پاکستان پیرس کلب سے قرضوں کی تنظیمِ نوکا مطالبہ نہیں کرے گا:وزیرخزانہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

پاکستان کے وزیرخزانہ اسحاق ڈارنے کریڈٹ ریٹنگ میں کمی کے بعد مارکیٹ کا اعتماد بحال کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا ملک قرض دہندگان ممالک پرمشتمل پیرس کلب سے قرضوں کی تنظیم نو کا مطالبہ نہیں کرے گا۔

موڈیز کی جانب سے نئی درجہ بندی نے ان خدشات کو جنم دیا ہے کہ پاکستان کا اپنے غیرملکی قرضوں پردیالا نکل سکتا ہے کیونکہ ملک کو اس وقت معاشی بحران اور تجارتی عدم توازن کے بحران کا سامنا ہے۔

اسحاق ڈار نے اتوار کو اسلام آباد میں ایک نیوزکانفرنس میں کہا ہے کہ ہم نے پیرس کلب نہ جانے کا فیصلہ کیا ہے اور وزیراعظم شہباز شریف کی مشاورت سے فیصلہ کیا گیاہے کہ ری اسٹرکچرنگ کا مطالبہ قوم کے مفاد میں نہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’’ہم تمام خودمختار(قرض) وعدوں کو پورا کریں گے‘‘۔انھوں نے مارکیٹ کی ان افواہوں کو بھی مستردکردیا ہے کہ حکومت اپنے بانڈز کی میعاد میں توسیع کرسکتی ہے۔انھوں نے واضح کہا کہ پاکستان اپنی تمام کثیرالجہت اوربین الاقوامی بانڈ ذمے داریوں کو پورا کرے گا۔

اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ’’ان شاءاللہ ہم بانڈز کی بروقت ادائی کریں گے۔ہم بانڈ کی پختگی کی مدت میں توسیع نہیں کررہے ہیں‘‘۔پاکستان کا یوروبانڈ رواں سال دسمبر میں پختہ ہورہا ہے۔

موڈیز نے گذشتہ ہفتے بیرونی خطرات اوراگلے چند سال میں پاکستان کی اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مطلوبہ مالیات کے حصول کی صلاحیت کے بارے میں خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے اس کی کریڈٹ کی درجہ بندی کو بی 3 سے کم کرکے سی اے اے 1 میں نام نہاد جنک ٹیریٹری میں تبدیل کردیا تھا۔

اس سے قبل اسحاق ڈار کَہ چکے ہیں کہ پاکستان مالی سال 2022-23 کے لیے بیرونی فنانسنگ کی مد میں قریباً 35ارب ڈالر جمع کرنے کی ضرورت کو پورا کرے گا۔

وزیراعظم شہبازشریف نے گذشتہ ماہ پیرس کلب سے اپیل کی تھی کہ ملکی معیشت پہلے ہی زبوں حال ہے اور وہ بحالی کے لیے کوشاں ہیں۔اب تباہ کن سیلاب سے یہ بری طرح متاثرہوئی ہے،اس لیے پاکستان کے ذمے واجب الادا قرضے مؤخرکردیے جائیں۔ان کی حکومت کے تخمینے کے مطابق سیلاب سے قومی معیشت کو مجموعی طور پر30 ارب ڈالر تک کا نقصان ہوگا۔

اس سال پاکستان کے شمال مغربی اور جنوب مغربی علاقوں میں مون سون کی غیرمعمولی بارشوں سے آنے والے سیلاب کے نتیجے میں قریباً تین کروڑ تیس لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں اورقریباً 79 لاکھ بے گھرہوگئے ہیں۔ہزاروں ایکڑاراضی پرکھڑی فصلیں تباہ ہوگئی ہیں اورسیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بیشتر بنیادی شہری ڈھانچا تباہ ہوچکا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں