دس دن کی تاخیر کے بعد پنجاب میں 'باربی' کو صوبے بھر میں ریلیز کی اجازت مل گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں فلم سنسر بورڈ نے گذشتہ روز ہالی ووڈ فلم 'باربی' کو ملک کے سب سے زیادہ آبادی والے صوبے کے سینما گھروں میں نمائش کے لیے منظوری دے دی۔ "قابل اعتراض مواد" کی وجہ سے اس فلم کو 10 دن کی تاخیر سے ریلیز کی اجازت ملی ہے۔

پاکستان میں تمام فلموں کو صوبائی بورڈز کے ذریعے کلیئر کرنے کی ضرورت ہوتی ہے جو ملک کی معاشرتی اور ثقافتی اقدار سے متصادم کسی بھی چیز کو حذف کر دیتے ہیں۔ تخیلاتی، مزاحیہ فلم، جس میں مارگٹ روبی مشہور باربی گڑیا اور ریان گوسلنگ اس کے بوائے فرینڈ کین کا کردار ادا کر رہے ہیں، کی نمائش پاکستان کے صوبہ سندھ اور دارالحکومت اسلام آباد میں جاری ہے۔

سیکرٹری انفارمیشن اینڈ کلچر ڈیپارٹمنٹ (آئی سی ڈی) علی نواز ملک نے 21 جولائی کو "قابل اعتراض مواد" پر مشتمل ہونے کی بنا پر باربی کا دوبارہ جائزہ لیا تھا۔ پنجاب کا سنسر بورڈ آئی سی ڈی کے تحت کام کرتا ہے۔ پنجاب کے عبوری وزیر اعلیٰ محسن نقوی نے پنجاب فلم سنسر بورڈ (پی ایف سی بی) کے صوبائی سیکرٹریز کو ہدایت کی تھی کہ وہ باربی کا ایک اور جائزہ لیں۔ اس فلم کو ابتدائی طور پر ہر عمر کے لیے موزوں سمجھتے ہوئے یونیورسل ریٹنگ کے ساتھ نمائش کے لیے کلیئر کر دیا گیا تھا۔

کل منگل کو پی ایف سی بی کی جائزہ میٹنگ کے بعد فلم کو ریلیز کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ حکومت پنجاب کی جانب سے ایک ٹویٹر پوسٹ میں کہا گیا کہ "فلم سنسر بورڈ کے اجلاس کے دوران فلم باربی کو پنجاب میں نمائش کی اجازت دی گئی ہے۔"

معاصر عزیز 'عرب نیوز' نے سنسر شپ کے عمل کی معلومات کے حامل افراد سے بات کی جنہوں نے آئی سی ڈی پر ان گروپوں کے مسلسل دباؤ کے بارے میں بتایا جو پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں باربی فلم کی نمائش نہیں چاہتے تھے۔

پنجاب میں یہ کوئی نئی بات نہیں۔ 2023 کے لیے پاکستان کی آسکر انٹری 'جوائے لینڈ' کو نومبر 2022 میں ملک میں ریلیز کرنے سے روک دیا گیا۔ فلم کی کہانی ایک شادی شدہ مرد کے ایک ٹرانس جینڈر کے ساتھ معاشقے پر مبنی تھی۔ وفاق اور سندھ کے سنسر بورڈز نے پابندی کو ختم کر دیا لیکن پنجاب نے کبھی ایسا نہیں کیا۔

پی ایف سی بی (پاکستان فلم سنسر بورڈ) کے قیام [10 سال قبل] سے لے کر اب تک کام کرنے والے محمد حسیب نے عرب نیوز کو بتایا کہ"بعض فریق ہر روز محکمہ اطلاعات اور ثقافت تک پہنچ جاتے اور ان کی بہت سی شکایات آتی تھیں، جو اسکریننگ شروع ہونے کے وقت ہی زور پکڑتی تھیں۔"

انہوں نے مزید کہا کہ "پاکستان میں فلموں کو سنسر سرٹیفکیٹ دینے میں جو الجھن درپیش ہے، وہ پاکستان کے آئین کی 18ویں ترمیم کی حادثاتی ضمنی پیداوار ہے۔ یہ ترمیم پاکستان کے صوبوں کو ازخود حکومت، قانون سازی اور مالی معاملات میں خودمختاری دیتی ہے۔"

حسیب نے کہا کہ "ترمیم کے بعد سنسر شپ صوبائی ثقافتی محکموں کو منتقل کر دی گئی۔ اب تین سرٹیفیکیشن بورڈ مختلف فیصلے کر رہے ہیں۔ یہ زیادہ وقت طلب ہے اور ضروری نہیں کہ سرٹیفیکیشن ایک جیسے ہوں۔ پنجاب میں اگر ایک فلم بالغوں کے لیے موزوں قرار دی گئی ہے تو ہوسکتا ہے کہ سندھ میں اسے پی جی-15 کا درجہ مل جائے۔"

حسیب نے کہا کہ پی ایف سی بی کے پاس مستقل عملے کے مزید ارکان کو رکھنے کے لیے اتنے فنڈز نہیں ہیں۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ "ہم اب بھی ایک غیر مستقل رکن پینل پر انحصار کرتے ہیں جو ہر دو سال بعد تبدیل ہوتا ہے۔ بالآخر یہ فیصلہ سازی کے کئی اختیارات ہم سے لے لیتا ہے۔"

فلموں کے جائزہ پینل کے کئی غیر مستقل اراکین اپنے کردار کو خالصتاً رسمی، اور "بالکل بیکار" محسوس کرتے ہیں۔ عرب نیوز نے ایسے کئی افراد سے رابطہ کیا لیکن کوئی بھی اس خوف سے باضابطہ بیان دینے کو تیار نہیں تھا کہ ان کے محض اداکاری کے کردار والے کیریئر کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

ایک اداکار نے، جو پینل کے رکن بھی ہیں، نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر عرب نیوز کو بتایا۔ "لیکن مسئلہ بنیادی طور پر سیاست کا ہے۔"

فلم کے دوبارہ جائزے کا فیصلہ بھی پوری طرح کارگر نہیں تھا۔ لاہور کنٹونمنٹ کا علاقہ وفاقی قانون کے ماتحت ہے اور صوبائی سنسر شپ کے قوانین کے تابع نہیں ہے۔ کنٹونمنٹ کے فورٹریس مال سنیما نے صوبے کے باقی حصوں میں پابندی کے باوجود فلم کی نمائش جاری رکھی حالانکہ وہ شہر کے باقی حصوں سے صرف ایک پل کے فاصلے پر واقع ہے۔

سنسر بورڈ کے ایک اور رکن نے کہا، ’’یہ سب ایک گڑبڑ ہے۔"

پاکستان کے مشہور اداکار، ہدایت کار اور پروڈیوسر سرمد کھوسٹ کے لیے یہ "گڑبڑ" کوئی اجنبی چیز نہیں۔ انہوں نے فلم 'زندگی تماشا' کی ہدایات دیں اور 'جوائے لینڈ' پروڈیوس کی۔ دونوں فلمیں سنسر بورڈ کے ساتھ مسائل اور نامنظوری کا شکار ہو گئیں۔

کھوسٹ نے عرب نیوز کو بتایا۔ "یہ عجیب بات ہے کہ ہمارے پاس بہت سارے سنسر بورڈ ہیں۔ ہم فلمیں اتنی نہیں بناتے جتنے ہمارے ہاں سنسر بورڈز ہیں جبکہ بھارت، امریکہ جیسے ممالک کے پاس صرف ایک مرکزی اتھارٹی ہے۔"

پنجاب میں فلموں کی نمائش کے لیے 70 سے زیادہ سینما گھر ہیں جو کسی بھی صوبے میں سب سے زیادہ ہیں۔ جب پنجاب میں کسی فلم پر پابندی لگتی ہے تو ڈسٹری بیوٹرز اور پروڈیوسرز کو اچھے خاصے مالی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سرٹیفیکیشن کی درخواست دینا بھی مفت نہیں ہے، آپ کو پیسے ادا کرنے ہوں گے جو مقامی فلم کے لیے 30,000 ($104) اور ایک بین الاقوامی فلم کے لیے 100,000 روپے ($348) ہیں۔

انہوں نے کہا کہ "یہ عمل تخلیقی صلاحیت اور فنکاری کو ختم کر رہا ہے۔ سنسر بورڈز کا مقصد ریگولیٹ کرنا ہوتا ہے، نہ کہ پٹڑی سے اتارنا۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں