبوں کو ان کا حق پہنچایا،آغاز حقوق بلوچستان ایک تاریخی اقدام تھا، ہم نے معاشی ،انتظامی اصلاحات دئیے تاکہ صوبے اپنے عوام کو سہولیات دے سکیں ،بلوچستان کے این ایف سی کو تحفظ دیا تاکہ ان سے کٹوتی نہ ہوں، لاپتہ افراد کیلئے کمیشن تشکیل دی۔

چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور کے قیام کیلئے آصف زرداری محنت کرتے رہے یہ منصوبہ پسماندہ علاقوں فاٹا،خیبرپشتونخوا اور بلوچستان کی ترقی کیلئے تھا ۔بلوچستان اور گلگت بلتستان کی ترقی کے بغیر سی پیک نامکمل ہے ،اتنے سال گزرنے کے باوجود گوادر اور گلگت بلتستان کے عوام کو کیوں یہ محسوس ہورہاہے کہ انہیں سی پیک میں نظرانداز کیاجارہاہے ،جہاں جہاں بھی سی پیک کے منصوبے ہیں وہاں ایسی منصوبہ بندی کی جائے کہ مقامی لوگ اس کا حصہ اور اس سے مستفید ہوں مگر ابھی تک ایسا کچھ نظر نہیں آرہا ہم بلوچستان اور سندھ کے جزائر پر وفاق کا قبضہ کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیںگے ۔

عمران خان معیشت کو تباہ اور سی پیک منصوبے کو ناکام بنانا چاہتے ہیں ،یہ تبدیلی نہیں بلکہ پاکستان کی تباہی کا باعث بنے گا۔ وزیر اعظم کی کوشش ہے کہ وہ ملک کے ہر ادارے میں اپنے ٹائیگرفورس کو بھرتی کرائیں۔ وہ اداروں کو تباہ اور ناکام کرنا چاہتے ہیں۔ کیپٹن صفدر کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ شرمناک عمل تھا، عمران خان سندھ پولیس کو ٹائیگر فورس بنانا چاہتے تھے لیکن پولیس نے ان کی یہ کوشش ناکام بنا دی۔

خطاب مریم نواز

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی مرکزی نائب صدر مریم نواز شریف نے کامیاب جلسے پرعوام کو مبارکباد دیتے ہوئے کہاکہ بلوچستان کی عوام جمہوری لوگ ہیں اور ہمیشہ جمہوری قوتوں کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔ میں آج بلوچی لباس پہن کر میں بلوچستان کی عوام کو پیغام دینا چاہتی ہوں کہ جتنی محبت مجھے پنجاب کی عوام سے کرتی ہوں اتنی ہی بلوچستان کی عوام سے کرتی ہوں۔ مجھے پتہ ہے یہاں کے نوجوانوں کو لا پتا کرکے مسخ شدہ لاشیں پھینک دی جاتی ہیں۔ ایک لڑکی حسیبہ قمبرانی میرے پاس آئی جن کے تین جوان بھائیوں کو گھر سے اٹھا لیا گیا ہے، وہ آج تک لاپتہ ہیں ان کے بھائیوں کا کچھ پتہ نہیں کہ وہ کہاں ہیں کس حالت میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میری ماں فوت ہوئی میرے والد میاں نواز شریف کو جیل میں ڈالا گیا لیکن میرے آنکھوں میں آنسو نہیں آئے لیکن جب میں حسیبہ قمبرانی کا قصہ سنا تو میرے آنکھوں میں آنسو آئے یہ انتہائی شرمناک عمل ہے۔

انہوں نے کہاکہ بلوچستان کے عوام کو اپنے نمائندے منتخب کرنے کا حق بھی حاصل نہیں اس کا اختیار کسی اور کے پاس ہے۔ راتوں رات ’’باپ‘‘ کے نام سے پارٹی بن جاتی ہے اور اگلے دن حکومت ان کے حوالے کردی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب کراچی میں میرے کمرے کا دروازے توڑا گیا تو مجھے ڈاکٹر شازیہ خالد کا واقعہ یاد آیا۔ کیا یہ ہماری روایات ہیں کہ بہنوں بیٹوں کے کمروں میں رات کے اندھیرے میں اس طرح گھستے ہیں۔ شہید نواب اکبر بگٹی کو قتل کیا گیا اس کے خاندان والوں کو اس کا چہرہ دیکھنے نہیں دیا گیا۔ پرویزمشرف کو عدالت نے پھانسی کی سزا سنائی، عدالتی فیصلے کا حال سب نے دیکھا۔ عوام کے نمائندوں کو اپنا کام کرنے دیا جائے۔

کوئٹہ اور بلوچستان کی عوام کو خراج تحسین پیش کرتی ہوں۔ آج مجھے قائداعظم کے ساتھی قاضی محمد عیسیٰ کی یاد آ رہی ہے اس کا بیٹا قاضی فائز عیسیٰ پاکستان کے ایماندار ترین ججز میں سے ایک ہے۔ ان کے خلاف ریفرنس پر پاکستان کی عوام نے آواز اٹھائی۔ سپریم کورٹ کے ججز نے اس ریفرنس کو بدنیتی پر مبنی قرار دیا۔ تاریخی ناکامی پر سلیکٹڈ عمران خان اور ان کے سلیکٹرز کو استعفیٰ دینا چاہیے۔ سپریم کورٹ کے ججز نے آزاد عدلیہ پر حملے کو روکا۔ انہوں نے کہا کہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو سچ بولنے کی پاداش میں نکال دیا گیا۔ چیف جسٹس سے درخواست کرتی ہوں کہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو انصاف دیں۔ انہوں نے کہا کہ جعلی لوگوں کو قوم پرمسلط کرنے والے سیاست میں مداخلت بند کریں۔ ووٹ کوعزت ملنے والی ہیں پاکستان اور بلوچستان کی تقدیر بدلنے کا وقت آ گیا اب مزید غداری کے سرٹیفکیٹس کا سلسلہ نہیں چلے گا اور نہ ہی مائوں اور بہنوں کے بیٹے اور بھائی لا پتا ہوں گے۔

عاصم سلیم باجوہ بلوچستان کا حاکم اور بادشاہ رہا ہے۔ ووٹ کی عزت سے کھیلتا رہا ہے اور سیاسی کرتب دکھاتا رہا ہے۔ ماں اور باپ کے نام سے سیاسی پارٹیاں بناتا رہا ہے۔ ایک نوکر پیشہ شخص کے پاس اربوں روپے کہاں سے آئے؟ جب ہم سوال ہوتا ہے توخاموشی اختیار کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سلیکٹڈ عمران خان اور حکومت اور نہ ہی نیب، ایف بی آر، ادارہ اور عدالت میں ہمت ہے کہ وہ عاصم سلیم باجوہ سے حساب لے سکیں۔

نواز شریف ویڈیو لنک خطاب

اتوار کو حزبِ اختلاف کی جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیمو کریٹک الائنس (پی ڈی ایم) کے کوئٹہ میں منعقد جلسے سے بذریعہ ویڈیو لنک خطاب میں نواز شریف کا کہنا تھا کہ جنرل قمر باجوہ آپ کو انتخابات میں ہونے والی دھاندلی اور اس حکومت کی تمام ناکامیوں کا حساب دینا ہے۔ انہوں نے پی ڈی ایم کے گوجرانوالہ میں ہونے والے پہلے جلسے میں بھی حکومت اور فوجی قیادت پر تنقید کی تھی۔

ادھر وزیراعظم عمران خان کی حکومت نے پی ڈی ایم کے بیانیے کو پاکستان مخالف قرار دیا ہے اور جلسے میں آزاد بلوچستان کی باتیں کرنے کی شدید مذمت کی ہے۔

نواز شریف نے خفیہ ایجنسی انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے سربراہ لیفٹننٹ جنرل فیض حمید کو مخاطب کرتے ہوئے الزام لگایا اور کہا کہ آپ کو جواب دینا ہو گا کہ آپ نے ایک جج کے گھر جا کر نواز شریف کے خلاف فیصلہ دینے کے لیے دباؤ کیوں ڈالا۔ انھوں نے دعوی کیا کہ "جنرل فیض حمید نے مجھے اور مریم نواز کو الیکشن سے باہر رکھنے کے لیے عدلیہ پر دباؤ ڈالا، لیکن اب ان کی دو سال کی محنت ضائع ہو رہی ہے۔"

نواز شریف نے فوج کے جوانوں اور افسروں کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ یہ آپ کا اپنا ملک ہے۔ جس کے لیے آپ جان دینے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ جہاں آپ نے اس کی حفاظت کا حلف اٹھایا ہے۔ وہیں آپ نے اس کے آئین پر عمل کرنے کا بھی حلف اٹھایا ہے۔

ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید کا ذکر کرتے ہوئے نواز شریف کا استفسار تھا کہ کیا وہ فیض آباد دھرنے کے ذمہ دار نہیں؟ سپریم کورٹ نے ان کے خلاف فیصلہ دیا اور اس کے باوجود انہیں لیفٹننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی ملی اور آئی ایس آئی کے چیف بن گئے ہیں۔

نواز شریف کا کہنا تھا کہ جس طرح سندھ پولیس کے افسران نے غیر قانونی احکامات کو ماننے سے انکار کیا۔ اسی طرح وہ سب سول سرونٹس کو گزارش کرتے ہیں کہ کسی دباؤ میں آئے بغیر اپنا کام کریں۔

عوام کے نام پیغام میں نواز شریف کا کہنا تھا کہ یہ فوج آپ کی فوج ہے، ان کو عزت دیں انہیں محبت دیں۔ لیکن جب آئین کی بالا دستی کا معاملہ آ جائے تو وہاں کوئی سمجھوتہ نہ کریں۔ پیغام میں سابق وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ کوئی فوج اپنے لوگوں کے خلاف نہیں لڑ سکتی اور پر امن احتجاج ہر قوم کا حق ہے۔

اُن کے بقول جب آئین کی بالادستی کا معاملہ آجائے تو وہاں کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔ آزادی اظہار آپ کا حق ہے۔ جسے کوئی نہیں چھین سکتا۔ آپ کے حقِ رائے دہی کا حق کوئی نہیں چھین سکتا۔ کسی مفاد پرست ٹولے یا مٹھی بھر ٹولے کو اپنی آنے والی نسلوں سے کھلواڑ کرنے کی اجازت نہ دیں۔ نواز شریف نے دعوی کیا کہ عمران خان کی بیساکھیوں پر کھڑی حکومت کو انجام تک پہنچانے کا وقت آ گیا ہے۔

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی، بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ وسابق وزیراعلیٰ بلوچستان سردار اختر جان مینگل، نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر وسابق وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ، عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدرو سابق وزیراعلیٰ خیبر پشتونخوا امیر حیدر خان ہوتی، پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے سینئر نائب صدر وسابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف، قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب احمد خان شیرپائو، مرکزی جمعیت اہل حدیث کے مرکزی امیر پروفیسر ساجد میر، جمعیت علماء پاکستان کے شاہ اویس نورانی نے بھی پاکستان ڈیموکرٹیک موومنٹ کے زیر اہتمام کوئٹہ کے ایوب اسٹیڈیم میں منعقدہ جلسہ عام سے خطاب کیا۔