سعودی عرب نے پاکستانی عمرہ زائرین کے لیے ویزے کی مدت 90 دن کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سعودی وزیر برائے حج وعمرہ، ڈاکٹر توفیق بن فوزان الربیعہ نے کہا ہے کہ مملکت نے پاکستانی زائرین کے لیے عمرہ ویزا کی مدت 30 سے بڑھا کر 90 دن کر دی ہے جو دیگر تاریخی مقامات کی سیر کا موقع حاصل کر سکتے ہیں۔

پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے سعودی وزیر کراچی میں سعودی ٹریول ایپ نسک کو پاکستان میں متعارف کرانے کی تقریبمیں صحافیوں سے گفتگو کر رہے تھے۔

’’نسک‘‘ مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور اس سے آگے کے لیے حج یا عمرہ کے سفر کے لیے باضابطہ منصوبہ بندی، اور بکنگ کا پلیٹ فارم ہے۔

اس سے پوری دنیا کے مسافر پرواز اور ہوٹل کی بکنگ کے ساتھ ساتھ ای ویزا کے آسان عمل کے ذریعے سعودی عرب کے دورے کو آسانی سے منظم کر سکتے ہیں۔

وزیر حج وعمرہ نے کہا کہ مملکت نے وافر سہولیات فراہم کرنے کی کوشش کی ہے۔ مثال کے طور پر عمرہ ویزہ 30 دن سے 90 دن کا ہو گیا اور اب ویزوں کا اجراء بہت آسان ہوتا جا رہا ہے اور اسے 24 گھنٹے سے بھی کم وقت میں جاری کیا جا سکتا ہے۔

سعودی وزیر حج اتوار کو ایک سرکاری وفد کے ہمراہ چار روزہ دورے پر پاکستان پہنچے تھے تاکہ پاکستانی زائرین کے لیے حج اور عمرہ کی سہولیات اور دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔

سعودی حکومت کی طرف سے کی جانے والی اصلاحات پر بات کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ مملکت نے خواتین زائرین کے لیے محرم کی شرط کو بھی نرم کر دیا ہے، جس سے انہیں مرد سرپرست کے بغیر حج اور عمرہ کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ٹرانزٹ ویزا رکھنے والے مملکت میں اپنے مختصر قیام کے دوران عمرہ کرنے کے لیے چار دن کی مفت ونڈو سے بھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

انہوں نےکہا کہ "ہم نے ٹرانزٹ ویزا شروع کیا ہے، جو کہ مملکت کے راستے سفر کرنے، مملکت میں چار دن قیام کرنے کی اجازت دیتا ہے اور سعودی ایئر لائن ایک رات مفت فراہم کرتی ہے۔"

انہوں نے پیر کو پاکستان اور سعودی عرب کے ایوی ایشن سیکٹرز کے درمیان طے پانے والے ایک معاہدے کا بھی ذکر کیا جس میں دونوں ممالک کے درمیان پروازوں کی تعداد میں اضافہ کیا گیا تھا۔

وزیر نے کہا کہ ایک سعودی بجٹ ایئر کیریئر، فلائی آڈیل جلد ہی دونوں ممالک کے درمیان اپنے فلائٹ آپریشن شروع کرے گا تاکہ سفر میں اضافہ ہو لیکن اس کی لاگت کو کم کیا جا سکے۔

انہوں نے بتایا کہ "ہم نے "فلائی آڈیل" نامی ایئر لائنز کو پاکستان سے ایک کیریئر کمپنی کے طور پر منظوری دے دی ہے اور یہ (معاہدہ) کل طے پا گیا ہے،" انہوں نے بتایا کہ "اس کے نتیجے میں، پروازوں کی تعداد بڑھے گی اور کم قیمت کے ساتھ تعاون کرنے کے مواقع بڑھیں گے۔"

وزیر نے کہا کہ مملکت نے سیاحتی مقامات کو وسعت دی ہے اور مکہ اور مدینہ میں ہوٹلوں کی گنجائش میں اضافہ کیا ہے تاکہ حجاج کی بڑھتی ہوئی تعداد کو ایڈجسٹ کیا جا سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ "رہائش کی گنجائش بڑھا دی گئی ہے، دونوں حرمین شریفین کو توسیع دی گئی ہے، ہوائی اڈوں کو بھی توسیع دی گئی ہے،"

سعودی وزیر نے کہا کہ حکومت نے سیاحت کو فروغ دینے کے لیے 100 سے زائد تاریخی، آثار قدیمہ اور مذہبی مقامات کو کھول دیا ہے۔

"مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں بہت سے تاریخی مقامات ہیں جیسے غار حرا، کوہ ثور، احد کا علاقہ اور دیگر انتہائی اہم مقامات جنہیں ہر کوئی دیکھنا پسند کرتا ہے۔"

قبل ازیں ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سعودی وزیر نے کہا کہ ہر سال تقریباً 16 لاکھ پاکستانی سعودی عرب جاتے ہیں۔

سعودی ٹورازم اتھارٹی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر فہد حمیدالدین نے بھی امید ظاہر کی کہ نسک پلیٹ فارم جو اردو میں بھی دستیاب ہے کے اجراء سے پاکستان سے مملکت میں آنے والوں کی تعداد تقریباً 20 لاکھ ہو جائے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں