سیاسی بحران پر جماعتِ اسلامی سے مذاکرات، پی ٹی آئی نے تین رکنی کمیٹی کا اعلان کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے ملک میں جاری سیاسی تناؤ کو کم کرنے کی کوشش میں وزیر اعظم شہباز شریف اور پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان سے الگ الگ ملاقاتیں کی ہیں۔

ان ملاقاتوں کے بعد چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی ہدایات پر اتوار کو ملک میں جاری سیاسی بحران کے حوالے سے جماعت اسلامی کے ساتھ مذاکرات کے لیے تین رکنی کمیٹی قائم کر دی گئی۔

پی ٹی آئی کے مرکزی میڈیا سیل کے مطابق پارٹی کے مرکزی سیکریٹری جنرل اسد عمر نے کمیٹی کی تشکیل کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔

کمیٹی میں پرویز خٹک، سینیٹر اعجاز احمد چوہدری اور میاں محمود الرشید شامل ہیں۔

جماعت اسلامی کی جانب سے مذاکراتی کمیٹی کے حوالے سے کوئی نام یا اعلان سامنے نہیں آیا، تاہم خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ پارٹی کی سینیئر قیادت ان مذاکرات میں حصہ لے گی لیکن ابھی تک کوئی باضابطہ کمیٹی نہیں بنائی گئی۔

قبل ازیں سراج الحق کی قیادت میں جماعت اسلامی کے تین رکنی وفد نے ہفتے کے روز وزیر اعظم سے ملاقات کی اور دونوں رہنماؤں نے ملکی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔

انہوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ سیاسی مسائل کو سیاسی عمل کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت ہے جبکہ ایک ہی بار میں انتخابات کا ذکر ملک کے لیے مناسب ہو گا۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے سراج الحق کی جانب سے ایک ہی دن انتخابات کروانے کی کاوشوں کو سراہا کیونکہ پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کا بھی یہ ہی موقف ہے۔

دوسری جانب وزیراعظم سے بات چیت کے بعد جماعت اسلامی کے امیر نے سابق وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کے لیے زمان پارک کا دورہ کیا۔

دونوں رہنماؤں نے سیاسی مسائل اور ممکنہ حل پر تبادلہ خیال کیا جبکہ ملک کو بحران سے نکالنے کے لیے سیاسی جماعتوں کے درمیان ہم آہنگی پر اتفاق کیا۔

اس موقع پر جماعت اسلامی کے سربراہ نے عمران خان کو بات چیت کی دعوت دیتے ہوئے کہا پاکستان کو درپیش چیلنجز کا ذکر کیا۔ انہوں نے اس رائے کا اظہار کیا کہ انتخابات کو ایک ہی بار میں اجاگر کرنا ملک کے لیے فائدہ مند ہو گا۔ انہوں نے وسیع اور متفقہ فیصلہ سازی کے لیے کمیٹی بنانے کی تجویز پیش کی۔

پی ٹی آئی کے سربراہ نے کہا کہ ان کی پارٹی آئین کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے مذاکرات اور بات چیت کے لیے تیار ہے۔

واضح رہے کہ یہ ملاقات سراج الحق کی طرف سے اٹھایا گیا ایک قدم تھا لیکن کچھ عرصہ قبل پی ٹی آئی کے اسد عمر اور دیگر رہنما منصورہ آئے تھے جہاں پر ان کی ملاقات سراج الحق، لیاقت بلوچ اور دیگر رہنماؤں سے ہوئی تھی اور ملاقاتوں کا یہ سلسلہ کچھ عرصہ سے جاری ہے۔

جماعت اسلامی کے سیکرٹری اطلاعات قیصر شریف کا کہنا تھا کہ عید الفطر کے بعد پی ٹی آئی کے ساتھ باقاعدہ مذاکرات شروع ہوں گے اور امید ہے کہ اس کا کوئی مثبت نتیجہ نکلے گا۔

یاد رہے کہ وفاق میں اتحادی حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان انتخابات کی تاریخ پر اتفاق نہیں پایا جاتا۔

اتحادی حکومت نے قبل از وقت انتخابات کے انعقاد سے انکار کیا ہے جبکہ عمران خان حکومت سے برطرفی کے بعد وقت سے پہلے انتخابات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

سیاسی بحران سنگین ہونے کے بعد 14 اپریل کو پاکستان کی سپریم کورٹ نے پنجاب اسمبلی کے انتخابات کے لیے سٹیٹ بینک اور وزارت خزانہ کو 17 اپریل تک فنڈز مہیا کرنے کا حکم دیا تھا۔ خیبر پختونخوا میں انتخابات کے انعقاد کا کیس اس وقت پشاور ہائیکورٹ میں زیر التوا ہے۔

جماعت اسلامی، بہ قول قیصر شریف، سمجھتی ہے کہ اس حوالے سے سپریم کورٹ اور پارلیمنٹ موجودہ صورت حال میں کوئی حل نہیں دے سکتے اور مذاکرات ہی تمام جماعتوں کے درمیان اتفاق رائے پیدا کر سکتے ہیں۔

حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کے لیے صرف جماعت اسلامی نے کوشش نہیں کی بلکہ گزشتہ ماہ سول سوسائٹی کی تنظیموں نے بھی دونوں پارٹیوں کے ساتھ ملاقاتیں کی تھیں اور آل پارٹیز کانفرنس بلانے کے لیے قائل کرنے کی بھی کوشش کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں