پاکستان کے تین ہوائی اڈوں پرآؤٹ سورسنگ آپریشنز کا آغاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

پاکستان نے تین بڑے ہوائی اڈوں پرآپریشنز اورزمینی اثاثوں کی آؤٹ سورسنگ کا آغازکردیا ہے۔یہ سرکاری ، نجی شراکت داری (پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ) کے ذریعے چلائے جائیں گے۔

وزارت خزانہ کے ایک بیان کے مطابق عالمی بینک کی انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن کو آؤٹ سورسنگ کے عمل کے لیے مشیرمقررکیاگیاہے اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے دائرہ کار میں تین ہوائی اڈوں کی آؤٹ سورسنگ شروع کی گئی ہے۔

وزارت کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد ہوائی اڈوں کوچلانے کے لیے مسابقتی اور شفاف عمل کے ذریعے نجی سرمایہ کاروں کو ہوائی اڈوں کے انتظام واںصرام میں شامل کرنا،مخصوص زمینی اثاثوں کو ترقی دینا اور تجارتی سرگرمیوں کے لیے مواقع کو بڑھانا اور ہوائی اڈوں کی مکمل صلاحیت کے مطابق آمدن حاصل کرناہے۔

اس شراکت داری یا کسی معاہدے کی کوئی تفصیل سرکاری طور پر ظاہر نہیں کی گئی ہے۔تاہم حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان قطر کے ساتھ اسلام آباد، کراچی اور لاہور کے ہوائی اڈوں پر مشترکہ طور پرٹرمینل چلانے کے لیے بات چیت کر رہا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے گذشتہ سال کے آخر میں دوحہ کا دورہ کیا تھا تاکہ ملک میں توانائی اورشہری ہوا بازی کے شعبوں میں قطرکی سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا سکے۔اس کے بعد قطر انویسٹمنٹ اتھارٹی نے پاکستان میں تین ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا وعدہ کیا تھا۔

اسلام آباد گذشتہ چندماہ سے دوحہ کے ساتھ اس معاہدے پر بات چیت کررہا ہے تاکہ 22 کروڑ نفوس کی آبادی والے ملک کے لیے غیرملکی سرمایہ کاری تلاش کی جاسکے۔

پاکستان کے شہری ہوابازی کے شعبے میں قومی ایئر لائن پی آئی اے کوقریباً 400 ارب پاکستانی روپے (1.41 ارب ڈالر) کے خسارے کا سامنا ہے۔

پاکستان کو اس وقت تجارتی عدم توازن کے شدید بحران کا سامنا ہے اوربینک دولت پاکستان کے پاس زرمبادلہ کے ذخائر اتنے کم رہ گئے ہیں کہ ان سے بہ مشکل چار ہفتے کی درآمدات کا احاطہ کیا جا سکتا ہے۔

حکومتِ پاکستان عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ اہم فنڈز کے حصول کے لیے گذشتہ کئی ماہ سے مذاکرات میں الجھی ہوئی ہے مگر ان کے درمیان مذاکرات کے کئی ادوار ہونے کے باوجود کوئی حتمی سمجھوتا طے نہیں پاسکا۔

مقبول خبریں اہم خبریں