پاکستان نے اُدے پور قتل کیس بارے بھارتی میڈیا رپورٹس مسترد کردیں

ایسے مذموم اقدامات سے بھارت اور نہ دنیا بھر میں عوام گمراہ ہوں گے: ترجمان دفتر خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پاکستان نے بھارت کی طرف سے ان بیانات کو مسترد کر دیا ہے جن کا مقصد قتل کے ایک مقدمے میں ملوث افراد کا تعلق پاکستان میں ایک تنظیم سے جوڑنا ہے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان نے ایک بیان میں اس سلسلے میں بھارتی میڈیا کی اطلاعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس قسم کے الزامات بی جے پی، آر ایس ایس ہندوتوا کی پشت پناہی میں بھارتی حکومت کی طرف سے بھارت کے اندرونی مسائل میں پاکستان کو بدنام کر کے بھارت کو بری الذمہ قرار دینا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ اس قسم کے مذموم اقدامات کے ذریعے نہ تو بھارت میں اور نہ دنیا بھر میں عوام گمراہ ہوں گے۔

انڈین اخبار ہندوستان ٹائمز نے بدھ کو خبر شائع کی تھی جس میں راجستھان کے ایک اعلیٰ پولیس افسر کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ ’47 سالہ ہندو درزی کنہا لال کے قتل میں ملوث دو افراد میں سے ایک غوث محمد کا تعلق سنی مذہبی تنظیم ’دعوت اسلامی‘ سے ہے جس کا ہیڈ کوارٹر کراچی میں ہے۔‘

پولیس آفیسر نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ’غوث محمد نے 2014 میں پاکستان کا سفر بھی کیا تھا۔

یاد رہے کہ منگل کو انڈین ریاست راجستھان کے شہر اُدے پور میں سوشل میڈیا پوسٹس کے تنازع پر ایک ہندو درزی کو قتل کر دیا گیا تھا جس کے بعد حالات کشیدہ ہو گئے تھے۔

اس واقعے کے چند گھنٹے بعد واقعے میں ملوث دو افراد کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔

ہندو درزی کنہیا لال کے قتل کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد اُدے پور میں دکانیں اور مارکیٹیں بند ہوگئی تھیں اور حکومت نے انٹرنیٹ بھی بند کر دیا تھا۔

ہندوستان ٹائمز کے مطابق اُدے پور میں قتل ہونے والے ہندو درزی نے چند روز پہلے نوپور شرما کی حمایت میں سوشل میڈیا پر پوسٹ شیئر کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں