.

صوبہ پنجاب میں دہشت گردی کے حملوں کی سازش پرسات مشتبہ شیعہ جنگجو گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کی مرکزی انٹیلی جنس ایجنسی اور انسداد دہشت گردی پولیس نے مشترکہ کارروائیوں میں ایک کالعدم شیعہ جنگجو گروپ سے تعلق رکھنے والے سات مشتبہ دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا ہے۔وہ اپنے حریف سنی مسلم گروپوں پر حملوں کی منصوبہ بندی کررہے تھے۔

صوبہ پنجاب کے محکمہ انسداد دہشت گردی (کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ) نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا ہے کہ گرفتار مشتبہ جنگجوؤں کا کالعدم انتہا پسند گروپ سپاہ محمد سے تعلق ہے۔انھیں گذشتہ 24 گھنٹے میں تین اضلاع سرگودھا ، خوشاب اور ساہیوال سے چھاپا مار کارروائیوں میں پکڑا گیا ہے۔

اس نے مزید کہا ہے کہ ’’افسروں نے ان مشتبہ افراد کے قبضے سے بم سازی میں استعمال ہونے والا سامان اور بندوقیں برآمد کی ہیں۔وہ اس اسلحہ اور گولا بارود کو فرقہ وار حملوں میں استعمال کرنے والے تھے۔‘‘

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ ان گرفتار جنگجوؤں کو محمود اقبال نامی ایک جنگجو لیڈر ہدایات جاری کیا کرتا تھا۔ وہ ایک پڑوسی ملک میں روپوش ہے لیکن انھوں نے اس ملک کا نام نہیں لیا لیکن وہ ماضی میں متعدد مواقع پر ایران پر شیعہ جنگجوؤں کو پناہ اور تربیت دینے اور اسلحہ مہیا کرنے کے الزامات عاید کرچکے ہیں۔

پاکستان کے سکیورٹی ادارے آئے دن شیعہ اور سنی جنگجوؤں کو چھاپا مار کارروائیوں میں گرفتار کرتے رہتے ہیں لیکن ان شیعہ جنگجوؤں کی گرفتاری ایسے وقت میں عمل آئی ہے جب ملک کے رقبے کے اعتبار سے سب سے بڑے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ہزارہ کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے افراد اپنے11 پیاروں کی ہلاکتوں پر سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔

ان ہزارہ کان کنوں کو گذشتہ اتوار کونامعلوم مشتبہ جنگجوؤں نے قتل کردیا تھا۔وہ مچھ میں کوئلے کی ایک کان میں کام کرتے تھے۔ان کے لواحقین کوئٹہ میں ان کی میتیں رکھ کر احتجاج کررہے ہیں اور وہ وزیراعظم عمران خان کی آمد سے قبل ان کی تدفین سے انکاری ہیں۔

سخت گیر سنی جنگجو داعش نے ہزارہ کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے ان کان کنوں کی ہلاکتوں کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔داعش کے جنگجوؤں نے کوئٹہ سے 48 کلومیٹر مشرق میں واقع مچھ میں ایک کان سے ان مزدوروں کو اغوا کیا تھا اور پھر بے دردی سے قتل کر دیا تھا۔ان میں بعض نوعمرلڑکے اور طلبہ بھی تھے جو اپنے تعلیمی اور گھریلو اخراجات پورا کرنے کے لیے محنت مزدوری کیا کرتے تھے۔

واضح رہے کہ کوئٹہ کی شیعہ ہزارہ کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے افراد پر اس سے پہلے بھی متعدد تباہ کن حملے کیے جاچکے ہیں اور بعض خاندانوں کے تمام مرد دہشت گردی کے ان واقعات کی نذرہوچکے ہیں۔ان کے لواحقین حکومت سے اپنے مقتولین کے قاتلوں کی گرفتاری اورخود کو تحفظ مہیا کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔