.

قومی اسمبلی میں فلسطینیوں سےاظہارِیک جہتی کے لیے قرارداد متفقہ طور پرمنظور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کی پارلیمان کے ایوان زیریں قومی اسمبلی نے مظلوم فلسطینیوں سے اظہار یک جہتی کے لیے قرارداد متقفہ طور پر منظور کر لی ہے۔

قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر اسد قیصر کے زیرصدارت ہوا۔اس میں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے قرارداد پیش کی۔اس میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی جارحیت فوری طور پر رکوانے کے لیے اقدامات کرے۔

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ایوان فلسطینیوں کے لیے آزاد اور خود مختار ریاست کے قیام کا مطالبہ کرتا ہے اور مسجداقصیٰ پراسرائیلی حملے کی شدید مذمت کرتا ہے۔

فلسطینی عوام پر صہیونی مظالم کے خلاف پاکستان اور ترکی نے اقوام متحدہ میں جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ پاک ترک وزرائے خارجہ اقوام متحدہ میں فلسطین کے لیے بھرپور آواز اٹھائیں گے۔

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ وہ آج سوموار کو اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت کے لیے روانہ ہوں گے۔انھوں نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں غزہ کی صورت حال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ہماری پہلی ذمہ داری فلسطین میں جنگ بندی کرانا ہے۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان نے فلسطین میں جارحیت کی مذمت کی ہے۔انھوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں فلسطینیوں کے حق میں چین کے کردار کو سراہا اور کہا کہ چین نے سلامتی کونسل کو متحد کرنے کی کوشش کی۔ سلامتی کونسل کے تمام ارکان مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں جنگ بندی پرقائل ہو چکے تھے لیکن بدقسمتی سے امریکا نے ویٹو کرکے راستے میں رکاوٹ ڈالی ہے۔

قومی اسمبلی میں قرارداد کی منظوری سے قبل قائدحزب اختلاف میاں شہباز شریف نے تقریر کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1948ء سے آج تک اسرائیلی فوج نہتے فلسطینیوں پر ظلم کر رہی ہے۔ مشرقی یروشلیم میں انتہا پسند یہودیوں نے مارچ کیا، پوری دنیا نے یہ دل خراش مناظر دیکھے۔

انھوں نے کہا کہ میں اس ایوان میں حکومت کی چیرہ دستیوں اور اپوزیشن کے خلاف ظلم کا ذکر نہیں کروں گا۔ کیونکہ آج ہم نے اسرائیل کے مظالم کی بات کرنی ہے۔ رمضان المبارک کے آخری عشرے میں مسجد اقصیٰ میں نہتے نمازیوں پر حملے کیے گئے۔ اسرائیل کی بدترین سفاکی زوروں پر ہے۔ ماضی میں فاشسٹ ہٹلر جہاں تھا، آج وہاں نیتن یاہو کھڑا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’فلسطینیوں کی آج دوسری نسل بدترین مظالم کا شکار ہے۔ حالیہ جارحیت کے نتیجے میں درجنوں بچے اور خواتین شہید ہوچکی ہیں۔ اسرائیلی بمبار طیاروں نے اندھا دھند گولہ باری کی۔ غزہ میں الجزیرہ چینل کی بلڈنگ کو گرتے دنیا نے دیکھا۔ اس طرح کی سفاکیت پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔‘‘

اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ فلسطینی آج تک ظلم برداشت کر رہے ہیں۔ معاہدہ اوسلو کو اسرائیل نے ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا۔ یاسرعرفات، شمعون پیریز اور اضحاک رابن کو امن کے نوبل انعام ملے لیکن آزاد فلسطین کا قیام آج تک عمل میں نہیں آسکا۔ کشمیر کی طرح فلسطین کی قراردادوں کو بھی ٹھکرا دیا گیا۔

انھوں نے کہا کہ فلسطین میں قتل عام اسلامی دنیا کے لیے پیغام ہے۔ جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا رواج جڑیں پکڑ رہا ہے۔آج عالم اسلام کے اندر ہر آنکھ اشکبار اور ہر دل غمگین ہے۔ دوسرے ممالک نے بھی اسرائیلی سفاکیت کی مذمت کی ہے۔ نہتی قوم پر اسرائیلی فوج بمباری کر رہی ہے۔

انھوں نے سوال کیا کہ اگر خدانخواستہ ایسی ہلکی سی حرکت کوئی اسلامی ملک کرتا تو پھر کیا عالمی طاقتیں ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ رہتیں؟ ایسی حرکت کسی اور ملک میں ہوتی تو کیا دنیا خاموش رہتی؟ آج عالمی طاقتیں کہاں ہیں؟ فلسطینیوں کا قصور یہ ہے کہ وہ مسلمان ہیں۔اگر کوئی اسلامی ملک ایسا کرتا تو فوری جنگ مسلط کر دی جاتی اور ہر قسم کی پابندیاں لگا دی جاتیں۔آج عالمی میڈیا خاموش ہے، اس کی زبان کو تالے لگ گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مشرقی تیمور اور جنوبی سوڈان کے حوالے سے اقوام متحدہ کی قراردادوں پر کتنی تیزی سے عمل کیا گیا تھا۔ مشرقی تیمور کو آزادی دلوائی گئی تھی لیکن اس کے مقابلے میں بوسنیا میں کیا ہوا تھا؟

شہباز شریف نے کہا کہ بوسنیا میں سیکڑوں لوگوں کو لقمہ بنایا گیا۔ بوسنیا میں اجتماعی قبروں کا بدترین اسکینڈل سامنے آنے تک عالمی طاقتوں کا ضمیر نہیں جاگا تھا۔ بوسنیا میں شہروں کے شہر قبرستان بن گئے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ بوسنیا، مشرقی تیمور اورجنوبی سوڈان کا موازنہ کرتے ہیں تو صورت حال سمجھ میں آ جاتی ہے۔