عسکریت پسندوں کو ہتھیار ڈالنے تک نشانہ بنائیں گے: آرمی چیف

آئی ایس پی آر کے مطابق جنرل عاصم منیر نے عزم ظاہر کیا کہ ملک کو غیر مستحکم کرنے والے عسکریت پسندوں کو ہتھیار ڈالنے تک نشانہ بنایا جائے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے بدھ کو بتایا کہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ملک کو غیر مستحکم کرنے والے عسکریت پسندوں کو ہتھیار ڈالنے تک نشانہ بنایا جائے گا۔

آرمی چیف کا یہ بیان ایک ایسے وقت پر سامنے آیا جب منگل کو افغانستان کی سرحد سے متصل ضلع جنوبی وزیرستان میں شدید فائرنگ سے چھ فوجی اور چار عسکریت پسند جان سے گئے تھے۔ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے آج جنوبی وزیرستان میں اسمان منزہ کے قریب شیرونگی کے علاقے کا دورہ کیا جہاں ایک روز قبل فائرنگ کا تبادلہ ہوا تھا۔

آرمی چیف کو اس موقعے پر موجودہ سکیورٹی صورت حال، جاری انٹیلی جنس اور انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے اس بات پر زور دیا کہ ’پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے دشمن ایجنڈے پر کام کرنے والے دہشت گردوں، ان سے وابستہ افراد اور تخریب کاروں کو اس وقت تک نشانہ بنایا جائے گا جب تک کہ وہ ریاست پاکستان کے سامنے ہتھیار نہیں ڈال دیتے۔‘

آئی ایس پی آر کا مزید کہنا تھا کہ جنرل عاصم منیر نے علاقے میں تعینات افسران اور جوانوں سے بات چیت کی اور عسکریت پسندی کے خلاف جنگ میں ان کے غیر متزلزل عزم کو سراہا۔

اگست 2021 میں افغان طالبان کے کابل پر قبضہ کرنے اور نومبر 2022 میں پاکستانی ریاست اور ٹی ٹی پی کے درمیان جنگ بندی کے ٹوٹنے کے بعد سے پاکستان نے اپنے مغربی علاقوں، خاص طور پر خیبر پختونخوا میں حملوں میں اضافہ دیکھا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں