.

چاہتا ہوں جب کال دوں کم از کم 20 لاکھ لوگ اسلام آباد پہنچیں: عمران خان

‘‘چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا مسلم لیگ نواز کا ایجنٹ ہے، فوری طور پر مستعفی ہو‘‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سابق وزیر اعظم اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ امریکا بوٹ پالش اور چیری بلاسم کے ذریعے ہمیں کنٹرول کرنا چاہتا ہے۔ میرے خلاف پہلے سازش اور پھر مداخلت ہوئی۔ چاہتا ہوں جب کال دوں کم از کم 20 لاکھ لوگ اسلام آباد پہنچیں۔

چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا سن لے کہ پاکستان کی سب سے بڑی جماعت کو ان پر کوئی اعتبار نہیں، آپ کے پاس کوئی اخلاقی جواز نہیں ہے چیف الیکشن کمشنر بننے کا اس لیے آپ کو مستعفی ہوجانا چاہیے۔

ایوان اقبال میں ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ چیف الیکشن مسلم لیگ (ن) کا ایجنٹ ہے۔ ہم اسے کبھی تسلیم نہیں کرتے۔ الیکشن کمیشن میں یہ اکیلا آدمی بیٹھ کر فیصلے کرتا ہے اور اس کے سارے فیصلے پی ٹی آئی کے خلاف ہوتے ہیں۔ جب سے ہماری حکومت آئی ہم اس کو کہتے رہے کہ تینوں بڑی جماعتوں کے فارن فنڈنگ کیس اکٹھے سنے جائیں۔

صرف پی ٹی آئی کو کیوں کٹہرے میں کھڑا کیا ہوا ہے؟ یہ ان کی سازش ہے کیونکہ ان کو معلوم ہے کہ پاکستان کی کوئی جماعت پی ٹی آئی کو ہرا نہیں سکتی۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک پاکستانیوں کے پیسے فارن فنڈنگ تو نہ ہوئی، یوں تو پاکستان بھی فارن فنڈنگ پر چل رہا ہے، وہ نہ بھیجیں تو آج پاکستان بھی نہ چلے۔

انہوں نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ آپ سب لیڈر بنیں۔ آپ نے لوگوں کے پاس میرا پیغام لے کر جانا ہے۔ آپ نے گلی محلوں میں تبلیغ کرنی ہے۔ آپ نے لوگوں کو بتانا ہے کہ اس ملک پر ایک سازش کے تحت ایک امپورٹڈ حکومت مسلط کی گئی ہے جس کا مقصد صرف یہ ہے کہ امریکا ہمیں فتح کیے بغیر ان چوہوں کے ذریعے ہمیں کنٹرول کرے گا، یہ لوگ اپنی چوری کا پیسا بچانے کے لیے ساری قوم کو غلام بنا دیں گے۔

سابق وزیر اعظم نے کہا کہ امریکی جنگ میں ہم نے 80 ہزار افراد کی قربانیاں دیں، ہماری قوم کو مشکلات کا سامنا اس لیے کرنا پڑا کیونکہ ہمارے ملک کے سربراہ نے کسی اور ملک کے مفادات کے لیے اپنے ملک کی خارجہ پالیسی کو قربان کیا۔انہوں نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ جب میں کال دوں گا تو کم از کم 20 لاکھ لوگ اسلام آباد پہنچیں، آپ لوگوں میں جاکر ہماری حقیقی آزادی کی تحریک کی تبلیغ کریں۔

عمران خان نے کہا کہ 1950 میں اسی طرح کا سازشی پلان ایران کے خلاف بھی بنایا گیا تھا جب ان کا بھی ایک آزاد وزیر اعظم آیا تھا۔ اس کا نام مصدق تھا، اس نے فیصلہ کیا کہ ایران کے تیل کا فائدہ کسی اور ملک نہیں ایران کو ہونا چاہیے اس لیے انہوں نے اس کو ہٹا دیا جسے ’رجیم چینج‘ کہتے ہیں۔ اس کام کے لیے انہوں نے میڈیا کو بھی پیسا کھلایا جس نے ان کے وزیراعظم کی کردارکشی کی۔ پیسے دے کر لانگ مارچ بھی کروایا۔

مقبول خبریں اہم خبریں