غیرقانونی تقررکیس؛ پرویزالٰہی کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر بھیج دیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

لاہورمیں ایک ضلعی عدالت نے پنجاب اسمبلی میں غیر قانونی بھرتیوں سے متعلق کیس میں اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ (اے سی ای )کی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے صدر اور سابق وزیراعلیٰ کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست مسترد کردی ہے اور انھیں 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر بھیج دیا ہے۔

پنجاب پولیس نے پرویزالٰہی کو دو دن میں دوسری بار گرفتار کیا ہے اور انھیں اتوار کو محکمہ انسداد بدعنوانی کے حکام نے سخت سکیورٹی میں عدالت میں پیش کیا۔عدالت کی جانب سے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی درخواست پر محفوظ فیصلہ سنائے جانے کے بعد حکام انھیں اپنے ساتھ لے گئے۔

محکمہ اینٹی کرپشن کے ترجمان کے مطابق غیر قانونی تقرر کے کیس میں الزام لگایا گیا ہے کہ پرویز الٰہی نے پنجاب اسمبلی میں گریڈ 17 کے 12 افسروں کو میرٹ کے برعکس بھرتی کیا تھا۔

انھوں نے گجرات اور منڈی بہاءالدین سے تعلق رکھنے والے ان امیدواروں کے نتائج تبدیل کردیے۔حکام نے اس ضمن میں شواہد اکٹھے کیے ہیں اور اس سلسلے میں سیکرٹری پنجاب اسمبلی رائے ممتاز حسین کو بھی گرفتار کیا ہے۔

اپنے مختصر تحریری حکم میں عدالت نے کہا کہ اے سی ای نے تحقیقات مکمل کرنے اور بازیابی کے لیے پرویزالٰہی کے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی درخواست کی کیونکہ ملزمان کو ایف آئی آر (فرسٹ انفارمیشن رپورٹ) میں خصوصی طور پر نامزد کیا گیا ہے۔

عدالت کو بتایا گیا کہ فرانزک تجزیے کے لیے الٰہی کا موبائل فون درکار ہے اور ان کے قبضے سے ڈیڑھ کروڑ روپے کی رقم قابل وصول ہے جو انھوں نے اسپیکر پنجاب اسمبلی کی حیثیت سے گریڈ 17 کے عہدوں پر تقرر کے لیے رشوت کے طور پر وصول کی تھی۔اس کے علاوہ ان کے قبضے سے جعلی دستاویزات بھی برآمد کرنے کی ضرورت ہے۔

عدالت نے مزید کہا کہ ریکارڈ کا مطالعہ کرنے سے پتا چلتا ہے کہ اگر پوری ایف آئی آر کو سچائی سمجھا جائے تو اس میں یہ ذکر کیا گیا ہے کہ ملزم پرویز الٰہی کی سربراہی میں محکمانہ سلیکشن کمیٹی نے 9 اگست 2021 کو تحریری امتحانات میں جعل سازی کی اور مذموم مقاصد کے لیے کامیاب امیدواروں کو فیل قراردیا اور ناکام امیدواروں کو اسمبلی سیکرٹریٹ میں گریڈ 17 میں بھرتی کیا اور سرکاری خزانے کو بھاری نقصان پہنچایا۔

لیکن حکم میں کہا گیا ہے:’’اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے کہ تمام بھرتی شدہ امیدوار آج تک اسمبلی سکریٹریٹ میں بی ایس 17 میں کام کر رہے ہیں اور ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔ موجودہ شکایت کنندہ کے علاوہ کسی بھی متاثرہ شخص نے محکمہ جاتی سلیکشن کمیٹی کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کے لیے اے سی ای سے رابطہ نہیں کیا۔

مذکورہ شکایت کنندہ کے بارے میں عدالت نے کہا:’’ تقرر کی تاریخ کے بعد دو سال گزرجانے کے باوجود اس نے ملزمان کے خلاف کسی بھی فورم پر کوئی درخواست دائر نہیں کی ہے‘‘۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ بہت سی پنجاب اسمبلی میں بہت سی خالی اسامیوں۔۔۔ سیکرٹری سے لے کر کچن اٹینڈنٹ تک ۔۔ کو مشتہرکیا گیا تھا۔ان میں زیربحث عہدہ بھی شامل تھا۔ لیکن متاثرہ شخص عثمان غنی کے علاوہ کسی بھی متاثرہ شخص نے اپنی شکایت کے لیے اے سی ای لاہور سے رابطہ نہیں کیا۔

عدالت نے مزید کہا کہ غنی کے اسکور کی تصدیق کی گئی اور پتا چلا کہ اوپن ٹیسٹنگ سروس (او ٹی ایس) کے تحت ہونے والے تحریری امتحان میں ان کا اسکور 58 تھا، جو اسمبلی سیکریٹریٹ کے پاس دستیاب نتائج میں بیان کردہ ان کے اسکور سے میل کھاتا ہے۔عدالت نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے خلاف کوئی مقدمہ نہیں ہے اور استغاثہ کی جانب سے پیش کیے گئے ریکارڈ کے مطابق انھیں انٹرویو کے لیے طلب نہیں کیا گیا۔

ضابطہ فوجداری کی دفعہ 161 کے تحت جن دیگر متاثرین کے بیانات قلم بند کیے گئے تھے، ان کے بارے میں استغاثہ نے او ٹی ایس میں موصول ہونے والے ان کے نمبروں کا ذکر نہیں کیا ہے اور وہ بھی پنجاب اسمبلی سیکریٹریٹ کے ریکارڈ میں دستیاب نہیں ہیں۔ استغاثہ نے کہیں بھی اس بات کا ذکر کرنے کی زحمت نہیں کی کہ وہ مذکورہ فراڈ سے کس طرح متاثر ہیں۔عدالت نے کہا، 'اس کا مطلب ہے کہ اس معاملے میں کوئی متاثرہ شخص نہیں ہے۔

اس کے علاوہ عدالت نے کہا کہ اے سی ای کے دائرہ اختیار کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے لیکن اس عدالت کے سامنے کوئی حکم پیش نہیں کیا گیا۔

جج نے کہا:’’قریباً سیکڑوں ملازمتوں کا اشتہار دیا گیا اور ان پر لوگوں کو بھرتی کیا گیا، اور اے سی ای نے رپورٹ کیا ہے کہ صرف 12 افراد کے نتائج کے ساتھ موجودہ ملزم افراد نے دیگر افراد کی ملی بھگت سے مبینہ طور پر چھیڑ چھاڑ کی لیکن ریکارڈ پر ایسا کچھ بھی دستیاب نہیں ہے۔

عدالت نے کہا کہ جسمانی ریمانڈ کی درخواست درست نہیں ہے اور حکم دیا کہ ملزمان کو رپورٹ کے ساتھ 18 جون کو عدالت میں پیش کیا جائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں