پاکستان کی سرحدی علاقے کے قریب ایرانی پولیس اہلکاروں پر حملے کی مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

پاکستان کے ایک اعلی سرکاری اہلکار نے اتوار کو ایران اور پاکستان کی سرحد کے قریب ایک حملے کی مذمت کی جس میں چار ایرانی ہائی وے پٹرولنگ پولیس افسران کی جانیں گئیں، اور کہا کہ پاکستان اپنی سرحد کو عسکریت پسندوں کے خلاف محفوظ بنانے کے لیے تمام اقدامات کر رہا ہے۔

ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی ایرنا نے تصدیق کی کہ اتوار کو سیستان و بلوچستان کے علاقے خاش تفتان روڈ پر ایک "دہشت گردانہ حملے" میں چار پولیس افسران کی موت ہو گئی۔ تین پولیس اہلکار موقع پر ہی ہلاک ہو گئے جبکہ چوتھا شدید زخمی تھا جو بعد میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔ کسی گروپ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

غربت زدہ ایرانی صوبہ سیستان-بلوچستان، جس کی سرحدیں افغانستان سے بھی ملتی ہیں، منشیات کی سمگلروں کے ساتھ ساتھ بلوچ اقلیت اور سنی مسلم گروپوں کے باغیوں کے ساتھ جھڑپوں کا ایک اہم مقام ہے۔ مئی میں اسی علاقے میں ایک مسلح گروپ کے ساتھ اسی طرح کی لڑائی میں چھ ایرانی سرحدی محافظ مارے گئے تھے۔ عسکریت پسند اکثر خطے میں پاکستانی اور ایرانی سرحدی محافظوں کو بھی نشانہ بناتے ہیں۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان کے ترجمان بابر یوسفزئی نے عرب نیوز کو بتایا کہ 'پاکستان اور بلوچستان میں حکام سرحدی سیکیورٹی کے حوالے سے بہت سخت ہیں، ہمارا واضح موقف ہے کہ پاک ایران سرحد کے ذریعے تجارت ہونی چاہیے اور لوگ سرحد کے ذریعے سفر کر سکتے ہیں لیکن ہم سرحد کے دونوں جانب دہشت گردی کی سختی سے مخالفت کرتے ہیں'۔

اس ماہ کے شروع میں اپنے حالیہ دورہ ایران کے دوران، پاکستان کے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے دونوں ممالک کے درمیان انٹیلی جنس شیئرنگ اور موثر کارروائیوں کے ذریعے سرحدی علاقوں میں عسکریت پسندی کے خاتمے پر تبادلہ خیال کیا۔
ترجمان بابر یوسفزئی نے کہا کہ پاکستان پہلے ہی ایران کے ساتھ اپنی سرحد پر باڑ لگا چکا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ "ہم کسی کو سرحدی علاقوں سے گزرنے نہیں دیتے۔"

"ہماری سیکورٹی فورسز وہاں تعینات ہیں جو 24 گھنٹے ہر حرکت پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ہم اپنی سرحد کو محفوظ بنانے کے لیے تمام تر کوششیں بروئے کار لا رہے ہیں۔‘‘

پاکستان کے سرحدی محافظ بھی دونوں ممالک کے درمیان سرحدی علاقے کے قریب عسکریت پسندوں کے حملوں کا شکار ہو چکے ہیں۔ اپریل میں، پاکستان نے کہا کہ ایران سے سرگرم "دہشت گردوں" نے ایران کے ساتھ سرحد کے ساتھ ضلع کیچ میں چار پاکستانی سرحدی فوجیوں کو ہلاک کر دیا۔

بلوچستان میں چند چھوٹے علیحدگی پسند گروپوں نے پاکستانی حکومت کے خلاف دو دہائیوں سے زائد عرصے سے ایک نچلی سطح کی شورش برپا کر رکھی ہے،جو معدنیات سے مالا مال صوبے کے وسائل میں بڑے حصے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں