میاں نوازشریف ستمبرمیں پاکستان واپس آئیں گے:وفاقی وزیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

پاکستان کے وفاقی وزیر میاں جاوید لطیف نے پیر کو دعویٰ کیا ہے کہ حکمران مسلم لیگ (ن) کے سپریم لیڈراور سابق وزیراعظم میاں نواز شریف ستمبرمیں وطن لوٹ آئیں گے۔

جاوید لطیف نے لاہور میں سوموار کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نوازشریف کی عدم موجودگی میں پاکستانی سیاست میں ’’برابری کا میدان‘‘ناممکن ہے۔ انھوں نے کہا کہ عوام بھی نوازشریف کی واپسی کے خواہش مند ہیں۔

انھوں نے کہا کہ پی ایم ایل ن اپنے پارٹی سربراہ کو واپسی پرجیل واپس جانے کی اجازت نہیں دے گی۔ انھوں نے وضاحت کی کہ جماعت کو لگتا ہے کہ ان کے خلاف ’’ناانصافی‘‘ کی گئی ہے۔ انھوں نے الزام لگایا کہ تین مرتبہ کے سابق وزیراعظم کو سابق چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار کی ہدایات پرنااہل قراردیا گیا تھا۔

جاوید لطیف
جاوید لطیف

جاوید لطیف نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو تنقید کا نشانہ بنایا اور سوال کیا کہ کیا جنھوں نے نوازشریف کو’’ہٹایا‘‘تھا اور عمران خان کے اقتدارمیں آنے میں سہولت فراہم کی تھی ،نھوں نے ابھی تک سبق نہیں سیکھا تھا۔

انھوں نے کسی کا نام لیے بغیرالزام لگایا کہ عمران خان کو اب بھی ’’چند لوگوں‘‘کی حمایت حاصل ہےاور وہ اسلام آباد کے علاقے بنی گالہ میں واقع اپنی رہائش گاہ نہیں آتے بلکہ اس کے بجائے خیبر پختونخوا میں رہتے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیرنے کہا کہ پی ایم ایل این ان لوگوں کے ساتھ دوستی یا دشمنی نہیں چاہتی جنھوں نے ’’حکومتیں بنائیں اورحکومتیں توڑیں‘‘۔پارٹی کا واضح ہے اور وہ چاہتی ہے کہ سیاست دانوں سمیت تمام ادارے اپنی قانونی اور آئینی حدود میں رہ کر کام کریں۔

میاں نوازشریف کی ملک میں واپسی آسان بنانے کے لیے پی ایم ایل این کی حکومت متعلقہ قانون سازی پر غور کر رہی ہے۔وزیرداخلہ رانا ثناء اللہ پہلے ہی کَہ چکے ہیں کہ مخلوط حکومت کچھ ایسی ترامیم کر سکتی ہے جن سے نوازشریف کے خلاف پانامہ پیپرز کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے تحت ان پرعاید کردہ پابندی کو منسوخ کرنے میں مدد ملے گی۔

واضح رہے کہ عدالتِ عالیہ لاہور نے میاں نوازشریف کو چارہفتے کے لیے لندن جانے کی مہلت دی تھی۔ وہ نومبر2019 سے طبّی علاج کے لیے لندن میں مقیم ہیں اور ایک طرح سے خودساختہ جلاوطنی کی زندگی گزاررہے ہیں۔وہ طبی بنیادوں پرلندن روانگی سے قبل العزیزیہ بدعنوانی کیس میں لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں سات سال کی قید کاٹ رہے تھے۔

موجودہ وزیراعظم میاں شہبازشریف نے تب عدالت عالیہ میں ایک حلف نامہ پیش کیا تھا جس میں یہ کہا گیا تھا کہ ان کے بڑے بھائی ’’چار ہفتوں کے اندر یا ڈاکٹروں کی جانب سےاس تصدیق کے بعد وطن واپس آجائیں گے کہ وہ مکمل صحت یاب ہوچکے ہیں اور پاکستان واپس جانے کے قابل ہیں‘‘۔ تاہم صحت کے خدشات کے پیش نظر ان کی واپسی میں بار بار تاخیر ہوئی ہے۔

میاں نوازشریف کے پاسپورٹ کی میعاد فروری 2021 میں ختم ہوگئی تھی۔ تاہم میاں شہبازشریف کی حکومت نے رواں سال اپریل میں انھیں نیاپاسپورٹ جاری کردیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں